Shor e Siasat Mein Khamosh Naseehat
شورِ سیاست میں خاموش نصیحت

کبھی فطرت کے آنگن میں چند لمحے خاموشی سے بیٹھ کر سوچیے۔۔ اس پوری کائنات میں ایک عجیب سکون ہے۔ کسی درخت کو دوسرے درخت کی بلندی سے حسد نہیں۔ کسی دریا کو دوسرے دریا کے بہاؤ سے شکایت نہیں۔ کسی ستارے کو دوسرے ستارے کی چمک سے تکلیف نہیں۔
ہر چیز اپنے حصے کی روشنی، اپنے حصے کی خوبصورتی اور اپنے حصے کی ذمہ داری کے ساتھ مطمئن ہے۔ مگر انسان۔۔ جسے اشرف المخلوقات کہا گیا، وہی آج سب سے زیادہ بے سکون نظر آتا ہے۔ اس کی بے سکونی کا سبب غربت نہیں، وسائل کی کمی نہیں، بلکہ دوسروں سے مسلسل موازنہ ہے۔
وہ اپنے نصیب سے زیادہ دوسروں کے نصیب کو دیکھتا ہے۔ اپنی کامیابی سے زیادہ دوسروں کی کامیابی گنتا ہے۔ اپنی نعمتوں سے زیادہ دوسروں کی نعمتوں کا حساب رکھتا ہے اور یوں آہستہ آہستہ اپنے دل کا سکون خود اپنے ہاتھوں سے چھین لیتا ہے۔
آج جب گلگت بلتستان میں انتخابی موسم اپنے عروج پر ہے، تو بدقسمتی سے یہ بیماری اور زیادہ نمایاں ہوگئی ہے۔ کسی کو کسی امیدوار کی مقبولیت پریشان کر رہی ہے۔ کسی کو کسی جماعت کی طاقت بے چین کر رہی ہے۔ کسی کو کسی قافلے کا ہجوم کھٹک رہا ہے۔ کسی کو مخالف کی کامیابی کا خوف کھائے جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا کھولیے تو ہر طرف مقابلہ، طنز، تضحیک، نفرت اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سیاسی اختلاف نہیں کر رہے بلکہ برسوں کے تعلقات، محبتوں اور بھائی چارے کو دائو پر لگا رہے ہیں۔
یاد رکھیے! الیکشن ایک دن کا واقعہ ہے، مگر رشتے پوری زندگی کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ ووٹ ایک سیاسی حق ہے، مگر اخلاق ایک انسانی فرض ہے۔ سیاسی جماعتیں بدلتی رہتی ہیں، اقتدار آتے جاتے رہتے ہیں، جلسوں کے ہجوم بکھر جاتے ہیں، نعرے خاموش ہو جاتے ہیں، مگر انسانوں کے درمیان پیدا ہونے والی نفرتیں اکثر نسلوں تک باقی رہ جاتی ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ آج ہم اپنے مخالف کو شکست دینے سے زیادہ اسے ذلیل کرنے میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ ہم بھول گئے ہیں کہ سیاسی اختلاف دشمنی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کی مقبولیت دیکھ کر پریشان ہے، دوسرا کسی کے اثر و رسوخ کو دیکھ کر بے چین ہے اور تیسرا کسی کے مالی وسائل دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہے۔
حالانکہ قدرت کا قانون آج بھی وہی ہے جو صدیوں پہلے تھا۔ ہر انسان کا رزق الگ ہے۔ ہر انسان کا وقت الگ ہے۔ ہر انسان کا امتحان الگ ہے اور ہر انسان کا مقام بھی الگ ہے۔ سورج کو کبھی یہ فکر نہیں ہوتی کہ آج چاند کو زیادہ لوگ دیکھ رہے ہیں۔ چاند کبھی سورج کی روشنی چھیننے کی کوشش نہیں کرتا۔ کیونکہ فطرت جانتی ہے کہ ہر ایک کا وقت مقرر ہے۔
موجودہ انتخابی ماحول میں ہمیں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ برداشت، شعور اور قناعت ہے۔ اگر آپ کا امیدوار کامیاب ہو جائے تو عاجزی اختیار کیجیے۔ اگر ناکام ہو جائے تو حوصلہ رکھیے۔ کیونکہ کسی امیدوار کی جیت یا ہار آپ کی انسانیت، کردار اور عزت کا معیار نہیں ہوتی۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود دل صاف رہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ الیکشن کے بعد بھی سلام باقی رہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ سیاست رشتوں پر غالب نہ آئے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ چند دن بعد یہ انتخابی شور ختم ہو جائے گا۔ سڑکوں پر لگے بینرز اتر جائیں گے۔ جلسوں کے ہجوم منتشر ہو جائیں گے۔ نعرے خاموش ہو جائیں گے۔ مگر ہمارے الفاظ، ہمارے رویے اور ہمارے کردار لوگوں کے دلوں میں باقی رہیں گے۔
لہٰذا نفرت کے بجائے محبت بانٹیے، موازنہ کے بجائے شکر ادا کیجیے اور حسد کے بجائے دعا کرنا سیکھیے۔ کیونکہ بے سکونی کی جڑ دوسروں کو دیکھنا ہے اور سکون کی جڑ اپنے رب کے فیصلوں پر راضی ہونا ہے۔
دنیا آج بھی سکون میں ہے۔۔ پہاڑ آج بھی خاموش ہیں، دریا آج بھی رواں ہیں، سورج آج بھی روشن ہے۔ مگر انسان اس لیے پریشان ہے کہ وہ اپنی زندگی جینے کے بجائے دوسروں کی زندگیوں کا حساب رکھ رہا ہے
یہ بات یاد رہئے!"الیکشن گزر جائیں گے، حکومتیں بدل جائیں گی، نعرے خاموش ہو جائیں گے، لیکن اگر ہم نے دلوں میں نفرت بو دی تو اس کی فصل آنے والی نسلیں کاٹیں گی"۔

