Saturday, 14 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Atiq Chaudhary
  4. Qaumi Muashi Imtihan

Qaumi Muashi Imtihan

قومی معاشی امتحان

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے سنگین اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے جہاں توانائی کا بحران محض ایک تکنیکی یا انتظامی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک قومی معاشی امتحان کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے سائے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال نے پاکستانی معیشت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے ہفتے میں تین تعطیلات اور کام کے اوقات میں کمی جیسے اقدامات بظاہر بجلی بچانے کی ایک کوشش نظر آتے ہیں، مگر معاشی ماہرین اسے ایک ایسے کینسر کا عارضی علاج قرار دے رہے ہیں جس کی جڑیں بہت گہری ہو چکی ہیں۔ جب تک بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات نہیں کی جاتیں ایسے ہنگامی اقدامات محض وقت گزاری ثابت ہوں گے۔

عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اچانک اور تاریخی اضافے نے پاکستان کو ایک ایسی دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ کٹھن دکھائی دیتا ہے۔ پٹرول کی قیمت ایک دن تو اچانک 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی جو تادم تحریر 91 ڈالر فی بیرل ہے۔ چیز سیکیورٹیز کی حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر زیادہ عرصہ برقرار رہتی ہیں تو آنے والے مہینوں میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9 سے 11 فیصد تک مزید بڑھ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، برینٹ کروڈ کی قیمت جو 2026 کے آغاز میں تقریباً 68.70 ڈالر فی بیرل تھی اس میں محض چند ہفتوں میں 35 فیصد کا ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کا براہِ راست اثر مقامی صارفین پر منتقل کیا جا رہا ہے جس سے غریب طبقے کی قوتِ خرید جواب دے گئی ہے۔ پاکستان کی معیشت کا سب سے کمزور پہلو اس کا توانائی کی درآمدات پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کا سالانہ تیل اور گیس کا درآمدی بل تقریباً 17 سے 18 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہتا ہے جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر ایک ناقابلِ برداشت بوجھ ہے۔

جب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ ہوتا ہے، تو اس کا اثر ٹرانسپورٹ اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں 15 سے 20 فیصد تک اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔ کنزیومر پرائس انڈیکس کی ٹوکری میں ایندھن اور ٹرانسپورٹ کا وزن تقریباً 6 فیصد ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں محض 20 فیصد اضافہ مجموعی مہنگائی کو 1.2 فیصد تک فوری طور پر بڑھا دیتا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر اس 40 فیصد آبادی پر پڑتا ہے جو پہلے ہی خطِ غربت کی لکیر پر کھڑی ہے۔ رواں ہفتے میں 55 روپے فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں اضافے سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آیا ہے جو عام آدمی کی برداشت سے باہر ہے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات نے حکومت کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے ہیں۔ آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام کے تحت اسٹاف لیول معاہدے کے لیے ورچوئل مذاکرات جاری ہیں۔ فریم ورک کے تحت ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف جون 2026 تک 134.5 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایف بی آر جی ڈی پی کے 11 فیصد کے برابر ٹیکس جمع کرنے کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔

عالمی ادارے نے واضح کر دیا ہے کہ جون تک زرمبادلہ کے ذخائر کو 18 ارب ڈالر تک لایا جائے جبکہ فی الوقت اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 16.3 ارب ڈالر ہیں۔ اس کے علاوہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف اور سپر ٹیکس کا خاتمہ بھی آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ بحرانی صورتحال میں شفافیت کا سوال بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کو خفیہ رکھنے کی قانونی ترمیم پر سخت اعتراض اٹھایا ہے اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، تاہم قومی اسمبلی میں الیکشن ایکٹ 2017 میں ترامیم کے ذریعے اثاثوں کے افشا کو محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ عالمی مالیاتی ادارے نے لاء ڈویژن سے اس معاملے پر واضح موقف مانگا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی برادری پاکستان میں معاشی اصلاحات کے ساتھ ساتھ سیاسی اور انتظامی شفافیت کو بھی کڑی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ اس بحران کا ایک تکلیف دہ پہلو وہ تضاد ہے جو حکمران طبقے اور عام عوام کے درمیان پایا جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف عام شہری سے قربانی کا تقاضا کیا جاتا ہے، وہیں سرکاری دفاتر اور اشرافیہ کے پروٹوکول میں ایندھن کا بے دریغ استعمال جاری ہے۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق، موجودہ حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا دراصل آئل کمپنیوں کو اضافی منافع دینے کے مترادف ہےکیونکہ کمپنیوں کے پاس موجود اسٹاک کم قیمت پر خریدا گیا تھا۔ یہ صورتحال ویسی ہی ہے جیسے ماضی میں شوگر ملوں کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دے کر مالکان کو فائدہ اور عوام کو نقصان پہنچایا گیا۔ اگر صرف سرکاری سطح پر بجلی اور پٹرول کے استعمال میں 20 فیصد کفایت شعاری برتی جائے، تو قومی خزانے کو اربوں روپے کا فوری فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے پاس شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی توانائی کی ضرورت کا صرف 30 فیصد حصہ بھی متبادل ذرائع پر منتقل کر لے، تو درآمدی بل میں سالانہ 4 سے 5 ارب ڈالر کی بچت ممکن ہے۔ مگر پاکستان میں سولر پالیسی پر بھی حکومت کنفیوژ ہے گذشتہ ماہ خبریں آرہی تھی کہ گرین میٹر پالیسی بھی تبدیل کررہی ہے جس کی وجہ سے گھریلو سولر صارفین پریشان ہیں۔ چین اور یورپی ممالک نے گزشتہ دو دہائیوں میں اپنے انرجی مکس کو تبدیل کرکے معاشی استحکام حاصل کیا جبکہ ہم آج بھی فرسودہ فرنس آئل اور درآمدی گیس کے محتاج ہیں۔

سعودی کمپنی آرامکو کی وارننگ کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی تیل منڈیوں کے لیے "تباہ کن نتائج" ہوں گے، پاکستان کے لیے ایک بڑا انتباہ ہے کہ وہ متبادل ذرائع کی طرف فوری پیش قدمی کرے۔ موجودہ بحران کا حل صرف بجلی بچانے کے عارضی اقدامات میں نہیں بلکہ ایک جامع "میثاقِ معیشت" میں پنہاں ہے۔ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جاری سیاسی رسہ کشی نے معاشی فیصلوں کو ہمیشہ سیاسی مفادات کی نذر کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے اگرچہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو 10.50 فیصد پر برقرار رکھا ہے مگر فروری 2026 میں بنیادی انفلیشن کا 7.6 فیصد تک پہنچ جانا خطرے کی علامت ہے۔

معاشی شرح نمو کا تخمینہ بھی 4.2 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 4 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ ان حالات میں جب تک توانائی کی طویل المدتی پالیسی نہیں بنے گی اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن نہیں ہوگا، تب تک عام آدمی کو ریلیف ملنا ایک خواب ہی رہے گا۔ توانائی کا موجودہ بحران ایک انتباہ ہے کہ اگر ہم نے اب بھی اپنے وسائل کا درست استعمال نہ کیا اور متبادل ذرائع کی طرف سنجیدگی سے قدم نہ بڑھایا، تو آنے والے وقت میں معاشی دیوالیہ پن کے خطرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

Check Also

Qalam Se Inqilab

By Nouman Ali Bhatti