Khawaja Ali Kazim Marhoom
خواجہ علی کاظم مرحوم

بلتستان کے خوبصورت خطے اسکردو کے نواحی گاؤں رگیول سے تعلق رکھنے والے کمسن نوحہ خواں خواجہ علی کاظم مرحوم آج بھی اپنی دل سوز آواز اور منفرد اندازِ نوحہ خوانی کے باعث لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ عمر کے جس حصے میں بچے کھیل کود میں مصروف ہوتے ہیں، اس عمر میں خواجہ علی کاظم نے نوحہ خوانی کا آغاز کیا۔ ان کی عمر اس وقت زیادہ سے زیادہ چھ یا سات برس تھی، مگر قدرت نے ان کی آواز میں ایسا درد، سوز اور تاثیر رکھ دی تھی کہ سننے والا بے اختیار اشک بار ہو جاتا تھا۔
مجالسِ عزا ہوں یا مذہبی محفلیں، جہاں بھی علی کاظم کی آواز گونجتی وہاں ایک روحانی فضا قائم ہو جاتی۔ لوگ دور دور سے صرف اس لیے آتے کہ اس کمسن نوحہ خواں کی آواز میں شہدائے کربلا کا غم سن سکیں۔ ان کی آواز سننے والوں کے دلوں میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا کر دیتی تھی۔
سنہ 2022 کے قریب کی بات ہے۔ اس زمانے میں ہمارے صحافی دوست اور نوجوان قلم کار جناب غلام عباس خاکسار نے ایک نوحہ تحریر کیا۔ یہ نوحہ ایسا درد بھرا اور اثر انگیز تھا کہ سننے والوں کے دلوں میں فوراً گھر کر گیا۔ اس کے ابتدائی مصرعے کچھ یوں تھے۔
سر جھکائے بین کرتی قیدیوں میں بے درا سہمے کھڑی
کیا یہی وہ قافلہ سالار زینب تو نہیں
اور آگے کے اشعار میں کربلا کے بعد کے دردناک مناظر کا ایسا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ دل لرز اٹھتا ہے۔
پوچھتے ہیں یہ تماشائی بھرے بازار میں بیمار سے
کیا یہی وہ قافلہ سالار زینب تو نہیں
جب یہ نوحہ پہلی بار مجالس میں پڑھا گیا تو سننے والے حیرت زدہ رہ گئے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے شاعر نے اپنے دل کے خون سے یہ کلام لکھا ہو۔ اس میں دردِ کربلا کی جو تصویر کشی ہے وہ سننے والوں کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نوحہ صرف گلگت بلتستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی مجالس کی زینت بن گیا اور لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔
لیکن اس کلام کو جو شہرت اور تاثیر ملی، اس میں سب سے بڑا کردار کمسن نوحہ خواں خواجہ علی کاظم مرحوم کی آواز کا تھا۔ انہوں نے اسے جس انداز میں پڑھا وہ سننے والوں کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ خود واقعۂ کربلا کے مناظر بیان کر رہے ہوں۔ ان کی آواز کی تاثیر نے لوگوں کے دلوں میں ماتم اور غمِ حسینؑ کا ایک نیا جذبہ پیدا کر دیا۔
یوں یہ نوحہ اور خواجہ علی کاظم دونوں ایک دوسرے کی پہچان بن گئے۔ اس نوحے نے جہاں شاعرِ اہلبیت غلام عباس خاکسار کو عزت اور مقام عطا کیا، وہیں خواجہ علی کاظم کو بھی نوحہ خوانی کی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل ہوا۔
میرا ذاتی عقیدہ ہے کہ جو شخص حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور اہلِ بیت اطہارؑ کی شان میں خلوصِ دل سے ایک مصرعہ بھی لکھ دے، اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں عزت عطا فرماتا ہے۔ یقیناً غلام عباس خاکسار صاحب کو جو مقام حاصل ہوا ہے اس میں اس نوحے کی بڑی برکت شامل ہے اور خواجہ علی کاظم مرحوم کی شہرت بھی اسی کلام کی بدولت ہمیشہ کے لیے امر ہوگئی۔
میں شاعرِ اہلبیت جناب غلام عباس خاکسار کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے زورِ قلم میں مزید برکت عطا فرمائے۔
اسی کے ساتھ میں کمسن مگر عظیم نوحہ خواں خواجہ علی کاظم مرحوم کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انہیں جنت الفردوس میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور شہدائے کربلا کے جوار میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور وہاں بھی انہیں نوحہ خوانی کی توفیق نصیب ہو۔

