Zahoor e Muhabbat Ki Alamat
ظہورِ محبت کی علامات

لاکھوں کروڑوں درود و سلام آپ سرکار ﷺ کی ذاتِ اقدس پر۔
جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ محبت عطا ہے، اِس میں ذاتی کوشش شامل نہیں ہوتی، ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ کوشش کریں اپنے باطن کو صاف کرنے کی اور دعا کریں، جنہیں محبتیں عطا ہو چکی ہیں اُن کے قریب رہیں، انہیں دیکھیں، کہتے ہیں کہ رحمت والوں کے قریب ہونے سے ایک آدھ قطرہ رحمت کا مل ہی جاتا ہے۔
یار لوگ پوچھتے ہیں جی محبت عطا ہے تو جن کو محبت عطا ہو جاتی ہے اُس کی کیا ظاہری نشانیاں ہیں۔ ایک انسان کو جب محبت عطا ہوتی ہے پہلی بات جو اُس کے باطن پر اترتی ہے وہ ہے خاموشی، چپ سی لگ جاتی ہے، ظاہری طور پر انسان خاموش ہو جاتا ہے، کیونکہ ظاہری خاموشی ہوگی تو پھر ہی باطن میں آواز پڑے گی۔
دوسری بات دل گداز ہو جاتا ہے احساسات بڑھ جاتے ہے۔ کسی اور کا درد و غم سنتے ہوئے بے اختیار آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں۔ وجود پر محبت کا ظہور کسی کے ساتھ نسبت سے ہوتا ہے، تعلق سے ہوتا ہے اور جس کے ساتھ نسبت ہو جائے اُس کا ذکر کرتے ہوئے یا ذکر سنتے ہوئے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
محبتوں والوں کے خیال ایک بڑے خیال کے تابع ہو جاتے ہیں اور وہ بڑا خیال محبوب کا ہوتا ہے۔ محبت عطا ہو چکی ہے تو دنیا سے بے رغبتی لازم ہے۔ ظاہری طور پر تو محب دنیا کر رہا ہوتا ہے لیکن دل دنیا سے اُٹھ چکا ہوتا ہے۔ یہ ایک دردناک مرحلہ ہے۔ ابتدا میں ایک بے کلی ایک بے چینی وجود میں در آتی ہے، سوتے ہوئے اچانک آنکھ کھل جاتی ہے اور پھر ذہن خیال میں گم ہو جاتا ہے۔ محبتوں والوں کی نیند کم ہو جاتی ہے، بھوک کم ہو جاتی ہے، عین ممکن ہے کہ ڈپریشن حاوی ہو جائے لیکن یہ وقتی طور پر ہوتا ہے۔
محب اپنے باطن پر کام شروع کر دیتا ہے اور جو دنیاوی الائشیں دنیا کرتے کرتے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں اُن سے چھٹکارا پانے کی کوشش میں مصروف ہو جاتا ہے۔ محبت میں آنسو عطا ہونا ایک فطری عمل ہے بزرگ فرماتے ہیں کہ آنسو عطا ہو گئے ہیں تو آدھا کام تو ہو چکا آنسوؤں کو تہجد میں لے جائیں تاکہ محبوب کی مزید قربت نصیب ہو۔ محبت انعام ہے رب کریم کی طرف سے، حضرت واصف علی واصفؒ سرکار سے کسی نے پوچھا کہ جی رب کریم کا انعام کیا ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ حضور اکرم ﷺ کی محبت اللہ تعالی کا انعام ہے۔ محبت والے رات کی تاریکیوں میں روتے ہیں اور دن میں انسانوں کے کام آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جو بھی عطائیں، صلاحیتیں اللہ تبارک و تعالی ودیعت کرتے ہیں اُن کو انسانوں کی فلاح کے لیے بروئے کار لانے کی کوشش میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
اگر آپ کو یہ مقام نصیب ہو چکا ہے تو دعا کریں کہ اللہ تبارک و تعالی دین کا کوئی کام آپ سے لے لیں۔ سچا محب زندگی سے بیزار ہوتا ہے اور موت کی تمنا کرتا ہے، موت کے انتظار میں ہوتا ہے کیونکہ ظاہری حیات کی موت دراصل وصال ہے محبوب کا۔ ہمہ حال محبوب کا انتظار رہتا ہے۔ دیدار کا انتظار رہتا ہے اور انتظار محبوب کا حصہ ہے۔ محبوب خود بھی انتظار میں ہوتا ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ محبت یک طرفہ ہو کیونکہ یہ اگر عطا ہے تو پھر انتظار دو طرفہ ہوتا ہے۔ آپ یاد کریں گے تو محبوب بھی یاد کرے گا یہ ایک راز ہے جو بزرگ بتا گئے ہیں۔ سچی محبتیں ہمیشہ رابطے میں رہتی ہیں نہیں ہو سکتا کہ محبت عطا ہو جائے اور رابطہ نہ ہو۔
دولت سے محبت کم ہو جاتی ہے۔ ظاہری رزق کم ہو جاتا ہے۔ لیکن خیال کا رزق بڑھ جاتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے انعامات اور عطائیں ہمیشہ کے لیے ہوتی ہیں ایک دفعہ عطا کر دینے کے بعد واپس نہیں لی جاتی ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ وقتی طور پر اُن پہ زمانے کی گرد پڑ جائے۔ وقتی طور پر دنیاوی کام آگے آ جائیں لیکن محبت کبھی بھی وجود سے ختم نہیں ہوتی۔ ہمیشہ وجود کا حصہ رہتی ہے۔ اگر آپ کو محبت عطا ہو چکی ہے تو پھر محبت میں سفر لازمی ہے اس کو بڑھانا چاہیے۔
مشاہدات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ارد گرد کے عام واقعات معجزات نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں، جیسے پھول کا کھلنا، ایک بیج کا درخت بن جانا، ایک بیچ میں لاکھوں درختوں کا دیکھنا۔ کلی کا کھلنا اور سورج کا طلوع و غروب دونوں ایک ہی طرح کے بڑے واقعات ہیں، دونوں میں ہی اللہ تبارک و تعالی کی مشیت اور کبریائی نظر آنی شروع ہو جاتی ہے۔ قرآنِ کریم کے حرف اشکال بنانا شروع کر دیتے ہیں، احادیث کی معرفت کھلنی شروع ہو جاتی ہے۔ انسانوں کے ساتھ حسن سلوک وجود میں در آتا ہے۔ احساسات کی دنیا عطا ہوتی ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ کمزور دل حضرات یہ عمل برداشت نہ کر سکیں اور طبیعت بھاری رہے۔ وقتی طور پر ایک بوجھ دل پر محسوس ہو اسی لیے ایک محرم راز کا ہونا ضروری ہے جس کی نسبت اور بیعت آپ کو اِس سفر میں آسانی عطا کرتی ہے۔
تاریخ میں ایسے واقعات گزرے ہیں کہ ایک بزرگ کسی مزار پر گئے اور وہاں پہ کسی نے کوئی شعر پڑھا اور وہ اُس کلام کی تاب نہ لا سکے اور وہیں وِصال فرما گئے۔ بعض اوقات پتہ نہیں چلتا کہ محبت عطا ہو رہی ہے اس لیے انسان ڈپریشن میں جا سکتا ہے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کسی مرشد کی نسبت اور اطاعت ضروری ہوتی ہے تاکہ اِن انعامات کو پہچانا جا سکے اور اُن کی وساطت سے آگے مشاہدات کا سفر کیا جا سکے۔
اللہ پاک آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

