Thursday, 12 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kamyab Log: Shikast Ka Dar Na Jeet Ka Ghuroor

Kamyab Log: Shikast Ka Dar Na Jeet Ka Ghuroor

کامیاب لوگ: شکست کا ڈر نہ جیت کا غرور

سب سے کامیاب لوگ مضبوط نہیں ہوتے، وہ بہتر ہم آہنگ ہوتے ہیں۔

یہ جملہ بظاہر سادہ ہے مگر اپنے اندر فکر و نظر کی پوری ایک دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔ ہم جس معاشرے میں سانس لیتے ہیں وہاں کامیابی کو عموماً طاقت، غلبے، جارحیت اور دوسروں کو پیچھے چھوڑ دینے کے استعارے میں سمجھا جاتا ہے۔ مضبوط وہ ہے جو نہ جھکے، نہ رکے، نہ سنے۔ مگر تاریخ، تہذیب اور انسانی نفسیات کا گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ اصل کامیابی ان لوگوں کے حصے میں آئی ہے جو حالات سے لڑنے کے بجائے ان کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئے، جو انسانوں کو کچلنے کے بجائے انہیں سمجھ سکے اور جو اپنے نفس کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مضبوطی اکثر شور مچاتی ہے، ہم آہنگی خاموشی سے راستہ بناتی ہے۔ یہی خاموش راستے بالآخر منزل تک پہنچاتے ہیں۔

ہم آہنگی دراصل ایک ذہنی اور روحانی کیفیت ہے۔ یہ صلاحیت کہ آپ اپنے اندر کے تضادات کو سنبھال سکیں، اپنے اردگرد کے لوگوں کے مزاج کو پڑھ سکیں اور وقت کے بہاؤ کو سمجھ کر اپنے قدم اس کے مطابق رکھ سکیں۔ مضبوط آدمی دیوار بن جاتا ہے، ہم آہنگ آدمی دریا ہو جاتا ہے۔ دیوار پر وقت ضرب لگاتا رہتا ہے، آخرکار وہ گر جاتی ہے، دریا وقت کے ساتھ بہتا رہتا ہے، اپنا راستہ بھی بناتا ہے اور زندگی بھی بانٹتا ہے۔ کامیاب انسان وہ نہیں جو ہر بحث جیت لے، بلکہ وہ ہے جو یہ جانتا ہو کہ کہاں خاموش رہنا ہے، کہاں جھک جانا ہے اور کہاں پورے وقار کے ساتھ ڈٹ جانا ہے۔ یہ توازن ہی دراصل ہم آہنگی ہے اور یہی توازن کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔

انفرادی زندگی میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ ہر وقت اپنی برتری ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں وہ جلد تھک جاتے ہیں، ٹوٹ جاتے ہیں، یا تنہا ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ سیکھنے کے عمل میں خود کو کھلا رکھتے ہیں، تنقید کو ذاتی حملہ نہیں سمجھتے اور اختلاف کو دشمنی میں نہیں بدلتے، وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر انسان ایک الگ دنیا ہے، ہر مزاج کا اپنا درجہ حرارت ہے اور ہر رشتے کے لیے الگ لہجے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی لوگ ٹیم بناتے ہیں، ادارے کھڑے کرتے ہیں، تحریکیں چلاتے ہیں اور تاریخ میں اپنا نام ثبت کرتے ہیں۔ ان کی طاقت ان کے بازوؤں میں نہیں، ان کی بصیرت میں ہوتی ہے۔

معاشرتی سطح پر بھی کامیابی کا یہی اصول کارفرما ہے۔ وہ قومیں جو خود کو اٹل اور کامل سمجھ بیٹھتی ہیں، وقت کی تبدیلیوں کے سامنے بے بس ہو جاتی ہیں اور وہ قومیں جو بدلتے حالات کے ساتھ اپنی ترجیحات، نظام اور سوچ میں ہم آہنگی پیدا کر لیتی ہیں، وہی آگے نکلتی ہیں۔ ہم آہنگی کا مطلب یہ نہیں کہ اصول قربان کر دیے جائیں، بلکہ یہ کہ اصولوں کو زمانے کی زبان میں ڈھال لیا جائے۔ جو معاشرہ مکالمہ کرنا بھول جائے، وہ تشدد کی زبان بولنے لگتا ہے اور تشدد وقتی طاقت تو دے سکتا ہے مگر پائیدار کامیابی نہیں۔ پائیدار کامیابی ہمیشہ فہم، برداشت اور اشتراک سے جنم لیتی ہے۔

روحانی اعتبار سے دیکھا جائے تو ہم آہنگی دراصل توکل اور رضا کی ایک صورت ہے۔ یہ مان لینا کہ کائنات کا ایک نظم ہے اور انسان اسی نظم کا حصہ ہے، اس کا مالک نہیں۔ جو شخص ہر بات اپنے قابو میں رکھنا چاہتا ہے، وہ اندر سے مضطرب رہتا ہے اور جو شخص اپنی کوشش کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہے، وہ سکون میں رہتا ہے۔ یہی سکون اس کے فیصلوں میں حکمت پیدا کرتا ہے۔ یہی حکمت اسے کامیابی کے ان راستوں تک لے جاتی ہے جو شور مچانے والوں کو نظر ہی نہیں آتے۔ کامیاب لوگ اکثر کم گو ہوتے ہیں، کم نمائش کرتے ہیں، مگر ان کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔

آخرکار یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ مضبوطی اور ہم آہنگی میں فرق ہے۔ مضبوطی اکثر انا کو غذا دیتی ہے، ہم آہنگی شعور کو جلا بخشتی ہے۔ مضبوط انسان ہر حال میں جیتنا چاہتا ہے، ہم آہنگ انسان ہر حال میں سیکھنا چاہتا ہے اور جو سیکھتا رہتا ہے، وہی آگے بڑھتا رہتا ہے۔ کامیابی کوئی تخت نہیں جس پر بیٹھ کر آدمی رک جائے، یہ ایک مسلسل سفر ہے اور اس سفر میں وہی لوگ منزلیں طے کرتے ہیں جو خود کو وقت، انسان اور تقدیر کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتے ہیں۔ شاید اسی لیے سب سے کامیاب لوگ مضبوط نہیں ہوتے، وہ بہتر ہم آہنگ ہوتے ہیں۔

کچھ باتیں کانوں سے نہیں، دل کی دھڑکن سے سنی جاتی ہیں۔ جب انسان اپنی ضد سے ایک قدم پیچھے ہٹتا ہے، تو زندگی اس کی طرف دو قدم بڑھا لیتی ہے۔

نہ زور سے، نہ شور سے، سفر طے ہوا
ہم آہنگی کے رنگ میں منظر طے ہوا

جو ضد پہ تھا وہی بکھر کے رہ گیا
جو جھک گیا اسی کا مقدر طے ہوا

سنے جو وقت کی مدھم سی صدا
اسی سماعت کا ہنر طے ہوا

ہمیں شکست کا ڈر نہ جیت کا غرور
سکون آیا تو سب کا اثر طے ہوا

Check Also

Wo Maa Jo Maa Na Rahi

By Javed Ayaz Khan