Jasoosi Digest Aur Main (3)
جاسوسی ڈئجسٹ اور میں (3)

جاسوسی ڈائجسٹ کے سابق ایڈیٹر سید انور فراز میرے استاد ہیں۔ ویسے ہی استاد جیسے صحافت میں سید محمد صوفی تھے۔ فراز صاحب نے میری تربیت کی۔ میں پہلے بھی کہانیاں لکھنا جانتا تھا لیکن ان گھڑ تھا۔ فراز صاحب کی زیر تربیت میں نے فکشن کے کئی پہلو سمجھے اور انھیں برتنا سیکھا۔ لیکن چونکہ میں باغی طبیعت کا انسان ہوں اور وہ یہ بات اول دن سے جانتے تھے، تو احترام اور محبت کے ساتھ ایک دو معاملات پر ان سے اختلاف رہا۔
فراز صاحب کو ہومیوپیتھی سے گہری دلچسپی ہے۔ جن دنوں وہ جاسوسی ڈائجسٹ میں تھے، تب بھی اس کے فوائد کا ذکر کرتے تھے۔ میں پچھلی تحریر میں لکھ چکا ہوں کہ معراج رسول صاحب بھی ہومیوپیتھی کے قائل تھے۔ بلکہ اپنے ایک پروف ریڈ ڈاکٹر صاحب سے علاج کرواتے تھے۔ فراز صاحب کی دلچسپی اتنی بڑھی کہ جاسوسی ڈائجسٹ کے بعد وہیں ڈی ایچ اے فیز ٹو ایکسٹینشن میں اپنا کلینک کھول لیا۔ جب میری کہانیوں کی پہلی کتاب نمک پارے چھپی تو وہیں جاکر ان کی خدمت میں پیش کی تھی۔ وہ بہت خوش ہوئے تھے۔
نہ میں ہومیوپیتھی کو مانتا ہوں اور نہ ستاروں کی چال کو۔ انھیں محض دل بہلانے کی باتیں سمجھتا ہوں۔ لیکن میرے سمجھنے سے کیا ہوتا ہے۔ ایک دنیا ان کی قائل ہے۔ میں بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو صبح شام ہومیوپیتھی کی میٹھی گولیاں نگلتے ہیں، زحل کی نحوست کے قائل ہیں اور برج عقرب میں کوئی نیا کام نہیں کرتے۔
فراز صاحب کئی عشروں سے ملک و قوم کے زائچے بنارہے ہیں۔ جن دنوں وہ جاسوسی ڈائجسٹ میں ایڈیٹر تھے، تب بھی زائچے دیکھ کر مستقبل کی پیش گوئیاں کرتے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میرے اساتذہ ہمیشہ وہ لوگ رہے جو مستقبل بینی کے قائل تھے۔ میرے والد کو علم الاعداد سے دلچسپی تھی۔ سید محمد صوفی پامسٹری کے ماہر تھے۔
صوفی صاحب نے پہلی دوسری ملاقات میں بتادیا تھا کہ وہ ہاتھ دیکھتے ہیں۔ میں ایسی باتیں سن کر ہمیشہ ہنس پڑتا ہوں۔ کبھی انھیں ہاتھ نہیں دکھایا تھا۔ انھوں نے خود بھی کبھی نہیں دیکھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہاتھ ہمیشہ دن کی روشنی میں دیکھنا چاہیے جبکہ ہم اخبار میں مغرب کے بعد ساتھ بیٹھ کر کام کرتے تھے۔ جیو کے بالکل آخری دنوں میں ایک دن مجھے یاد آیا تو ان سے کہا، صوفی صاحب، آج میرا ہاتھ دیکھیں۔ انھوں نے غور سے میرے ہاتھ کا معائنہ کیا اور دو باتیں بتائیں۔ ایک، مبشر تم بہت لمبا سفر کرنے والے ہو۔ میں حیران رہ گیا۔ میرا امریکا کا ویزا لگ چکا تھا۔ انھیں یہ بات معلوم نہیں تھی۔ دوسری بات انھوں نے عجیب کہی۔ مبشر، تمھارے ہاتھ میں ایک قتل ہے۔ میں حسب عادت اس پر ہنس پڑا۔
فراز صاحب سے میں نے کبھی نہیں کہا کہ میرا زائچہ بنائیں۔ لیکن انھوں نے ازخود کئی پیش گوئیاں کیں۔ میں نے کوئی یاد نہیں رکھی۔ اتنا یاد ہے کہ ہمیشہ بے یقینی سے مسکرا دیتا تھا۔ انھیں اچھا نہیں لگتا ہوگا۔
جب میں نے سو لفظوں کی کہانیاں لکھنا شروع کیں تو ان کی دو کتابیں جلدی جلدی چھاپیں۔ پہلی کا نام نمک پارے تھا۔ وہ فراز صاحب کو جاکر پیش کی۔ دوسری کا نام شکر پارے رکھا لیکن وہ ڈر کے مارے انھیں نہیں دی۔ وجہ یہ کہ میں نے انھیں ذہن میں رکھ کر ایک تحریر لکھی اور شکرپارے کے بیک ٹائٹل پر چھاپی۔ وہ تحریر یہ رہی:
منٹو نے کہا تھا، صحافت۔۔ ادب کا کنجر خانہ ہے۔
سترہ سال پہلے جب میں نے خبریں چھاپنے والے ادارے میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو کہانیاں چھاپنے والے ادارے کے ایڈیٹر نے یہ کہا تھا۔
ایڈیٹر صاحب چاہتے تھے کہ میں انھیں چھوڑ کر نہ جاؤں، ان کے ڈائجسٹ کے لیے کہانیاں لکھتا رہوں۔ انہوں نے میرا زائچہ دیکھ کے بتایا تھا کہ میں صحافت میں ناکام رہوں گا۔
ہمارے ہاں کہانیاں لکھنے والوں کو اچھے پیسے نہیں ملتے۔ ہر قسم کے کنجر خانوں میں کام کرنے والوں کی گزران ان سے بہتر ہوتی ہے۔ میں نے ایڈیٹر صاحب کی بات نہ مانی۔
عجیب بات ہے کہ ڈائجسٹوں کی کہانیوں کو کوئی ادب مانتا ہے، نہ صحافت۔
بہت سال تک خبریں بنا بنا کر اخبار جوڑتا رہا۔ بہت سال سے خبریں جوڑ جوڑ کر بلیٹن بنا رہا ہوں۔
کچھ دن پہلے ایڈیٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ اب ان کے سر پر چاند نکل آیا ہے، میرے بالوں میں چاندی اتر آئی ہے۔ ایک دوسرے کو دیکھ کر دونوں کے چہرے پر رونق آگئی۔
ایڈیٹر صاحب نے بتایا کہ وہ اب کہانیاں ایڈٹ نہیں کرتے، رائٹرز اور سب ایڈیٹرز کی کھنچائی نہیں کرتے، زانچے کھینچتے ہیں، لوگوں کو کہانیاں سناتے ہیں، پیشہ ورستارہ شناس بن گئے ہیں۔
خیر آباد ٹی شاپ میں مجھے سامنے بٹھا کر انھوں نے دو جنم کنڈلیاں دیکھیں۔
پہلا زائچہ منٹو کا تھا۔ ایڈیٹر صاحب نے بتایا کہ زائچے کے مطابق منٹو نے کبھی صحافت کو کنجر خانہ نہیں کہا۔ وہ کنجر خانے کو ادب کا مقام سمجھتا تھا۔
دوسرا زائچہ میرا تھا۔ ایڈیٹر صاحب نے سترہ سال بعد اپنی بات دوہرائی کہ میں صحافت میں ناکام رہوں گا۔ لیکن یہ اضافہ کیا کہ اگر حلوائی کی دکان کھول لوں تو زندگی کام یاب گزرے گی۔
اس بار میں نے ایڈیٹر صاحب کی بات مان لی ہے۔ حلوائی کی دکان کھول لی ہے۔ نمک پارے اور شکر پارے بنا بنا کر بانٹ رہا ہوں۔

