Monday, 09 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Beti, Qalam Aur Tareekh Ka Qarz

Beti, Qalam Aur Tareekh Ka Qarz

بیٹی، قلم اور تاریخ کا قرض

آٹھ مارچ کے نام پر آج شہر کی بڑی شاہراہوں پر بینرز لہرائیں گے۔ ٹی وی چینلز کے سٹوڈیوز میں حقوقِ نسواں کی بڑی بڑی بحثیں ہوں گی، وہی روایتی نعرے، وہی چکا چوند اور وہی مصنوعی ہنگامہ۔ لیکن اس رنگین و روغن شور کے پیچھے ایک ایسی سچی کہانی دبی ہوئی ہے، جسے سنانے کا حق صرف ان کے پاس ہے جن کے پاس محل تو نہیں، مگر ایک ٹوٹا ہوا قلم اور بیٹی کی ہمت ہے۔

میرا قلم آج خاموش نہیں، کیونکہ میرے پاس ایک ایسی ایڈیٹر ہے جو بڑے بڑے ایوانوں کے مغرور ایڈیٹرز سے کہیں زیادہ باشعور ہے۔ جب میری بصارت دھندلانے لگتی ہے اور الفاظ کاغذ پر رقص کرنے کے بجائے بکھرنے لگتے ہیں، تو میری بیٹی اپنے معصوم ہاتھوں سے میرے قلم کو سہارا دیتی ہے۔ جب بڑے بڑے اخبارات اور ویب سائٹس کے "اربابِ اختیار" میری تحریر کو "غیر اہم" سمجھ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں، تو وہ میری بیٹی ہی ہے جو اس راکھ سے امید کی چنگاری ڈھونڈ لاتی ہے۔ بڑے ایڈیٹرز شاید اس لیے مجھے نظر انداز کرتے ہیں کہ میرے پاس سفارش کی وہ "سیاہی" نہیں جو آج کل کالم چھپوانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ ان کا معیار "مواد" نہیں، "مفادات" ہیں۔ انہیں سچ سے کیا غرض، انہیں تو بس اپنی کرسیوں اور اپنے اشتہارات سے فرصت ملے۔

میں نے اپنی زندگی میں صرف قلم کی حرمت کا سودا نہیں کیا، اسی لیے میری زندگی ایک مسلسل "دشت گردی" بن گئی ہے۔ یہ دشت گردی بارود کی نہیں، ان الفاظ کی ہے جو سچ بولتے ہیں اور جنہیں سننے کی سکت اس معاشرے نے کھو دی ہے۔ جب میں لکھتا ہوں کہ معاشرہ اخلاقی زوال کی گہری کھائی میں گر رہا ہے، تو لوگ اسے میری "کم علمی" سمجھتے ہیں۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ جس قوم نے اپنی تاریخ، اپنی ہاشمی وراثت اور اپنے اولیاء کے کردار کو بیچ دیا ہو، اسے اپنی زوال پذیری کبھی نظر نہیں آتی۔

مجھے یاد ہے جب میں نے حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ جیسے عظیم تابعی اور ہاشمی وراثت کے حقائق پر تحقیق شروع کی، تو مجھے لگا جیسے میں تاریخ کے کسی ایسے صندوق کو کھول رہا ہوں جس پر صدیوں سے گرد جمی ہے۔ میں نے جب ان کے مزار کی بے توقیری دیکھی، جب میں نے دیکھا کہ کیسے اصل تاریخی حقائق کو مسخ کرکے جھوٹی کہانیوں کا تڑکا لگایا جا رہا ہے، تو میرا دل خون کے آنسو رویا۔ لیکن میں اکیلا تھا، میرے پاس کوئی پلیٹ فارم نہیں تھا، کوئی طاقت نہیں تھی، سوائے اس بیٹی کے یقین کے جو مجھے کہتی تھی، "بابا! حق بولیں، چاہے کوئی سنے یا نہ سنے"۔

میری بیٹی مجھے بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا وہ خطبہ یاد دلاتی ہے جو کوفے کے بازاروں اور یزید کے دربارِ جابر میں گونجا تھا۔ وہ کہتی ہے: "بابا! حق کو ایوانوں کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی"۔ بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا وہ خطبہ تاریخ کا پہلا "کالم" تھا جس نے ایک جابر حکمران کے دربار میں اس کے اقتدار کے ستون ہلا دیے تھے۔ آج کے حکمرانوں اور ایڈیٹرز کے پاس شاید اتنی بصیرت نہیں کہ وہ حق کی اس گونج کو سمجھ سکیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی کی آواز بند کر دینے سے تاریخ رک جاتی ہے، مگر تاریخ کا دھارا تو بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے اس صبر اور استقلال سے پھوٹتا ہے جس نے کربلا کے تپتے ریگزاروں کو قیامت تک کے لیے زندہ کر دیا۔ اگر بی بی زینب سلام اللہ علیہا اس وقت خاموش رہ جاتیں، تو آج کربلا کا پیغام ہم تک نہ پہنچتا۔

آج کی بیٹی، جو اپنے باپ کی لکھی تقریر پر میڈل جیت کر اپنی سہیلیوں کو فخر سے بتاتی ہے کہ "یہ میرے بابا نے لکھ کر دیا ہے"، وہی اس معاشرے کی اصل اصلاح کار ہے۔ وہ مجھے سکھاتی ہے کہ اگر ایک دروازہ بند ہو جائے تو رب کے سو دروازے کھلے ہیں۔ میرا قلم، میرے ہاتھ سے نہیں، میری بیٹی کے حوصلے سے چلتا ہے۔ جب میں اداس ہوتا ہوں، جب لگتا ہے کہ اب لکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، تو وہ کربلا کے اس دربار کی یاد دلا دیتی ہے، جہاں ایک تنہا خاتون نے یزید کے تخت کو لرزا دیا تھا۔

میں آج ان تمام "صاحبانِ قلم" کو دعوت دیتا ہوں جو ایئر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اخلاقیات کے درس دیتے ہیں، کہ کبھی سڑکوں پر اتر کر اس معاشرے کا وہ چہرہ دیکھیں جو غربت اور ناانصافی کی وجہ سے کچلا جا رہا ہے۔ میرا قلم غریب ضرور ہے، مگر یہ کسی کا غلام نہیں۔ یہ اس تاریخ کا امین ہے جس پر ہم نے تحقیق کی اور یہ اس حق کا ترجمان ہے جسے دنیا دبانا چاہتی ہے۔

"ڈیلی اردو کالمز" کا شکریہ کہ انہوں نے اس بے آواز آواز کو جگہ دی۔ یہ تحریر صرف الفاظ نہیں، یہ اس معاشرتی زوال کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے جو ہماری رگوں میں زہر کی طرح سرایت کر چکا ہے۔ میری بیٹی میری چیف ایڈیٹر ہے اور میرا قلم میرا ہتھیار۔ میں بولتا رہوں گا، کیونکہ خاموشی اب گناہ ہے۔ یاد رکھیے، تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، اس میں ان ایڈیٹرز کی کرسیوں کا ذکر نہیں ہوگا، بلکہ ان سچے الفاظ کا ذکر ہوگا جو کسی کی بیٹی کے حوصلے سے لکھے گئے۔

Check Also

Dilon Ki Tameer

By Asif Masood