Monday, 16 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Faislay

Faislay

فیصلے

ہمیں زندگی میں ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی فیصلہ ضرور کرنا پڑتا ہے۔ جو کہ ہمارے لیے اور دوسروں کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ فیصلہ کرنے سے پہلے نیت خالص اللہ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے فیصلے میں نہ صرف خود کا فائدہ بلکہ دوسروں کا بھی خیال رکھیں لیکن اپنا حق اور ضروریات کو نظر انداز نہ کریں۔ مجھے بھی ایک فیصلہ کرنا پڑا۔ تو میں نے سب سے پہلے خود سے سوال کیا۔ کہیں میں یہ کام انا میں آکر تو نہیں کر رہی کہیں مجھے میری انا مجبور تو نہیں کر رہی یہ فیصلہ کرنے پر؟

مجھے جواب ملا نہیں انا کے ہاتھوں تو میں اس وقت بھی مجبور نہیں ہوئی۔ جب میرے کردار پر انگلی اٹھائی گئی۔ تو اب میں ایسا کیوں کر رہی ہوں؟ کیونکہ یہاں سوال انا کا نہیں بلکہ صحت کا ہے۔ میں جس ادارے میں کام کرتی ہوں وہ میرے لیے کام کی جگہ کم سکون اور خوشی کی جگہ زیادہ ہے۔ مگر آج کل بیمار ہونے کی وجہ سے نہ تو میں کام کر پا رہی ہوں اور نہ ہی کسی سے حسن اخلاق کے ساتھ بات کر پا رہی ہوں۔ تو کیا میں بری ہوں؟

نہیں میں بری نہیں ہوں بس اس ٹائم میرا وقت برا ہے اور میری جسمانی صحت میرا ساتھ نہیں دے رہی۔ جس وجہ سے مجھے اب فیصلہ کرنا پڑے گا کہ مجھے اپنے کام کے ساتھ کام چوری کرنی ہے کہ صحت مند ہو کر اپنے کام کو ایمانداری سے کرنا ہے؟ اب مجھے ضرورت ہے فیصلہ کرنے کی۔ اب مجھے ضرورت ہے اپنی صحت پر کام کرنے کی۔ مگر اس سے پہلے میرے ذہن میں سو طرح کے سوالات آرہے ہیں۔

کہیں میں سخت اصولوں کی وجہ سے ڈر تو نہیں رہی؟ کہیں مجھے کسی کی بات بری تو نہیں لگی۔ میں اس کی وجہ سے تو یہ نہیں کر رہی۔ اگر میں نے ایسا کیا تو سب کو لگے گا کہ میں سخت اصولوں کی وجہ سے بھاگ رہی ہوں؟ یا پھر میں اپنی انا کو ہوا دے رہی ہوں؟ انا کو تو ہوا تب ملے گی جب میں صحت مند ہوں گی۔ ابھی میں صحت مند نہیں ہوں۔ ابھی میں تکلیف میں ہوں۔ اس تکلیف میں جو میرے علاوہ کسی دوسرے کو محسوس نہیں ہوتی۔ پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد میں کیا کروں گی؟ میں اپنی ضروریات کیسے پوری کروں گی؟ لیکن کیا میری ضروریات اتنی زیادہ ہیں کہ میرے گھر والے وہ پوری نہیں کر سکتے؟ گھر والوں کو بھی چھوڑیں کیا میرا رب مجھ پہ کرم کم کر دے گا اپنا؟ کیا وہ مجھ پہ دھوپ کم کرے گا کہ چھاؤں کم کرے گا؟ جو رب اب میری ضروریات پوری کر رہا ہے تو کیا وہ بعد میں نہیں کرے گا؟ جب میں کام ایمانداری کے ساتھ کروں گی؟ جب میں خود کے ساتھ ایماندار ہوں گی؟ جب میں اللہ کی رضا کے لیے فیصلے کروں گی؟ جب میں اللہ کو راضی کرنے والے کام کروں گی؟ تو کیا وہ مجھ پہ اپنا کرم کم کرے گا؟

بالکل بھی نہیں وہ رب ہے وہ اپنا کرم کبھی بھی کم نہیں کرتا۔ جو آج ہماری ضروریات پوری کر رہا ہے۔ وہ کل بھی کرے گا۔ رزق دینے والی ذات اللہ کی ہے جو رزق آپ کے نصیب میں لکھا گیا ہے اسے کھائے بغیر آپ نہیں مریں گے۔ بات کسی اور طرف چلی گئی۔ یہاں بات ہو رہی ہے۔ فیصلہ کرنے کی فیصلہ کرنے سے پہلے اللہ تعالی سے دعا کریں۔ اس سے مدد مانگے اور سوچیں کہ جو فیصلہ آپ کرنے جا رہے ہیں۔ اس میں دوسروں کا اور آپ کا نقصان تو نہیں ہو رہا۔ جس کام کو اللہ نے ذریعہ بنایا ہے وہ کام ہمارے لیے قابل عزت ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری ہمارے لیے ہماری صحت ہے۔ ہمارا ایماندار ہونا ہے۔ ایک انسان ہونے کے ناطے ہمیں خوف بھی ہوتا ہے کہ کہیں ہم اپنا نقصان نہ کر لیں۔ یا پھر ہمارے عزیز وقار ہم سے دور نہ ہو جائیں۔ مگر میرا یہاں پہ ایک سوال ہے۔ کیا ان عزیزوں کا تکلیف میں آپ کو نہ سمجھنا آپ کے لیے ان کے دور ہونے سے زیادہ تکلیف دہ نہیں؟

جب انسان بیمار ہوتا ہے تو اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ جب اس کی تکلیف حد سے بڑھ جائے اور کوئی اس بات کااحساس نہیں کرتا اس میں چڑچڑا پن آجاتا ہے۔ اس لیے اس وقت اپنے عزیز و وقار سے دور ہونا ہی بہتر فیصلہ ہوتا ہے۔ کیونکہ تکلیف کچھ وقت کی ہوتی ہے مگر اس تکلیف میں بولے گئے الفاظ پوری زندگی آپ کو تکلیف پہنچاتے رہتے ہیں۔ کسی سے تعلق نہیں توڑنا بس صحت مند ہونے تک ان سے تھوڑا فاصلہ قائم کرنا ہے اور بیمار انسان میں بعض اوقات تکلیف نہ برداشت ہونے کی وجہ سے چڑچڑا پن بڑھ جاتا ہے۔

اور یہ چڑچڑا پن اور یہ تکلیف اللہ کی ذات کے علاوہ کوئی دور نہیں کر سکتا۔ جو آپ کام کر رہے ہیں وہ بڑی ذمہ داری کا کام ہے اور ذمہ داری نبھانے کے لیے انسان کا صحت مند ہونا بہت ضروری ہے۔ جسمانی طور پر بھی اور ذہنی طور پر بھی۔ زندگی میں فیصلے ضرور کریں۔ مگر اس میں صرف اپنا ہی نہیں دوسروں کا بھی فائدہ سوچیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا نہ خود کی جان کو مصیبت میں ڈالو اور نہ دوسروں کی جان کو۔

یعنی نہ خود کی صحت خراب کریں اور نہ دوسروں کی۔ ہمیں زندگی میں اہم فیصلہ ضرور کرنا چاہیے۔ مگر ادب کے دائرے میں رہ کر اور دوسرے انسان کو انسان سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔ فیصلے وہ کریں جو انسانیت کے لیے فائدہ مند ہوں اور یاد رکھیں آپ کی جان آپ کی سانسیں آپ کی صحت اللہ تعالی کی امانت ہے۔ اس پر کام کریں۔ امانت میں خیانت نہ کرے اور فیصلے کرنے سے پہلے غور و فکر ضرور کریں۔

تاکہ آپ اللہ کی رضا کے مطابق فیصلے کر سکیں اور انسانیت کے لیے آسانیاں پیدا کر سکیں۔ لوگوں کے ڈر سے زیادہ اللہ کے ڈر سے فیصلے کریں۔ یاد رکھیں جو آپ کا ہے وہ آپ کے ہر فیصلے میں آپ کا ساتھ دے گا اور جو آپ کا نہیں وہ آپ کو زندگی کا بہترین سبق دے گا۔ مجھے شعر و شاعری زیادہ پسند تو نہیں مگر ایک شعر میرے دل کے بہت قریب ہے۔ جو میں آپ سب کے ساتھ شیئر کرنا چاہوں گی۔ باہمت لوگ کبھی ہارا نہیں کرتے یا تو وہ جیت جاتے ہیں یا کچھ سیکھ جاتے ہیں۔

یہاں پہ میں اپنی ذاتی زندگی اس نیت سے شیئر نہیں کر رہی کہ کوئی مجھ سے ہمدردی کرے۔ نیتیں تو صرف اللہ تعالی جانتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میرا یہ کالم پڑھ کر کوئی اپنے فیصلوں کو کرنے سے پہلے اللہ کی رضا کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرے اور اپنا اور دوسروں کا نقصان کرنے سے بچ جائے۔ میرا کالم پڑھنے کا بہت بہت شکریہ اللہ تعالی ہم سب کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور فیصلوں کو کرنے سے پہلے اللہ ہمارے دلوں میں اللہ کا ڈر ڈالے نہ کے نہ کہ لوگوں کا خوف۔

Check Also

Epstein Files Ke Aftershocks Aur Islam Ka Tasawar e Takmeel

By Amir Mohammad Kalwar