Dilon Ki Tameer
دلوں کی تعمیر

کہتے ہیں ایک صوفی درویش ایک دن اپنے مریدوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ راستے میں ایک بستی آئی جہاں مختلف مذاہب کے لوگ آباد تھے۔ درویش نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد کی دیوار بنا رہا ہے، دوسرا گردوارے کی چھت مرمت کر رہا ہے اور تیسرا مندر کے صحن کو صاف کر رہا ہے۔ درویش نے مسکرا کر مریدوں سے کہا: "یہ لوگ عبادت گاہیں نہیں بنا رہے، یہ اپنے دلوں کو تعمیر کر رہے ہیں۔ جس دل میں دوسروں کی عبادت کا احترام پیدا ہو جائے، وہی دل دراصل خدا کا اصل گھر بن جاتا ہے"۔
یہ حکایت محض ایک روحانی اشارہ نہیں بلکہ انسانی تہذیب کے ایک بڑے اصول کی ترجمانی کرتی ہے۔ یہی اصول آج برصغیر کے اُس خطے میں دوبارہ زندہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس نے کبھی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرتوں، خونریزیوں اور نفرتوں کا مشاہدہ کیا تھا۔ بھارت کے پنجاب میں حالیہ برسوں کے دوران جو واقعات سامنے آئے ہیں وہ بظاہر چھوٹے چھوٹے دیہاتوں کی خبریں ہیں، مگر درحقیقت یہ انسانیت کی ایک بڑی داستان لکھ رہے ہیں۔ سنگرور ضلع کی دھوری تحصیل کے پوناوال گاؤں میں جب ایک چھوٹی سی مسجد کا افتتاح ہوا تو یہ محض ایک عمارت کی تکمیل نہیں تھی بلکہ ایک اجتماعی ضمیر کی بیداری کا اعلان تھا۔ اس گاؤں کی اکثریت سکھوں اور ہندوؤں پر مشتمل ہے اور مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ یہاں برسوں تک مسلمانوں کے پاس اپنی عبادت کے لیے مسجد نہیں تھی۔ مگر جب گاؤں کے ایک ہندو پنڈت جسپال رام کے خاندان نے اپنی ذاتی زمین مسجد کے لیے وقف کر دی اور سکھوں اور ہندوؤں نے اس کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تو گویا ایک خاموش پیغام پوری دنیا تک پہنچ گیا کہ مذہب انسان کو جدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کو بلند کرنے کے لیے آیا ہے۔
یہ واقعہ اپنی جگہ اہم ہے مگر یہ کوئی تنہا واقعہ نہیں۔ پنجاب کے کئی دیہاتوں میں اسی طرح کی مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ فتح گڑھ صاحب ضلع کے ایک گاؤں جکھوالی میں ایک بزرگ سکھ خاتون راجندر کور نے اپنی پانچ مرلہ زمین مسلمانوں کو مسجد بنانے کے لیے دے دی۔ یہ ایک معمولی سی زمین نہیں بلکہ ایک وسیع دل کی علامت ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا تو انہوں نے نہایت سادہ الفاظ میں کہا کہ گاؤں کے مسلمان نماز پڑھنے کے لیے دوسرے گاؤں جاتے تھے اور ہمیں یہ احساس ہوتا تھا کہ ان کے پاس بھی عبادت کے لیے اپنی جگہ ہونی چاہیے۔ ان کے بیٹوں نے اس زمین پر مسجد کی تعمیر کی نگرانی کی اور گاؤں کے سکھوں نے اس کام میں ہاتھ بٹایا۔ دس گیارہ مہینوں میں مسجد مکمل ہوگئی اور اب اس بستی میں پانچ وقت اذان کی آواز گونجتی ہے۔ ایک سکھ سرپنچ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب گردوارہ موجود ہے تو مسلمانوں کے پاس بھی اپنی عبادت کی جگہ ہونی چاہیے۔ یہ الفاظ دراصل اُس تہذیبی شعور کی جھلک ہیں جو پنجاب کی روح میں صدیوں سے موجود ہے۔
اگر ہم اس پس منظر کو سمجھنے کی کوشش کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پنجاب کی سرزمین ہمیشہ سے صوفیانہ روایات اور مذہبی رواداری کی حامل رہی ہے۔ یہاں بابا فرید گنج شکر کی خانقاہ بھی ہے اور گرو نانک کی تعلیمات بھی اسی مٹی سے پھوٹی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے دیہاتوں میں مذہبی شناخت سے زیادہ انسانی رشتہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے تہواروں میں شریک ہوتے ہیں، خوشی اور غم میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں اور مذہب کو دیوار کے بجائے پل بنانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
پنجاب کے ایک تاریخ دان پروفیسر ہرجیشور پال سنگھ کے مطابق تقسیم ہند کے واقعات یہاں کے لوگوں کے لیے ایک گہرا زخم تھے۔ اس زخم نے لاکھوں خاندانوں کو بچھڑا دیا اور انسانیت کو شرمندہ کیا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس خطے کے باشعور لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ نفرت کا وہ باب بند ہونا چاہیے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج سکھ اور ہندو مسلمانوں کے لیے مساجد تعمیر کروا رہے ہیں۔ یہ عمل صرف عبادت گاہ بنانے کا نہیں بلکہ تاریخ کے ایک تلخ باب کا ازالہ کرنے کی کوشش بھی ہے۔
یہاں ایک اور حقیقت بھی قابل غور ہے۔ بھارت کے پنجاب میں قانون کے مطابق عبادت گاہیں سرکاری زمین پر نہیں بنائی جاسکتیں بلکہ اس کے لیے نجی زمین درکار ہوتی ہے۔ دیہی علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی کم ہے اور اکثر ان کے پاس اتنی زمین نہیں ہوتی کہ مسجد تعمیر کر سکیں۔ اس خلا کو سکھ اور ہندو خاندانوں نے اپنے طرز عمل سے پُر کیا ہے۔ مالیر کوٹلہ کے ایک گاؤں عمر پورہ میں مسجد کے لیے زمین ایک سکھ سرپنچ کے خاندان نے دی۔ گاؤں والوں نے چندہ جمع کیا اور مسجد تعمیر کر دی۔ جب مسجد مکمل ہوئی تو سرپنچ نے کہا کہ اب پانچ وقت اللہ کا نام ہمارے کانوں میں پڑتا ہے اور ہمیں خوشی ہوتی ہے۔ اس جملے میں جو سادگی اور اخلاص ہے وہ کسی بڑی تقریر یا فلسفے سے کہیں زیادہ اثر انگیز ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مذہبی رواداری کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی احساس ہے جو دلوں میں پیدا ہوتا ہے۔
یہ واقعات ہمیں ایک بڑا سبق بھی دیتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت مذہبی کشیدگی اور تعصبات کا شور بہت زیادہ ہے۔ اکثر جگہوں پر عبادت گاہیں نفرت کا نشانہ بن جاتی ہیں اور مذہب کو سیاست کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں پنجاب کے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں سے آنے والی یہ خبریں امید کی کرن بن جاتی ہیں۔ یہ ہمیں بتاتی ہیں کہ انسانیت کی اصل روح ابھی زندہ ہے۔ اگر ایک سکھ خاتون اپنی زمین مسجد کے لیے دے سکتی ہے اور ایک ہندو خاندان مسلمانوں کے لیے عبادت گاہ تعمیر کروا سکتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہبی اختلاف کے باوجود مشترکہ انسانیت کا رشتہ زیادہ طاقتور ہے۔ شاید یہی وہ پیغام ہے جسے صوفیا نے صدیوں پہلے بیان کیا تھا کہ خدا تک پہنچنے کے راستے مختلف ہو سکتے ہیں مگر انسانیت کا راستہ ایک ہی ہے۔ جب انسان دوسرے کے ایمان کا احترام کرنا سیکھ لیتا ہے تو دراصل وہ اپنے ایمان کو بھی بلند کر لیتا ہے۔
یہاں رک کر ہمیں اپنے معاشروں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔ برصغیر کے دونوں حصوں میں مذہبی شناختیں بہت مضبوط ہیں مگر ان شناختوں کے ساتھ برداشت اور وسعت قلبی بھی ہونی چاہیے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ نفرت کا بیج ہمیشہ تباہی کی فصل لاتا ہے جبکہ احترام اور رواداری انسانیت کو ترقی کی طرف لے جاتے ہیں۔ پنجاب کے یہ دیہات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ مذہب کی اصل روح عبادت گاہوں کی دیواروں میں نہیں بلکہ دلوں کی وسعت میں ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان دوسرے کے لیے عبادت کی جگہ بناتا ہے تو دراصل وہ اپنے اندر خدا کے لیے ایک وسیع جگہ پیدا کر لیتا ہے۔
اب ذرا تصور کیجیے کہ اگر دنیا کے ہر معاشرے میں یہی سوچ پیدا ہو جائے تو کیا منظر ہوگا۔ اگر ہر مذہب کا پیروکار دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کرے تو شاید زمین پر بہت سی لڑائیاں خود بخود ختم ہو جائیں۔ پنجاب کے ان گاؤں میں بننے والی مساجد صرف اینٹوں اور گارے کی عمارتیں نہیں بلکہ ایک علامت ہیں، یہ علامت ہے اس امکان کی کہ انسان نفرت کے اندھیروں سے نکل کر باہمی احترام کی روشنی میں جی سکتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنے دلوں سے ایک سوال پوچھنا چاہیے: کیا ہم دوسروں کے لیے اتنی ہی جگہ رکھتے ہیں جتنی اپنے لیے؟ اگر جواب ہاں میں ہو تو انسانیت کا سفر آگے بڑھ سکتا ہے اور اگر نہیں تو ہمیں اپنے دلوں کی تعمیر نو کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اصل عبادت گاہ وہی دل ہے جس میں دوسروں کے لیے بھی جگہ ہو۔
دلوں کی تعمیر اینٹوں اور پتھروں سے نہیں ہوتی، وہ کشادہ ظرفی، احترام اور محبت سے ہوتی ہے۔ جب انسان دوسرے کے ایمان کی حفاظت کرتا ہے تو دراصل وہ انسانیت کے مقدس رشتے کو محفوظ بناتا ہے۔ پنجاب کے دیہاتوں سے اٹھنے والی یہ مثالیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ تہذیب کا اصل حسن اختلاف کے باوجود احترام میں پوشیدہ ہے۔
دلوں میں روشنی ہو تو زمانہ گھر بن جاتا ہے
محبت بانٹنے والا ہی اصل رہبر بن جاتا ہے
کسی کے واسطے مسجد، کسی کے واسطے مندر
جو سب کا درد سمجھے وہی دلبر بن جاتا ہے
نہ دیواریں رہیں باقی، نہ نفرت کی فصیلیں
جہاں انسان جیتا ہے وہیں منظر بن جاتا ہے
یہی پیغام ہے دنیا کو پنجاب کے دیہوں کا
کہ انسان آدمی سے مل کے بہتر بن جاتا ہے

