Monday, 09 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Babar Ali
  4. Deeni Madaris Ko Chanda Dena Keisa Hai?

Deeni Madaris Ko Chanda Dena Keisa Hai?

دینی مدارس کو چندہ دینا کیسا ہے؟

فی زمانہ دینی مدارس انڈسٹری کا روپ دھار چکے ہیں۔ دین کی خدمت کی آڑ میں یہ ایک گندہ دھندہ ہے۔ مدرسوں کی دنیا کا ہر فرد اس تلخ حقیقت سے آگاہ ہے۔ جو اس دنیا کے نہیں، مگر مولویوں سے تعلقات یا اپنے شعور کی کوئی بنیاد رکھتے ہیں، وہ بھی کسی حد تک باخبر ہیں۔ باغ سارا جانتا ہے۔ نہیں جانتے تو وہ گُل نہیں جانتے، جو بلاوجہ کا حسنِ ظن رکھتے ہیں اور دوری کے باعث انہیں ککھ پتا نہیں ہوتا ان اہلِ واردات کا۔

یہ دین دار اصل میں دنیا دار ہیں۔ ان کے بنائے ہوئے مدرسے سوائے پیسے بٹورنے کے اور کچھ نہیں۔ دینی مدارس کی باگ ڈور جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہوتی ہے، وہ پرلے سرے کے ہڈ حرام اور آخری درجے کے کام چور ہوتے ہیں۔ ساری زندگی زبان دا کھٹیا ای کھانا ہندا اے ایناں نیں۔ میرے نزدیک یہ فی سبیل اللہ بھکاری ہیں۔ جیسے دروازے پہ آیا کوئی فقیر مانگنے آتا ہے، ایسے ہی یہ لوگوں سے مانگتے پھرتے ہیں۔ فرق دونوں بھکاریوں میں یہ ہے کہ پہلا فقیر بلاواسطہ (ڈائریکٹ) لوگوں سے مانگتا ہے اور یہ بالواسطہ (ان ڈائریکٹ) مانگتے ہیں، یعنی نام مدرسے کا لیتے ہیں، نام دین کی خدمت کا لیتے ہیں، نام مدرسے کے طلبہ کے طعام و قیام اور ان پہ اٹھنے والے اخراجات کا لیتے ہیں، مگر پیسہ خود رکھ لیتے۔

ہیں مدرسے اور طلبہ پہ یہ زیادہ سے زیادہ 10 حصہ لگاتے ہیں۔ بقایا رقم خود ہڑپ کر جاتے ہیں۔ پاکستان میں دینی مدارس کا سسٹم بہت ناکارہ، غلیظ اور خود غرضی پہ مبنی ہو چکا ہے۔ یہ ایک طرح سے مافیا ہے۔ ان کی نظریں ہمہ وقت لوگوں کی جیبوں کا طواف کرتی رہتی ہیں۔ ان جیبوں اور اکاؤنٹس میں پڑا پیسہ نکلوانے کے لیے یہ بہت باریک داؤ پیچ لڑاتے ہیں، بہت گہری واردات کرتے ہیں۔ سب سے بڑا ہتھیار جنت کے لالچ کا ہے۔

ذرا رکیے! یقیناََ انہیں دی گئی یہ مکروہ حیثیت آپ پہ شاق گزر رہی ہے اور آپ خیال کر رہے ہوں گے کہ مدرسوں سے نکلنے والے بچے قاری، حافظ، عالم اور مفتی بنتے ہیں اور ہمیں ماڑا چنگا دین سکھاتے ہیں۔ یہ کیا میں بہکی بہکی باتیں لکھ رہا ہوں۔ آپ کا یہ سوچنا بنتا ہے۔ کیونکہ آپ اور اہل مدارس کے بیچ میں ایک فاصلہ ہے، جو آپ کو حقیقت تک رسائی نہیں دے رہا۔ دور ڈھول بج رہا ہو تو سہانا لگتا ہے، مگر پاس جائیں تو کان پھٹتے ہیں۔

میں اس دنیا کا باسی ہوں اور ہوش سنبھالنے سے پہلے کا ہوں۔ مدرسے میں آنے سے پہلے ہی مسیت سے جڑ گیا تھا۔ مولویوں کی تقریریں سننا آڈیو کیسٹوں میں، میرا من پسند مشغلہ رہا تھا۔ پھر جب کسی مسجد میں رات کو کوئی جلسہ ہوتا، تو اسے بھی سننا مجھ پہ فرض تھا۔ گئے رات واپسی ہوتی۔ پھر جب مدرسے میں داخل ہوا اور 8 سالہ تعلیم پائی اور ایک سال وہاں پڑھایا اور پھر ایک دو دفعہ حفظ کے طلبہ کو پڑھایا، تو مجھ پہ کھلا کہ یہ دنیا ظاہر میں جس قدر روشن نظر آتی ہے، اندر اس سے کہیں زیادہ تاریک ہے۔ ایک دو واقعات پہ اکتفا کرتے ہیں۔

عرب ممالک کے بڑے بڑے شیوخ پاکستان میں ہر سال رمضان کے مہینے میں افطار کرواتے ہیں۔ یہ امرا اہل مدارس کو غریب لوگوں کو روزہ افطار کروانے کے لیے اچھا خاصا فنڈ دیتے ہیں۔ اب یہ بدبخت کرتے یہ ہیں کہ مختلف پارٹیوں سے پیسہ لیتے ہیں اور ایک ہی افطار میں سب پارٹیوں کو مطمئن کر دیتے ہیں۔ تفصیل اس واردات کی یہ ہے کہ وقتِ افطار ایک پارٹی کا بینر لگاتے ہیں اور روزہ داروں اور بینر کی ویڈیو بناتے ہیں۔ پھر وہ بینر اتار کر دوسری پارٹی کا بینر لگا کر ویڈیو بناتے ہیں۔ یوں افطار ایک مگر پیسے ڈبل۔ یہ مکروہ منظر میں ہر سال رمضان کے مہینے میں دیکھا کرتا تھا اپنے مدرسے میں۔

ایک اور واردات بھی ملاحظہ کریں۔ مدرسے میں طلبہ کی جتنی تعداد ہوتی ہے اس سے زیادہ تعداد بتاتے ہیں۔ جھوٹ بولتے وقت ان کی زبانوں پہ ذرا بل نہیں پڑتا۔

۔۔ نام کے ایک بزرگ تھے۔ دینی جلسوں میں اہل حدیث اسے اس لیے بلاتے کہ وہ جلسے کے آخر میں بہت گڑگڑا کر اور رو رو کر دعا مانگتے تھے۔ اپنے زمانۂ طالبِ علمی میں مَیں دیکھتا کہ اسے سالانہ جلسے میں ضرور دعوت دی جاتی۔ پھر رات کی تاریکی میں وہ خود بھی روتے اور سارے مجمع کو بھی رلاتے۔ اس روحانی بزرگ کا اپنا بھی ایک دینی مدرسہ تھا فاروق آباد میں۔ ایک بار ایک عربی شیخ وہاں وزٹ کرنے آیا۔ اس نے طلبہ سے تعداد کا پوچھا، تو یہ روحانی بزرگ اس کی کرسی کے پیچھے کھڑے تھے۔ تعداد 200 ہوگی مگر انھوں نے چار انگلیاں کھڑی کرکے طلبہ کو 400 کا اشارہ دیا۔ اندازہ لگائیں! کام دین کی خدمت کا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی پیسوں کی خاطر جھوٹ بھی بول رہے ہیں۔ یہ کوئی معمولی واردات نہیں اور نہ ہی کوئی غلطی ہے۔ سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت یہ امیروں اور غریبوں سے چندہ لیتے ہیں۔

دینی مدارس کے سسٹم کو سمجھنے اور اہل مدارس کی نیچ فطرت کو جاننے کے لیے یہ ایک بہترین مثال ہے اور اسے چاول کا ایک دانہ سمجھیں۔ اس کے پیچھے پوری دیگ پڑی ہے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ دین کی خدمت کے نام پہ، طلبہ کے نام پہ یہ کس دھڑلے سے جھوٹ بولتے اور حرام کا پیسہ اکٹھا کرتے ہیں۔

آخری بات نوٹ کریں۔ اس میں آپ لوگوں کی ناسمجھداری اور ان کی سمجھداری چھپی ہے۔ جب پاکستان کی تمام مساجد میں ایک کمیٹی بنی ہوتی ہے۔ جسے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں کتنا پیسہ آیا اور کتنا خرچ ہوا، تو مدارس کے لیے شہر کی سطح پہ کوئی کمیٹی کیوں نہیں بنتی، جسے پتہ ہو کہ سالانہ کتنا فنڈ آیا اور خرچ کتنا ہوا۔ یاد رہے! مسجد اور مدرسہ پبلک پراپرٹیز ہیں۔ یہ کوئی ذاتی پراپرٹی نہیں۔ یہ قوم کی اجتماعی ملکیت ہیں۔ کسی کے باپ کی چھوڑی ہوئی جائیداد نہیں کہ بندہ اکیلا ہی قبضہ جما لے۔

یہ ہوش ربا حقیقت بھی جان لیں کہ پاکستان میں سالانہ اربوں روپے امرا اور غربا کی جیبوں سے نکل کر ان مذہبی بھکاریوں کی جیبوں میں جاتے ہیں اور مدارس سے نکلتا کیا ہے؟ فرقہ پرست مولوی، جو سائنس کے بھی دشمن، ملک کے بھی دشمن اور عورت کے بھی دشمن۔ پس خدارا ان بھکاریوں کو اپنے خون پسینے کی کمائی بالکل نہ دیں۔ ورنہ آپ ظالم ٹھہریں گے کہ حق دار کو حق نہیں دیا۔ ان غریبوں کو دیں، جو مستحق ہیں، جن کا کوئی ذریعۂ آمدن نہیں، جو زندگی کی دوڑ سے پیچھے رہ گئے ہیں اور جو لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے۔

Check Also

Mazahmat Ki Daldal Mein Phansta Hathi

By Abdul Hannan Raja