Mehanga Petrol, Sasti Siasat
مہنگا پٹرول، سستی سیاست

ہم برسوں سے یہ سنتے آئے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں پانی کی قلت عالمی جنگوں کا سبب بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں، گلیشئیرز کے تیزی سے پگھلنے اور بے تحاشا آبادی میں اضافے کی وجہ سے پانی مستقبل کا سب سے بڑا تنازع بن سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ پانی پر ہونے والی جنگیں ہم اپنی زندگی میں دیکھیں یا نہ دیکھیں، مگر ایک حقیقت یہ ہے کہ تیل پر قبضے کی جنگیں ہماری آنکھوں کے سامنے دہائیوں سے جاری ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ اس کی واضح مثال ہے جہاں جمہوریت اور آزادی کے نام پر ایسی مہمات چلائی گئیں جنہوں نے کئی ریاستوں کی بنیادیں ہلا دیں۔ بعض ممالک پر براہِ راست جنگ مسلط کی گئی، جبکہ کچھ ریاستوں کو معاشی پابندیوں کے ذریعے دباؤ میں رکھا گیا۔ روس، ایران اور وینزویلا جیسے ممالک پر پابندیوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں توانائی کے وسائل عالمی سیاست کا اہم ہتھیار بنے۔
دوسری جانب پاکستانی عوام عالمی طاقتوں کے براہِ راست غضب سے تو کسی حد تک محفوظ رہی، مگر بدقسمتی سے انہیں اکثر اپنی ہی حکومتوں کی معاشی پالیسیوں کے اثرات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ حال ہی میں وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں یکمشت پچپن روپے اضافے نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا۔ سوشل میڈیا پر بیانات، ویڈیوز اور تبصروں کا ایک طوفان برپا ہوگیا۔ حکومتی مخالفین نے موجودہ حکمرانوں کی وہ پرانی تقاریر اور ویڈیوز شیئر کرنا شروع کردیں جن میں وہ ماضی کی حکومتوں کو پٹرول کی قیمتیں بڑھانے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔ دوسری جانب حکومت کے حامیوں نے اپوزیشن رہنماؤں کی ایسی ہی ویڈیوز نکال کر پیش کیں جن میں وہ اپنے دورِ حکومت میں قیمتوں میں اضافے کو ناگزیر قرار دیتے دکھائی دیتے تھے۔ پاکستان میں بظاہر پٹرول مہنگا ہوچکا مگر سیاست ابھی بھی انتہائی سستی ہے۔
ہمارے سیاستدان جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے لیے معاشی مجبوریوں اور قومی خسارے جیسے دلائل پیش کرتے ہیں۔ مگر جیسے ہی وہ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو یہی اضافہ انہیں عوام دشمنی اور نااہلی کی علامت نظر آنے لگتا ہے۔ اگر گزشتہ پچیس برسوں کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہی تضاد بار بار سامنے آتا ہے۔
اقتدار میں بیٹھا ہر رہنما کہتا ہے کہ اگر پٹرول کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں تو قومی خزانے پر ناقابلِ برداشت بوجھ پڑ جائے گا اور معیشت تباہی کی طرف چلی جائے گی۔ مگر اپوزیشن میں بیٹھا ہر رہنما ایسے فیصلوں کو عوام پر"پٹرول بم" قرار دیتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے ہاں پٹرول کی قیمتیں صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ بھی بن چکی ہیں۔ ایک اور اہم سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگرچہ یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ پالیسی سازی کرنا ہے اور اسی منطق کے تحت سرکاری اداروں کی نجکاری کی جاتی ہے، تو پھر پٹرول کی خرید و فروخت کے شعبے میں حکومت کی براہِ راست مداخلت کیوں برقرار رکھی جاتی ہے؟ یہ سوال اکثر عوامی حلقوں میں زیرِ بحث رہتا ہے مگر اس کا واضح جواب شاذونادر ہی سننے کو ملتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں ایک اور رویہ بھی قابلِ ذکر ہے جو اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ جیسے ہی پٹرول یا کسی اور ضروری شے کی قیمت بڑھنے کی افواہ پھیلتی ہے، مارکیٹ میں ذخیرہ اندوزی کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ دکاندار اور بعض کاروباری عناصر وقتی طور پر فروخت روک دیتے ہیں جس سے مصنوعی قلت پیدا ہوجاتی ہے۔ پھر جب قیمتیں بڑھ جاتی ہیں تو یہی اشیاء اچانک بازار میں دستیاب ہوجاتی ہیں۔
ہم ماضی میں ایسے مناظر بھی دیکھ چکے ہیں جب حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا تو کئی پٹرول پمپ مالکان نے فروخت روک دی۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان کے پاس پہلے سے مہنگے داموں خریدا گیا پٹرول موجود ہے، اس لیے وہ اسے کم قیمت پر فروخت کرکے نقصان برداشت نہیں کرسکتے۔ مگر جیسے ہی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوا تو پٹرول کی فراہمی نئی قیمتوں پر بحال ہوگئی۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ مجموعی معاشرتی رویوں کا بھی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس ساری سیاسی کشمکش اور بیانات کی جنگ میں سب سے زیادہ متاثر عام آدمی ہوتا ہے۔ عوام کو نہ تو سیاسی بیانات سے کوئی عملی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز سے۔ انہیں تو صرف اپنی روزمرہ زندگی کے اخراجات کی فکر لاحق ہے جو ہر اضافے کے ساتھ مزید بڑھ جاتے ہیں۔ اگر ہماری سیاسی قیادت واقعی عوام کے مسائل کے حل میں سنجیدہ ہے تو اسے محض بیانات اور الزام تراشی سے آگے بڑھنا ہوگا۔
حکومتوں کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اپنے غیر ضروری اخراجات کم کریں۔ وزیروں، مشیروں اور سرکاری تشہیری مہمات پر اربوں روپے خرچ کرنے کی بجائے کفایت شعاری کو فروغ دیا جائے۔ جب تک حکمران خود سادگی اور ذمہ داری کی مثال قائم نہیں کریں گے، تب تک عوام کو قربانیوں کا درس دینا محض ایک سیاسی نعرہ ہی رہے گا۔ جب تک طرفین کے سیاستدان عوام کی فلاح و بہبود کے لئے سنجیدہ کوششیں نہیں کرتے، تب تک پٹرول، گندم، چینی و دیگر اشیاء پر سیاست کا یہ کھیل جاری رہے گا اور اس کا اصل خمیازہ ہمیشہ کی طرح عام شہری ہی بھگتتا رہے گا۔

