Monday, 08 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kiran Arzoo Nadeem
  4. Israel Ko Tasleem Karne Ke Mutaliq Pakistani Poicy

Israel Ko Tasleem Karne Ke Mutaliq Pakistani Poicy

اسرائیل کو تسلیم کرنے کے متعلق پاکستانی پالیسی

دنیا میں اس وقت میکیاؤلی سیاست ہی کا راج ہے۔ دی پرنس (The prince) میکیاؤلی سیاست کا صحیفہ ہے اس میں میکیاؤلی لکھتا ہے: "بادشاہی کے لئے صفت روباہی نہایت ضروری ہے تاکہ وہ دجل و فریب کے جال بچھا سکے۔ اس کے ساتھ خوئے شیری بھی تاکہ وہ بھیڑیوں کو خائف رکھ سکے۔ صرف شیر کی قوت کافی نہیں اس لئے عقل مند بادشاہ وہ ہے کہ جب دیکھے کہ کوئی عہد یا معاہدہ اس کے اپنے مفاد کے خلاف جاتا ہے یا جن وجوہات کے پیش نظر معاہدہ کیا تھا وہ باقی نہیں رہیں، تو اسے بلا تامل توڑ ڈالے لیکن یہ بھی ضروری کہ اس قسم کی عہد شکنی کے لئے نہایت نگاہ فریب دلائل بہم پہنچائے جائیں۔

امریکہ میکیاؤلی سیاست پر اب تک عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے متعلق پاکستان کی پالیسی پہلے دن سے لے کر آج تک ایک جیسی رہی ہے۔ پاکستان نے اسرائیل کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا اور آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کی ہے۔ 1948 میں اسرائیل قائم ہوا اور پاکستان نے اسیے تسلیم نہیں کیا۔ قائداعظم نے بھی فلسطینی عربوں کی حمایت کی۔ پرویز مشرف کے دور میں پاکستان اور اسرائیلی وزرائے خارجہ کے درمیان کھلی بخث ہوئی جس کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

موجودہ دور میں بھی پاکستان کی سرکاری پالیسی یہ ہے کہ اسرائیل کو اس وقت تک تسلیم نہیں کیا جائے گا جب تک فلسطینیوں کے حقوق اور دو ریاستی حل (two state solution) کے مطابق ایک فلسطینی ریاست کا قابل قبول حل سامنے نہیں آ جاتا۔

آج کل یہ بحث بہت زیادہ ہے جس کے مطابق امریکہ مسلم ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات مثبت چاہتا ہے جسے (Abraham Accords) کہا جاتا ہے۔

پاکستان نے Abraham Accords پر دستحط کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس سے پہلے غزہ میں فوج بھیجنے سے متعلق بھی پاکستان نے انکار کر دیا تھا۔ ایران کے خلاف اپنی سر زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ان انکار کے بعد پاکستان معاشی بحران کا شکار ہے۔ لیکن ہم نے باطل پر سمجھوتا نہیں۔

فلسطینیوں پر کئے گئے مظالم کی انتہا ہوگئی ہے۔ ظلم جس کسی انسان کے ساتھ ہو چاہے وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔ غلط ہے اور دین اسلام میں تو ظلم کو روکنے کے لئے جنگ تک کی اجازت دی گئی ہے اور اس سلسلے میں تمام انسان برابر ہیں چاہیے وہ کسی اور مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔

ظلم چاہے جشمیر میں ہو چاہے دنیا کے کسی بھی حصے میں ظلم ہے۔

مومن تو اللہ کے حکم کے آگے "مجبور" ہے۔ میں دنیا کی نظر میں "مجبور" کا لفظ استعمال کر رہی ہوں۔ مومن تو دل و جان سے اللہ کے حکم کے آگے سر جھکا دیتا ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ "ظلم کو روکو"۔ اگر ساری دنیا دو اور دو چھ کہہ رہی ہو تو دو اور دو چار ہی ہوتے ہیں وہ چھ ہر گز نہیں ہو سکتے۔

اگر مومن کو مفاہمت کے لئے آمادہ کیا جائے کہ یہ تسلیم کر لیا جائے کہ دو اور دو پانچ ہوتے ہیں تو جو یہ کہہ رہا تھا کہ دو اور دو چھ ہوتے ہیں، وہ تو پہلے بھی غلط تھا اور اب غلط ہے، اس کا تو کچھ نہیں بگڑا اور جو دو اور دو چار کہہ رہا تھا وہ حق پر تھا اگر وہ دو اور دو پانچ تسلیم کر لییتا ہے تو اس کا تو کچھ باقی نہیں رہتا، وہ حق چھوڑ کر باطل ہر آ گیا۔

حق حق ہوتا ہے اٹل ہوتا ہے۔ چٹان کی طرح مستحکم ہوتا ہے۔

علامہ اقبال کی نظم "سلطان ٹیپو کی وصیت" کے اشعار ہیں:

تو رہ نورد شوق ہے منزل نہ کر قبول
لیلی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول

باطل دوئی پسند ہے، حق لا شریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول

Check Also

Israel Ko Tasleem Karne Ke Mutaliq Pakistani Poicy

By Kiran Arzoo Nadeem