Monday, 01 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Hussain Rather
  4. Dikhawe Ke Aghaz Par Ikhlas Ka Ikhtitam Hota Hai

Dikhawe Ke Aghaz Par Ikhlas Ka Ikhtitam Hota Hai

دِکھاوے کے آغاز پر اِخلاص کا اختتام ہوتا ہے

اِنسانی اعمال کی اصل روح اِخلاص ہے۔ عبادت ہو، صدقہ ہو، خدمتِ خلق ہو یا کوئی اور نیک عمل، سب کی قبولیت کا دارومدار نیت کی پاکیزگی پر ہوتا ہے۔ جب عمل میں دکھاوے، شہرت اور لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کی خواہش شامل ہو جائے تو اس عمل کی روح متاثر ہو جاتی ہے۔ آج کل ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں نیکی سے زیادہ نیکی کی تشہیر اہم سمجھی جانے لگی ہے۔ عبادت سے زیادہ اس کی نمائش پر توجہ دی جاتی ہے اور خدمتِ خلق سے زیادہ اس کے چرچے کی خواہش دلوں میں گھر کر گئی ہے۔ اس کے برعکس اسلام نے ہر عمل کی بنیاد نیت کو قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی (بخاری و مسلم)۔ یہ فرمان واضح کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی عمل کی قبولیت اس کے ظاہری حجم پر نہیں بلکہ اس کے پس پردہ نیت پر منحصر ہے۔ اگر نیت اللہ کی رضا ہو تو معمولی عمل بھی عظیم بن جاتا ہے اور اگر مقصد لوگوں کی تعریف حاصل کرنا ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے وقعت ہو جاتا ہے۔

آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ انسان کی زندگی کا شاید ہی کوئی پہلو ایسا ہو جو موبائل فون کے کیمرے سے محفوظ نہ کیا جا رہا ہو۔ کھانے سے لے کر عبادت تک، سفر سے لے کر خیرات تک، ہر چیز کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک رجحان پیدا ہو چکا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس رجحان نے عبادات اور نیکیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسلام نے اخلاص کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور انہیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ خالص اللہ کی عبادت کریں"۔ (البینہ: 5)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عبادت کا اصل مقصد صرف اللہ کی رضا کا حصول ہے نہ کہ لوگوں کی تعریف یا تحسین۔ بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں دکھاوے کا رجحان زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں سرایت کر چکا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ حج جیسی عظیم عبادت بھی اس بیماری سے محفوظ نہیں رہی۔ حج دراصل اپنے رب کے سامنے عاجزی، انکساری اور روحانی تربیت کا سفر ہے۔ لیکن بہت سے لوگ اس مقدس سفر میں عبادت سے زیادہ فوٹوگرافی اور ویڈیو گرافی میں مصروف نظر آتے ہیں۔ طواف کے دوران سیلفیاں لی جا رہی ہیں، صفا و مروہ کی سعی کرتے ہوئے ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں، عرفات میں دعا کے لمحات کو کیمرے میں محفوظ کیا جا رہا ہے۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عبادت کم اور سوشل میڈیا کے لیے مواد تیار کرنے کا عمل زیادہ ہو رہا ہے۔ یقیناً یادگار تصاویر لینا بذاتِ خود کوئی گناہ نہیں لیکن جب توجہ عبادت سے ہٹ کر لوگوں کو دکھانے پر مرکوز ہو جائے تو اِخلاص خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

اسی طرح عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی، جو حضرت ابراہیمؑ کی سنت اور اللہ کی اطاعت کا عظیم مظہر ہے، اسے بھی نمائش کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ قربانی کے جانور کی خریداری سے لے کر ذبح کرنے تک ہر مرحلے کی ویڈیو بنائی جاتی ہے۔ جانور کے ساتھ تصاویر، قربانی کے مناظر اور گوشت کی تقسیم کے لمحات سوشل میڈیا پر آپ لوڈ کیے جاتے ہیں۔ بعض لوگ تو گویا قربانی سے زیادہ اس بات کے خواہش مند ہوتے ہیں کہ ان کی پوسٹ پر کتنے لائکس اور تبصرے آتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون بلکہ ہمارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے (الحج: 37)۔ اس سے صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ قربانی کی اصل قدر اس کے ظاہری مظاہر میں نہیں بلکہ دل کے تقویٰ اور اِخلاص میں ہے۔

سماج میں اس کی اور بھی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ صدقہ و خیرات کے میدان میں بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ اسلام نے تو یہاں تک تعلیم دی کہ دائیں ہاتھ سے دیا جائے تو بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو۔ لیکن آج کل بعض لوگ غریبوں میں راشن تقسیم کرنے سے پہلے کیمرہ آن کرتے ہیں پھر ضرورت مند کے ہاتھ میں سامان دیتے ہیں۔ بعض اوقات مستحق افراد کی عزتِ نفس مجروح ہو جاتی ہے لیکن ویڈیو ضرور بنائی جاتی ہے۔ کچھ لوگ یتیموں کی مدد کرتے ہیں مگر مدد سے زیادہ ان کی توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ ان کی فلاحی سرگرمیوں کی تشہیر کتنی ہو رہی ہے۔ حالانکہ اصل مقصد اللہ کی رضا ہونا چاہیے نہ کہ عوامی تعریف۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی یہ رجحان نمایاں نظر آتا ہے۔ افطار دسترخوان سجائے جاتے ہیں مگر بعض مواقع پر ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے میں زیادہ دلچسپی دکھائی جاتی ہے۔ تراویح کی ادائیگی کے دوران بھی موبائل فون مسلسل حرکت میں رہتے ہیں۔ عبادت کے وہ لمحات جو انسان کو اللہ کے قریب لے جا سکتے ہیں اکثر سوشل میڈیا کی مصروفیات میں گم ہو جاتے ہیں۔

دِکھاوے کی یہ بیماری صرف مذہبی اعمال تک محدود نہیں رہی بلکہ ہماری روزمرہ زندگی میں بھی سرایت کر چکی ہے۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں بھی یہی کیفیت نظر آتی ہے۔ خوشی منانا فطری امر ہے، لیکن آج کل تقریبات کا مقصد خوشی سے زیادہ دوسروں کو متاثر کرنا بنتا جا رہا ہے۔ لباس، سجاوٹ، کھانے اور دیگر انتظامات کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے جیسے اصل تقریب مہمانوں کے لیے نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ناظرین کے لیے منعقد کی گئی ہو۔ لوگ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرتے ہیں تاکہ معاشرے میں رعب قائم ہو۔ قرض لے کر بھی ایسی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں جن کا مقصد خوشی منانے سے زیادہ دوسروں کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔

اس رویے نے نہ صرف معاشی مسائل پیدا کیے ہیں بلکہ معاشرے میں حسد اور مقابلہ بازی کو بھی جنم دیا ہے۔ طلبہ اپنی ہر کامیابی کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ گویا تعریف حاصل کرنا اصل مقصد ہو۔ بعض لوگ کتاب پڑھنے سے زیادہ کتاب کے ساتھ تصویر لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ورزش کرنے والے اپنی صحت سے زیادہ اپنی تصویروں کی نمائش پر توجہ دیتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی ڈگریوں، اعزازات اور کامیابیوں کی اس انداز میں نمائش کرتے ہیں کہ گویا ان کا خالص مقصد دوسروں کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ یوں آہستہ آہستہ دِکھاوا ہماری زندگی کے مختلف شعبوں میں سرایت کرتا جا رہا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔ آج ہر نیکی، ہر کامیابی اور ہر خدمت کو فوری طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی خواہش بڑھتی جا رہی ہے۔

اسلام نے ریاکاری یعنی دِکھاوے کو انتہائی خطرناک روحانی بیماری قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ جس چیز کا خوف ہے وہ شرکِ اصغر ہے"۔ صحابہؓ نے پوچھا: "شرکِ اصغر کیا ہے؟" آپ ﷺ نے فرمایا: "ریاکاری" (مسند احمد)۔ یہ حدیث اس بات کی شدت کو ظاہر کرتی ہے کہ اگر نیکی کا مقصد اللہ کی رضا کے بجائے لوگوں کی تعریف بن جائے تو انسان کے اعمال اپنی حقیقی قدر کھو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اعمال کا محاسبہ کریں۔ ہر نیکی سے پہلے خود سے پوچھیں کہ میں یہ کام کس کے لیے کر رہا ہوں؟ اگر جواب اللہ کی رضا ہو تو عمل میں برکت اور سکون پیدا ہوگا اور ساتھ ہی معاشرہ بھی خلوص، سادگی اور حقیقی انسانیت کی طرف لوٹ آئے گا۔ اگر جواب لوگوں کی تعریف ہو تو ہمیں اپنی نیت کی اصلاح کی ضرورت ہے۔

اِخلاص وہ دولت ہے جو چھوٹے سے عمل کو بھی عظیم بنا دیتی ہے جبکہ دِکھاوا بڑے سے بڑے عمل کو بھی بے وزن کر سکتا ہے۔ دنیاوی زندگی میں تعریف اور شہرت کا حصول وقتی ہے مگر اللہ کی رضا دائمی کامیابی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی عبادات، خیرات، قربانیوں اور سماجی خدمات کو نمائش کے بجائے اِخلاص کا ذریعہ بنائیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب دِکھاوے کا آغاز ہوتا ہے تو اِخلاص کا اختتام شروع ہو جاتا ہے اور جب اِخلاص زندہ رہتا ہے تو معمولی عمل بھی اللہ کے ہاں عظیم اجر کا سبب بن جاتا ہے۔

Check Also

Faiz Sahab Ki Realist Film Buri Tarah Nakam Kyun Hui?

By Zafar Syed