Monday, 08 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Karvan e Khaak, Taj o Kafan Ke Darmiyan

Karvan e Khaak, Taj o Kafan Ke Darmiyan

کاروانِ خاک، تاج و کفن کے درمیان

انسانی معاشرے کی درجہ بندی صدیوں سے دولت، حسب و نسب، اقتدار اور ظاہری مرتبے کی بنیاد پر ہوتی رہی ہے۔ کسی کو امیر کہا گیا، کسی کو غریب، کوئی اعلیٰ خاندان کا فرد ٹھہرا، کوئی ادنیٰ طبقے سے وابستہ سمجھا گیا۔ مگر اگر انسان اپنے ظاہری تفاخر سے اوپر اٹھ کر حقیقت کی آنکھ سے دنیا کو دیکھے تو اسے معلوم ہوگا کہ یہ تمام تقسیمیں نہایت عارضی، سطحی اور فریبِ نظر ہیں۔ انسانوں کے درمیان اصل رشتہ نہ دولت کا ہے، نہ مقام کا، بلکہ ان دکھوں، کمزوریوں اور آزمائشوں کا ہے جو سب کو یکساں طور پر اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہیں۔

اگر ایک نئی انسانی درجہ بندی قائم کرنی ہو تو اس کی پہلی بنیاد رنج و غم اور دکھ کو بنایا جانا چاہیے۔ دنیا کے ہر گوشے میں ایسے دل موجود ہیں جو کسی اپنے کی جدائی میں ٹوٹ چکے ہیں۔ کوئی عالی شان محل میں بیٹھا اپنے عزیز کی یاد میں آنسو بہا رہا ہے اور کوئی مٹی کے گھر میں خاموشی سے غم کی چادر اوڑھے ہوئے ہے۔ کسی کے سوگ کے لباس قیمتی ریشم کے ہیں، کسی کا کھردرا کپڑا ہے، مگر دلوں کی ویرانی سب کی ایک جیسی ہے۔ غم انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں امارت اور غربت کی تمام دیواریں گر جاتی ہیں، کیونکہ دکھ کی زبان سب کے لیے ایک ہی ہوتی ہے۔

دوسری درجہ بندی بیماری کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ بیماری انسان کو اس کی بے بسی کا احساس دلاتی ہے۔ جب جسم درد میں مبتلا ہوتا ہے تو نہ دنیا کے بہترین و آرامدہ لگژری بستر سکون دے پاتے ہیں اور نہ سنگِ مرمر کی عمارتیں تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔ ایک ہی مرض میں مبتلا دو انسان، خواہ ایک یورپ و امریک کے اعلی اور مہنگے ترین اسپتال میں زیرِ علاج ہو اور دوسرا ہماری کسی سرکاری ہسپتال کے بوسیدہ بستر پر، درحقیقت ایک ہی تجربے سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ بیماری انسان کو یاد دلاتی ہے کہ جسمانی طاقت، حسن، جوانی اور غرور سب عارضی ہیں اور انسان بنیادی طور پر ایک محتاج و فانی مخلوق ہے۔

تیسری اور شاید سب سے گہری درجہ بندی اخلاقی کمزوریوں کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ دنیا میں بہت سے لوگ اپنے جرائم کے سبب قید خانوں میں ہیں، جبکہ بہت سے ایسے بھی ہیں جو عزت و وقار کے پردوں میں چھپے ہوئے انہی کمزوریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی کا گناہ ظاہر ہوگیا اور کسی کا پوشیدہ رہ گیا۔ انسان اکثر دوسروں کے کردار پر فیصلہ صادر کرتا ہے، مگر اپنے باطن کی تاریکیوں کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ اگر ہر شخص اپنے اندر جھانکے تو شاید اسے معلوم ہو کہ کوئی بھی مکمل پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

یوں غور کیا جائے تو پوری انسانیت ایک عظیم مشترک تقدیر میں بندھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ہر انسان یا تو کسی غم سے گزر رہا ہے، کسی بیماری سے لڑ رہا ہے، یا اپنی کسی اخلاقی کمزوری کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے اور اگر کوئی شخص خود کو ان سب سے محفوظ سمجھ بھی لے، تب بھی ایک حقیقت ایسی ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔۔ موت۔

موت وہ عظیم مساوات ہے جو بادشاہ اور فقیر، عالم اور جاہل، طاقتور اور کمزور سب کو ایک ہی دروازے سے گزارتی ہے۔ وہ انسان کے تمام ظاہری امتیازات مٹا دیتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ آخرکار سب ایک ہی راہ کے مسافر ہیں، سب کا ایک ہی انجام ہے۔ اسی حقیقت کو قرآنِ کریم نے نہایت جامع اور ابدی انداز میں بیان فرمایا ہے:

"كُلُّ نَفُسٍ ذَائِقَةُ الُمَوُتِ"

یعنی "ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے"۔

یہ مختصر مگر عظیم اعلان انسان کے تمام غرور، تفاخر اور مصنوعی تقسیمات کو ایک لمحے میں بے معنی بنا دیتا ہے۔ جب انجام سب کا ایک ہے، تو پھر انسانوں کے درمیان اصل رشتہ رحم، ہمدردی، عاجزی اور مشترک انسانیت کا ہونا چاہیے، نہ کہ برتری، تکبر اور تفریق کا۔

شاید انسانیت کی حقیقی عظمت اسی دن شروع ہوگی جب لوگ ایک دوسرے کو لباس، دولت، نسل اور مرتبے سے نہیں، بلکہ مشترک انسانی تجربات کی روشنی میں پہچاننا سیکھ لیں گے۔

Check Also

Karvan e Khaak, Taj o Kafan Ke Darmiyan

By Aftab Alam