Monday, 09 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Nasim Chaudhry
  4. Ghq Hamla Case

Ghq Hamla Case

جی ایچ کیو حملہ کیس

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی نشیب و فراز آئے، احتجاج بھی ہوئے، گرفتاریاں بھی ہوئیں، حکومتیں بھی بدلتی رہیں، مگر 9 مئی 2023 کا دن ایک ایسا سیاہ ترین دن تھا جس نے ملکی سیاست کے چہرے پر ایک ایسا داغ لگا دیا جسے شاید طویل عرصہ تک دھویا نہ جا سکے۔ اس روز ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج ہوا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، مگر سب سے حیران کن اور افسوسناک واقعہ وہ تھا جب مشتعل ہجوم نےایک پلاننگ کے تحت ملک کے معتبر ادارے فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز یعنی جی ایچ کیو کے گیٹ پر دھاوا بول دیا۔

یہ واقعہ صرف ایک احتجاج نہیں تھا بلکہ ریاستی نظم و ضبط اور اداروں کے احترام کے حوالے سے ایک سنگین سوال بھی تھا۔

حال ہی میں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اس کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو دس دس سال قید اور پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ ان میں پاکستان تحریک انصاف کے کئی اہم رہنما بھی شامل ہیں جن میں عمر ایوب خان، مراد سعید، ذلفی بخاری، زرتاج گل، شبلی فراز، حماد اظہر اور دیگر شامل ہیں۔

عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ یہ ملزمان نو مئی کے واقعات کی منصوبہ بندی اور پرتشدد احتجاج کی سازش میں ملوث پائے گئے۔

نو مئی کا پس منظر، 9 مئی 2023 کو اس وقت حالات نے سنگین رخ اختیار کیا جب عمران خان کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایک مقدمے میں گرفتار کیا۔ اس گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج شروع ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔

سرکاری عمارتیں، یادگاریں اور نجی املاک نقصان کا شکار ہوئیں۔ لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ ہوا، میانوالی میں پاکستان ایئر فورس کی دیوار گرادی۔ جبکہ راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے گیٹ تک ہجوم پہنچ گیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب بہت سے سنجیدہ حلقوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سیاسی اختلافات اس حد تک جا سکتے ہیں کہ ریاستی اداروں کی بنیادوں کو چیلنج کر دیا جائے؟

انسداد دہشت گردی عدالت کے مطابق اس کیس میں مجموعی طور پر 118 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ استغاثہ کے 44 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں جبکہ کئی ملزمان مسلسل عدالت سے غیر حاضر رہے۔

عدالت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 47 اشتہاری ملزمان کا علیحدہ ٹرائل چلایا اور انہیں دس سال قید کی سزا سنائی۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ملزمان نو مئی کے روز جی ایچ کیو گیٹ، حمزہ کیمپ، آرمی میوزیم اور سکستھ روڈ میٹرو اسٹیشن پر حملوں میں ملوث پائے گئے۔

اس کے علاوہ عدالت نے ملزمان کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔

اس فیصلے پر پاکستان تحریک انصاف نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ "سیاسی انتقام" اور "ناانصافی" پر مبنی ہے اور پارٹی اسے مسترد کرتی ہے۔

یہ پاکستانی سیاست کی ایک عام روایت بن چکی ہے کہ جب بھی عدالت کسی سیاسی شخصیت کے خلاف فیصلہ دیتی ہے تو اسے سیاسی انتقام قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر فیصلہ واقعی سیاسی انتقام ہوتا ہے یا بعض اوقات قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے؟

دنیا کی مثال دیکھیں، دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو احتجاج اور بغاوت کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ امریکہ، فرانس، برطانیہ اور دیگر ممالک میں عوام نے حکومتوں کے خلاف مظاہرے کیے، پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا، لیکن آج تک سوائے پی ٹی آئی کے دنیا کے کسی ملک میں فوج کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ نہیں کیا گیا۔ ایک بات تقریباً ہر جگہ مشترک نظر آتی ہے کہ فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر پر حملہ ایک ناقابل عمل تصور سمجھا جاتا ہے۔

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا واقعہ ملے جہاں کسی سیاسی جماعت کے کارکن اپنے ہی ملک کی فوج کے مرکزی کمانڈ سینٹر پر حملہ آور ہو گئے ہوں۔

پاکستان میں نو مئی کو پیش آنے والا واقعہ اسی وجہ سے انتہائی حساس اور سنگین قرار دیا گیا۔

فوج کسی بھی ملک میں صرف ایک ادارہ نہیں ہوتی بلکہ ریاست کی دفاعی علامت ہوتی ہے۔ اس لیے جب اس پر حملہ ہوتا ہے تو اسے محض احتجاج نہیں بلکہ ریاستی رٹ کو چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

سیاست اور ذمہ داری، پاکستان کی سیاست میں جذبات اکثر عقل پر غالب آ جاتے ہیں۔ سیاسی قائدین کے بیانات، کارکنوں کے جذبات اور سوشل میڈیا کی تیز رفتار فضا بعض اوقات حالات کو ایسے رخ پر لے جاتی ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔

نو مئی کے واقعات بھی اسی بے قابو جذبات کا نتیجہ تھے۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری صرف ووٹ حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنے کارکنوں کو قانون اور ریاستی اداروں کے احترام کا درس دینا بھی ہوتی ہے۔ اگر سیاست دان ہی اپنے کارکنوں کو اشتعال دلائیں گے تو اس کے نتائج بھی انہیں ہی بھگتنا پڑیں گے۔

یہ ایک سادہ مگر اٹل اصول ہے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ اگر کسی احتجاج میں توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور ریاستی اداروں پر حملہ شامل ہو جائے تو اس کے نتائج بھی سخت ہی ہوں گے۔

نو مئی کے واقعات کے بعد ملک میں سینکڑوں گرفتاریاں ہوئیں، مقدمات درج ہوئے اور اب عدالتیں فیصلے سنا رہی ہیں۔

یہ شاید اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ قانون کی گرفت دیر سے سہی مگر مضبوط ہوتی ہے۔

آگے کا راستہ، پاکستان اس وقت سیاسی، معاشی اور سماجی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں سیاسی محاذ آرائی کو اس حد تک لے جانا کہ ریاستی ادارے ہی نشانے پر آ جائیں، کسی طور بھی دانشمندی نہیں۔

سیاسی اختلاف جمہوریت کا حسن ہوتا ہے مگر جب اختلاف دشمنی میں بدل جائے تو جمہوریت کمزور ہو جاتی ہے۔

نو مئی کا واقعہ اور اس کے بعد آنے والے عدالتی فیصلے شاید پاکستان کی سیاست کے لیے ایک سبق ہیں کہ ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم کا راستہ کبھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتا۔

نو مئی کے واقعات اور جی ایچ کیو حملہ کیس کے فیصلے نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم باب کا اضافہ کر دیا ہے۔ عدالت نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے، سیاسی جماعتوں نے اپنا مؤقف بیان کر دیا ہے، مگر اصل سوال اب بھی باقی کہ

کیا ہماری سیاست اس تلخ تجربے سے کوئی سبق سیکھے گی؟

کیونکہ تاریخ کا اصول بڑا واضح ہے: جب سیاست احتجاج سے بغاوت کی حد عبور کر جائے تو انجام ہمیشہ تلخ ہی ہوتا ہے۔

بغاوت صرف ہتھیار اٹھانے کا نام نہیں، بلکہ اپنی ریاست اور اپنی فوج کے خلاف نفرت اور انتشار پر مبنی بیانیہ پھیلانا بھی بغاوت ہی کی ایک شکل ہے۔ آج بھی ایسا بیانیہ موجود ہے جسے ہر صاحبِ فہم اور صاحبِ شعور شخص سخت ناپسند کرتا ہے، کیونکہ ریاست کی بنیاد احترام اور یکجہتی پر قائم ہوتی ہے۔ پاکستانی فوج ریاست کی دفاعی قوت اور قومی وقار کی علامت ہے۔ ایسے واقعات پر قانون کا حرکت میں آنا فطری تھا، اس لیے عدالت کا یہی فیصلہ متوقع تھا اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ برے کام کا انجام آخرکار برا ہی ہوتا ہے۔

Check Also

Sab Pareshan Hain

By Syed Mehdi Bukhari