Log Parhen Panch Waqt, Ashiq Parhen Har Waqt
لوگ پڑھیں پانچ وقت، عاشق پڑھیں ہر وقت

"کیا آپ جانتے ہیں کہ گاڑی چلاتے ہوئے یا کافی پیتے ہوئے یا کاروبار کرتے بھی آپ 'ولی' بن سکتے ہیں؟"
دعا محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ یہ ایک بندے کا اپنے رب کے سامنے اس بات کا برملا اعتراف ہے کہ "باری تعالیٰ! میں عاجز ہوں اور تو ہی قادرِ مطلق ہے"۔ دنیا کی ہر عبادت میں ریاکاری کا عنصر غالب آ سکتا ہے، دھیان خالص عبادت سے ہٹ سکتا ہے، لیکن جب انسان اللہ کو ہی اپنا غمگسار اور اپنا مالک مان کر مانگتا ہے تو یہ اللہ اور بندے کا اتنا خالص رشتہ ہے کہ اس میں نہ ریاکاری ہے نہ کوئی جھوٹی تمہید۔ اسی لیے آقاﷺ نے فرمایا: "دعا ہی عبادت ہے"۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ پاک نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَمَا خَلَقُتُ الُجِنَّ وَالُإِنسَ إِلَّا لِيَعُبُدُونِ" (اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت ہی کے لیے پیدا کیا ہے)۔ اس آیت کا اصل مقصود اور عبادت کا حقیقی فلسفہ صرف پانچ وقت کی مخصوص حاضری نہیں، بلکہ سارا دن، ساری رات اور چوبیس گھنٹے اپنے رب سے جڑے رہنے کا نام ہی اصل عبادت ہے۔
قرآنِ کریم میں مادہ "دعا" اپنے مشتقات کے ساتھ 212 بار آیا ہے۔ اگر ہم مختلف مفسرین کے نزدیک ان مخصوص دعائیہ کلمات کا جائزہ لیں جو براہِ راست پکار کی صورت میں موجود ہیں، تو ان کی تعداد 40 سے 65 کے درمیان بنتی ہے۔ ان میں سے تقریباً 60 فیصد دعائیں مغفرت اور ہدایت جیسے روحانی امور پر مشتمل ہیں، جبکہ 25 فیصد خالص دنیاوی ضروریات اور 15 فیصد دنیا و آخرت کی جامع بھلائی پر مبنی ہیں۔ مذہبی لوگوں کا یہ تاثر کہ دعا صرف آخرت اور ایمان کی مانگنی چاہیے، قرآنی حقائق کے منافی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو دنیاوی عزت، عافیت، سلطنت، رزق اور جسمانی صحت اللہ سے انبیاء کرام نے نہ مانگی ہوتی۔ قرآن میں انبیاء کی 70 سے زائد پکار موجود ہیں جن میں انہوں نے اپنی ہر انسانی ضرورت کو اللہ کے سامنے پیش کرکے یہ ثابت کیا کہ خالق سے مانگنا ہی اصل بندگی ہے۔
ان جلیل القدر انبیاء کی دعاؤں پر نظر ڈالیں تو حضرت ابراہیمؑ نے شہر کا امن اور وہاں کے بسنے والوں کے لیے پھلوں کا رزق مانگا، حضرت سلیمانؑ نے ایسی عظیم الشان سلطنت اور اقتدار طلب کیا جو کسی اور کے پاس نہ ہو اور حضرت عیسیٰؑ نے مادی ضرورت اور اصحاب کی تسکین کے لیے آسمانی دسترخوان کی دعا کی۔ اسی طرح حضرت موسیٰؑ نے مسافرت اور بھوک کے عالم میں رزق کا سوال کیا، حضرت زکریاؑ نے بڑھاپے کے باوجود پاکیزہ اولاد کی طلب کی اور حضرت ایوبؑ نے طویل بیماری کے بعد نہایت عاجزی سے جسمانی شفاء کے لیے پکارا کہ: "بے شک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے"۔ یہ انبیاء کرام کی تعلیم ہی ہے کہ رب سے مانگا ہوا کبھی مایوس نہیں کرتا۔ حضرت زکریاؑ نے پکارا تھا: "اے میرے رب! میں تجھ سے مانگ کر کبھی مایوس نہیں ہوا"۔
انبیاء کرام کی یہ دعائیہ روایت آقاﷺ کی ذاتِ مبارکہ میں آ کر اپنے معراج کو پہنچ گئی۔ آپﷺ نے امت کو یہ جامع سبق دیا کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی صرف اللہ سے مانگو۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ: "تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنی ہر ضرورت اپنے رب ہی سے مانگے، یہاں تک کہ اگر اس کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی اللہ ہی سے مانگے اور اگر اسے نمک کی ضرورت ہو تو وہ بھی اللہ ہی سے مانگے"۔
آپﷺ کی دعائیں ایک ایسا دائرہ ہیں جو ادنیٰ دنیاوی حاجت سے شروع ہو کر اعلیٰ ترین اخروی تمنا تک پھیلا ہوا ہے۔ آپﷺ نے رزقِ حلال، قرض سے نجات، معاشی تنگی سے پناہ، جسمانی توانائی، بینائی و بصارت کی سلامتی اور وبائی امراض سے بچاؤ کی دعائیں مانگیں۔ آپﷺ نے غم، پریشانی، بزدلی، بخل، دشمن کے شر، حاسد کے حسد اور ظالم کے غلبے سے باقاعدہ پناہ مانگی۔ ساتھ ہی آپﷺ نے نفع بخش علم، شرحِ صدر، دلوں کی ثابت قدمی، عمل میں اخلاص، عذابِ قبر سے پناہ اور اللہ کریم کے دیدار کی تمنا کو اپنی دعاؤں کا محور بنایا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آقاﷺ اور اللہ کریم یہ نہیں جانتے تھے کہ انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں اتنا مصروف ہوتا ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی مادی ضرورتوں کے لیے ہر وقت کیسے مانگتا رہے گا؟ دراصل، اس تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ جب انسان اپنی ہر چھوٹی ضرورت میں اللہ کو یاد کرتا ہے، تو اس کا ہر وقت کا تعلق اپنے رب کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ یہ "مستقل تعلق" ہی اصل مقصود ہے، تاکہ بندہ بڑی ضرورتوں میں تو اللہ کو پکارے ہی، مگر چھوٹی حاجتوں کے بہانے بھی اس کی توجہ اپنے مالک سے نہ ہٹے اور وہ لمحہ بھر کے لیے بھی خود کو تنہا یا خود مختار نہ سمجھے۔ جب دھیان کی یہ ڈور جڑ جاتی ہے، تو انسان کی پوری مادی تگ و دو بھی "عبادت" بن جاتی ہے۔
اس تمام بحث کا سب سے لطیف پہلو وہ ہے جسے آقاﷺ نے "احسان" قرار دیا ہے۔ مشہور حدیثِ جبریل میں جب احسان کے بارے میں سوال ہوا تو آپﷺ نے فرمایا: "احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت ایسے کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے"۔ دنیا کی ہر عبادت اپنے متعلقات اور شرائط مانگتی ہے، نماز کے لیے وضو، قرآن کے لیے طہارت، حج کے لیے زادِ راہ، روزے کے لیے صحت اور زکوٰۃ کے لیے نصاب شرط ہے، مگر دعا وہ واحد تعلق ہے جو اس "احسان" کی اصل کیفیت ہے کیونکہ یہ کسی مادی شرط کی محتاج نہیں۔ انسان کسی بھی حال میں ہو، چاہے غلیظ ہو، ناپاک ہو، ندامت میں ڈوبا ہو یا غفلت کی کیفیت میں، دعا کے لیے اسے کسی ظاہری تیاری کی ضرورت نہیں۔ وہ جہاں ہے، جس حال میں ہے، ایک دم اپنے خدا سے یوں جڑ جاتا ہے جیسے اسے دیکھ کر، اس پر کامل یقین کرکے اس سے سرگوشی کر رہا ہو۔
پڑھنے والے کے لیے یہ سمجھنا آسان ہونا چاہیے کہ دنیاوی حاجتوں کے لیے دعا کرنا محض "دنیا داری" نہیں بلکہ یہ خالق سے جڑنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ مادی لالچ یا حصولِ دنیا کی ہوس نہیں، بلکہ اپنے رب سے مانگنا دراصل وجودِ باری تعالیٰ کا وہ اقرار ہے جسے ہم "ایمان بالقلب" کہتے ہیں۔ جب بندہ اپنی ادنیٰ ضرورت کے لیے بھی اللہ کے سامنے جھکتا ہے، تو وہ اپنے دل کی گہرائی سے یہ تسلیم کر رہا ہوتا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اسی کے قبضے میں ہے۔ یہی وہ ایمان ہے جو انسان کو اسباب کی غلامی سے نکال کر مسبب الاسباب کی آغوش میں لے آتا ہے۔

