Monday, 09 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Hafeez Babar
  4. Mard Tanhai Mein Aurat Ke Paun Kyun Choomta Hai?

Mard Tanhai Mein Aurat Ke Paun Kyun Choomta Hai?

مرد تنہائی میں عورت کے پاؤں کیوں چومتا ہے؟

آج کل سوشل میڈیا پر مخصوص طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین ایک خاص نکتے کا پرچار کرتی نظر آتی ہیں کہ: "مرد کتنا منافق ہے، جو سرِ عام عورت کو بدکردار کہتا ہے مگر تنہائی میں اسی کے پاؤں چومتا ہے"۔ بہت سی کم علم خواتین، جو معاشرے کے تلخ رویوں سے پہلے ہی بیزار ہوتی ہیں، اس طرح کی تحریروں کو بغیر سوچے سمجھے سراہتی ہیں کیونکہ یہ ان کے غصے کو زبان دیتی ہیں۔ اس نظریے کا بنیادی مقصد مرد کو "منافقت کا پلندہ" ثابت کرنا ہے۔ تاہم، حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ سوچ انسانی جبلت اور نفسیات کے پیچیدہ نظام کو نظر انداز کرنے والی ایک انتہا پسندانہ فکر ہے۔ ذیل میں اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا گیا ہے۔

1۔ حیاتیاتی حقیقت اور اخلاقی معیار کا فرق

انسانی وجود میں جنسی خواہش ایک طاقتور فطری محرک ہے۔ مردوں میں حیاتیاتی طور پر بعض ہارمونز (جیسے ٹیسٹوسٹیرون) انہیں بصری محرکات اور فوری ردِعمل کی طرف مائل کرتے ہیں۔ جب ایک مرد کسی عورت کے کردار پر تنقید کرتا ہے، تو وہ ایک "سماجی وجود" کے طور پر اپنا اخلاقی فیصلہ دے رہا ہوتا ہے، لیکن جب وہ تنہائی میں رغبت کا اظہار کرتا ہے، تو وہ اپنے "حیاتیاتی وجود" کی فطری ضرورت کے تحت عمل کر رہا ہوتا ہے۔ یہ منافقت نہیں بلکہ انسانی شخصیت کی دو مختلف جہتیں ہیں۔ ایک پہلو سماجی اقدار کا علمبردار ہے اور دوسرا فطری جبلت کا پابند۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کی ضد قرار دینا انسانی فطرت کی نفی ہے۔

2۔ سماجی دفاعی نظام اور عورت کا نفسیاتی ردِعمل

معاشرے میں جب ہم کسی کے لیے "بدکردار" کا لفظ استعمال کرتے ہیں، تو یہ دراصل معاشرے کا اپنا ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے وہ اخلاقی قدروں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ایک قسم کی "سماجی باڑ" ہے تاکہ حدود قائم رہیں۔

دوسری طرف، جب کوئی عورت یہ کہتی ہے کہ "مرد مجھے برا کہنے کے باوجود میرا محتاج ہے" تو یہ اس کی اپنی سوچ کا ایک دفاعی انداز ہے۔ وہ اس جملے کے ذریعے اپنی تکلیف کو کم کرنے اور خود کو طاقتور محسوس کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر مرد جو کسی برائی پر تنقید کرے وہ منافق ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی تنقید اس کے اخلاقی اصولوں کی وجہ سے ہو اور اس کی رغبت یا کشش اس کی فطری انسانی ضرورت ہو۔ انسان کے اصول اور اس کی خواہشات دو الگ چیزیں ہیں جو ایک ہی وقت میں اس کے اندر موجود ہو سکتی ہیں۔ انسان کا دہرا رویہ ہمیشہ بدنیتی پر مبنی نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہ اس کے مضبوط ضمیر اور کمزور جبلت کے درمیان ہونے والی وہ جنگ ہے جس میں وہ خود بھی تقسیم ہو چکا ہوتا ہے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انسان ہمیشہ ایک مکمل اکائی (یونٹ) نہیں ہوتا، بلکہ وہ تضادات کا مجموعہ ہے۔ جب معاشرہ کسی کو "برا" کہتا ہے تو وہ اپنی اخلاقی بقا کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے اور جب وہی معاشرہ اسی برائی کی طرف کھینچتا ہے تو وہ اپنی انسانی کمزوری کے ہاتھوں مجبور ہوتا ہے۔ لہٰذا، کسی کے قول اور فعل کا یہ ٹکراؤ ہمیشہ "منافقت" نہیں بلکہ انسانی روح کے اندر جاری اصول اور جبلت کے اس دائمی تصادم کا عکس ہے جسے ہم زندگی کہتے ہیں۔

3۔ فرائیڈ کا نفسیاتی زاویہ: انا اور جبلت کا توازن

نفسیاتی طور پر انسانی ذہن تین حصوں میں تقسیم ہے:

لاشعوری جبلت (اڈ) جو اچھے برے کی تمیز کے بغیر فوری تسکین چاہتی ہے۔

فوق الانا (سپر ایگو) جو معاشرتی اخلاقیات اور ضابطوں کا سخت گیر پہرے دار ہے۔

انا (ایگو) جو ان دونوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

جب مرد معاشرے میں تنقید کرتا ہے تو اس کا فوق الانا (سپر ایگو) متحرک ہوتا ہے اور تنہائی میں اس کی جبلت (اڈ) غالب آ جاتی ہے۔ یہ تضاد صرف مرد تک محدود نہیں، عورتیں بھی اکثر ان مردوں کی طرف لاشعوری طور پر مائل ہوتی ہیں جنہیں وہ سماجی طور پر "ناپسندیدہ" قرار دیتی ہیں۔ لہٰذا، اس انسانی تضاد کو صرف مرد سے منسوب کرنا صنفی تعصب ہے۔

یہ نفسیاتی کشمکش دراصل انسانی روح کا وہ المیہ ہے جہاں "اخلاقی آئیڈیلزم" اور "حیاتیاتی سچائی" ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ جب ہم کسی کو برا کہتے ہیں، تو وہ ہماری سپر ایگو کی آواز ہوتی ہے جو معاشرے میں معتبر ٹھہرنا چاہتی ہے، مگر وہی "برائی" جب ہمیں اپنی جانب کھینچتی ہے، تو وہ ہماری (اڈ) کی وہ قدیم پکار ہوتی ہے جسے تہذیب کے پردے کبھی پوری طرح خاموش نہیں کر سکے۔ یہ تضاد کسی ایک صنف کی "منافقت" نہیں، بلکہ انسانی فطرت کی وہ داخلی تقسیم ہے جس میں ہم سب، مرد ہوں یا عورت، برابر کے شریک ہیں۔

4۔ درپردہ ذیلی مقاصد اور جنسی ناآسودگی

مرد کی خلوت نشینی، اس کے تضادات اور جنسی شدت کو ڈھٹائی یا مبالغہ آرائی سے بیان کرنے کے پیچھے محض سماجی اصلاح کا جذبہ نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے گہری نفسیاتی محرومیاں اور انا کی تسکین کے تین بڑے مقاصد ہو سکتے ہیں:

(الف) مردوں کی تحقیر: انہیں اخلاقی طور پر گرا ہوا ثابت کرکے اپنی برتری کا احساس حاصل کرنا۔

اس رویے کا مقصد اپنی پاکیزگی کا بھرم قائم رکھنے کے لیے دوسرے فریق کو مستقل "مجرم" کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے۔ جب ایک عورت یا معاشرے کا کوئی بھی طبقہ دوسرے کو اخلاقی طور پر پست ثابت کرتا ہے، تو اسے لاشعوری طور پر اپنی اخلاقی برتری کا ایک جھوٹا احساس ملتا ہے، جو اسے اپنی خامیاں چھپانے میں مدد دیتا ہے۔

(ب)مظلومیت کا بیانیہ: خود کو ہمیشہ "محکوم" ظاہر کرنا۔

حقیقت یہ ہے کہ جہاں عورت مظلوم ہے، وہاں کئی مقامات پر مرد بھی عورت کی سرد مہری اور ذہنی ظلم کا شکار ہوتا ہے، جسے معاشرہ نظر انداز کر دیتا ہے۔ مظلومیت کا یہ یکطرفہ بیانیہ دراصل ایک سماجی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ تمام تر ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں اور رشتے میں موجود اپنی غلطیوں یا کوتاہیوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔ یہ توازن سے عاری سوچ معاشرے میں صنفِ آہن کے جائز دکھوں کو بھی تمسخر کا نشانہ بنا دیتی ہے۔

(ج) الفاظ کی حدت سے تسکین: جنسی ناآسودگی کو الفاظ کی تپش کے ذریعے پورا کرنا۔

ہمارے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کی جانب سے ایسی تحریریں شیئر کرنا دراصل اپنی جنسی ناآسودگی کو الفاظ کی تپش کے ذریعے لاشعوری طور پر پورا کرنے کی ایک ناکام کوشش ہوتی ہے۔ جب براہِ راست اظہار پر پابندیاں ہوں، تو الفاظ اور "بولڈ" جملے ایک نفسیاتی ریلیف کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ یہ جملے دراصل اس محرومی کی چیخ ہوتے ہیں جسے انسان تہذیب کے دائرے میں رہ کر تسلیم کرنے سے ڈرتا ہے، اس لیے وہ تنقید کے پردے میں اسی لذت کا ذائقہ چکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صحت مند معاشرہ وہی ہے جہاں تنقید صنف کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار کی بنیاد پر ہو۔ جب تک ہم ایک دوسرے کو صرف "جبلت کا غلام" یا "مظلومیت کا پیکر" ثابت کرتے رہیں گے، ہم انسان کو اس کی مکمل روح کے ساتھ کبھی نہیں سمجھ پائیں گے۔

5۔ انفرادی رجحانات بمقابلہ عمومی بہتان

ہر انسان کی زندگی، اس کی سوچ اور اس کی خواہشات اس کے ماحول، تعلیم اور اس پر لگی پابندیوں کے مطابق بنتی ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ جو کچھ ایک شخص کے ساتھ ہو رہا ہے، وہی پوری دنیا کا سچ ہو۔ ممکن ہے کہ جو خواتین اس طرح کی باتیں کر رہی ہیں، ان کا واسطہ صرف ایک خاص قسم کے مردوں یا مخصوص حالات سے پڑا ہو۔ وہ اپنے اسی محدود تجربے کو پوری دنیا کے مردوں پر فٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو کہ حقیقت کے خلاف ہے۔ اگر کل کو مرد بھی اسی طرح عورتوں کی مخصوص کمزوریوں یا تضادات کا مذاق اڑانا شروع کر دیں، تو یہ ایک دوسرے کی عزت اچھالنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اس طرح کی روش اختیار کرنا ایک دوسرے کے کپڑے اتار کر ننگا کرنے کے برابر ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کو عزت نہیں دے سکتے، تو ایک دوسرے کی عزتیں نیلام کرنے سے ہماری آئندہ نسل پر بہت برا اثر پڑے گا۔

چنانچہ کسی خاص قسم کی سوچ رکھنے والے مردوں کی عجیب و غریب عادات (جیسے پاؤں چومنا وغیرہ) کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ "سارے مرد ہی ایسے ہیں"، ایک بڑی فکری بددیانتی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی ایک گندے مچھیرے کو دیکھ کر پورے سمندر کو گندا قرار دے دیا جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ انسانی کردار رنگوں کی طرح متنوع ہوتا ہے۔ اسے صرف "سیاہ یا سفید" کے خانوں میں تقسیم کرنا ناانصافی ہے۔ جب ہم کسی ایک فرد کے برے فعل کو پوری صنف کا لیبل بنا دیتے ہیں، تو ہم دراصل ان باکردار اور مہذب مردوں کی توہین کرتے ہیں جو خاموشی سے معاشرے کی اخلاقی بنیادیں تھامے ہوئے ہیں۔

اور ایک اہم بات بھی ذہن نشین کرلیں کہ جنسی عمل کی تفصیلات دو لوگوں (مرد و عورت) کے درمیاں ذاتی نوعیت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کو کیا پسند ہے اور کیا نہیں، ان کے مزاج میں جنسی عمل کے دوران کتنی گرمجوشی موجود ہے یا وہ سرد مہری کا شکار ہیں، یہ ہر کسی کی اپنی اپنی طبیعت پر منحصر ہوتا ہے۔ جہاں ایسی خواتین ملیں گی جو اس عمل سے بیزار ہوں گی یا اس کے نتیجے میں جسمانی و ذہنی اذیت برداشت کرتی ہوں گی، وہاں ایسے مرد بھی ملیں گے جو اپنی شریکِ حیات کی خواہشات پر پورا نہیں اترتے۔ لہٰذا، ان کی خلوت کی چیزیں جلوت میں منظرِ عام پر لانا صنفی نفرت کو بڑھاوا دے سکتا ہے۔

6۔ محبت اور وقار کا غلط تصور

محبت میں سرِ تسلیمِ خم کرنا کسی "جنگ میں شکست" نہیں، بلکہ ایک ایسی روحانی سپردگی ہے جو صرف ایک بڑا ظرف رکھنے والا انسان ہی کر سکتا ہے۔ جب ہم جذباتی والہانہ پن کو "غلامی" یا "پستی"سے تعبیر کرتے ہیں، تو ہم دراصل اس پاکیزہ رشتے سے وہ مقدس مٹھاس چھین لیتے ہیں جو صرف بے غرض جھک جانے ہی سے میسر آتی ہے۔ رشتوں کو انا (ایگو)کے پیمانے سے نہیں، بلکہ دل کی وسعت سے ناپا جانا چاہیے، کیونکہ جہاں حساب کتاب شروع ہو جائے وہاں سے محبت رخصت ہو جاتی ہے۔

حتمی نتیجہ:

مرد ہوں یا عورت، ہم سب تضادات سے بھرے ہوئے ہیں۔ اگر مرد کی کہی ہوئی بات اور اس کے کام میں فرق ہوتا ہے، تو عورت کی خاموشی کے پیچھے بھی کئی ایسی خواہشات ہوتی ہیں جو وہ ظاہر نہیں کرتی۔ اصل ترقی یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھائیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے تعلق کو "جنگ" سمجھنے کے بجائے "سکون" کا ذریعہ بنائیں۔ ہمیں انسانوں کو "بدکردار" یا "کمزور" جیسے نام دے کر پرکھنا چھوڑ دینا چاہیے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کا اپنی فطرت اور اصولوں کے درمیان کشمکش میں رہنا ہی اس کی اصل پہچان ہے، لیکن اس کشمکش کو ایک دوسرے کی بے عزتی کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی خواہشات اور سماجی ذمہ داریوں میں توازن رکھے اور عورت کو بھی چاہیے کہ وہ مرد کی فطری رغبت کو اس کی اخلاقی کمزوری نہ سمجھے بلکہ اسے ایک انسانی ضرورت کے طور پر قبول کرے۔ جب ہم تعصب سے پاک ہو کر دیکھیں گے تو سمجھ آئے گا کہ محبت میں جھکنا یا اظہارِ نیاز کرنا غلامی نہیں، بلکہ وہ شدتِ جذبات ہے جو دو لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔

ایک اچھا رشتہ وہ ہے جہاں نہ کوئی شکاری ہو اور نہ کوئی شکار، نہ کوئی ظالم ہو اور نہ کوئی مظلوم۔ بلکہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ سے دلی سکون پائیں۔ رشتوں کی بنیاد ایک دوسرے کو ہرانے پر نہیں بلکہ ایک دوسرے کی عزت کرنے اور سچائی پر ہونی چاہیے۔ جب تک ہم ایک دوسرے کو "ادھورا" سمجھ کر طنز کرنے کے بجائے "تکمیل" کا ذریعہ نہیں سمجھیں گے، یہ ذہنی اور سماجی جنگ ختم نہیں ہوگی۔

رشتہ دو اناؤں کا ٹکراؤ نہیں بلکہ دو روحوں کا ملاپ ہونا چاہیے، جہاں فتح اس کی نہیں ہوتی جو دوسرے کو جھکا دے، بلکہ اس کی ہوتی ہے جو دوسرے کو سمیٹ لے۔ جس دن ہم نے ایک دوسرے کی فطرت کو دشمن کے بجائے دوست تسلیم کر لیا، اسی دن ہمارے سماجی تضادات، رشتوں کی خوبصورتی میں بدل جائیں گے۔

Check Also

Mard Tanhai Mein Aurat Ke Paun Kyun Choomta Hai?

By Hafeez Babar