Saturday, 06 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Old Karachi Ke Bawarchi Khanay

Old Karachi Ke Bawarchi Khanay

اولڈ کراچی کے باورچی خانے

میں کراچی جیسے بزی شہر کا پیدائشی باسی ہوں لیکن میرے دوست میری زبان سے گزرے کراچی کی باتیں سنکر مجھے "کراچی کا دیہاتی" کہتے ہیں جسے میں ایک اعزاز تصور کرتا ہوں۔ اس اعزاز کی ایک وجہ اس زمانے کے باورچی خانے اور ان کے کھانے ہیں ہیں۔ میں ترقی اور جدیدیت کے خلاف نہیں مگر اپنی روایات چھوڑنے کو بھی تیار نہیں اور گھر کے پکے روایتی کھانوں پر تو میں کسی کو بھی ہاتھ نہ مارنے دوں۔ آپ ایمانداری سے بتائیں جو مزا باورچی خانہ کہنے میں کیا کچن اس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

مجھے یاد ہے ہمارے کراچی میں ایک زمانہ وہ بھی تھا جب مہینے کے سودے میں مصالحے بغیر کٹے / پسے آیا کرتے تھے۔ سل بٹے اور ہاون دستے میں ان کو پیسا اور کوٹا جاتا۔ دھانس سے ہمیں خوب ہی چھینکیں آیا کرتیں۔ ناک سے پانی بہہ نکلتا۔ نعمت خانے کو تو سب بھول گئے ہوں گئے۔ کہاں گیا وہ چھینکا، بادیہ وغیرہ۔

اس زمانے میں خاندان کی خواتین میں ہر ایک کے ہاتھ کی کوئی نہ کوئی ہنڈیا اپنی خوشبو اور ذائقے میں مشہور ہوتی۔ لوگ خاص طور پر مدعو کیے جاتے۔ ایک ایک نوالے پر تعریفیں ہوتیں اور اسی میں پھر کسی کے ہاں کا پروگرام بن جاتا۔ اس تمام عمل میں ہماری روایات اور معاشرت کے طریقے زندہ ہوتے۔ چھوٹے بڑے ساتھ مل بیٹھتے، ادب و آداب سیکھتے۔ رشتے داریوں میں بغیر کسی اسٹیٹس کے جان پڑ جاتی۔

میرا خیال ہے کہ آب لاشعوری طور نیو ورلڈ فوڈ آرڈر بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ دنیا میں بھر ایک جیسے فوڈز کو پسند کیا یا کروایا جارہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کو بھی ترقی اور ماڈرن ازم کے نام پر کھیلا اور کھلایا جا رہا ہے۔ وقت کے فاسٹ ہونے نے سب کو گھن چکر کر دیا ہے۔ اب انہیں بھی فاسٹ فوڈز کا نام دے کر ہماری زندگیوں میں داخل کر دیا گیا ہے۔ آج یہ حال ہے کہ 30 سال تک کے مرد و زن فاسٹ فوڈز کے دیوانے ہیں۔

چند سال اور گزر جانے دیں پھر شاید ہماری نسلیں آئندہ کھانے بنانا تو دور کی بات انکے نام بھی بھول چکی یوں گی اور جو کوئی ان کا نام بھی لے لے گا تو وہ گنوار سمجھا جائے گا۔ آج بھی یہ حال ہے لڑکوں کو تو چھوڑیں لڑکیوں تک کو ہر دال کا نام معلوم نہیں۔ رنگ کا کہہ کر دال بتاتی ہیں۔ اب ایسی صورت میں کھانوں میں ہماری روایات کی دال کیسے گل سکتی ہے۔

آج حال یہ کہ بچے اور جوان پیزا، برگر کے دیوانے ہیں۔ چکن کے بغیر ایک نوالہ حلق سے نہیں اترتا۔ کراچی میں کون سا ایسا گھر ہے جہاں ہر روز یا ہر دوسرے روز فاسٹ فوڈز آرڈر نہ کیے جاتے ہوں۔ نیو ورلڈ فوڈ آرڈر میں اب دنیا فاسٹ فوڈز کی طرف جا رہی ہے۔ مطلب ایک دنیا، ایک جیسے کھانے۔ اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ پہلے ہر خطے کے کھانوں کو روایتی لذت اور ذائقے سے محروم کرکے ایک جیسا بنا دو۔ ترقی اور حفظان صحت کا چکمہ دے کر سہولت، لذت اور وقت کی بچت کے نام پر سب سے پہلے مرحلے میں باورچی میں نقب لگائی گئی ہے جو میرا خیال ہے توقع سے بڑھکر کامیاب ہوئی ہے۔

باورچی خانوں میں یہ نقب پیکٹوں میں بند تیار مصالحوں کے ذریعے لگائی گئی ہے۔ آج کل یہ بات بڑے زور و شور سے کہی جاتی ہے کہ اب کھانا پکانا سب کو آ گیا ہے۔ ایسا بالکل بھی نہیں اصل میں سب کے ہاتھ ایک جیسے مصالحے آ گئے ہیں۔ پہلے گھروں میں "اماں مصالحے" چلتے تھے۔ اس لیے ہر ماں کا ذائقہ ان کی بیٹیوں اور بہووں کے ہاتھوں میں منتقل ہوتا تھا۔ اب تیار مصالحوں نے یہ سلسلہ مقفل کردیا ہے۔ ترقی اور جدیدیت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انفرادیت چھین لیتی ہے جس کی سب سے سامنے کی مثال یہ تیار مصالحے ہیں۔

پہلے کھانوں سے گھر مہکتے تھے۔ تعریف ہوتی تو چہرے کھل اٹھتے۔ اب ٹیبلیں سجتی ہیں۔ تعریف ہوتی ہے مگر وہ خوشی نہیں ہوتی۔ مجھے لگتا ہے اب ہم نے کھانوں کو بھی پی آر اور تعلقات کا ذریعہ بنا لیا یے۔ دعوت تو ہوتی ہے مگر خلوص بھری روایت نہیں ہوتی۔ جس طرح سب کھانوں کا ذائقہ ایک جیسا ہوگیا ہے، اسی طرح ملنا ملانا بھی منہ دیکھے کا ہوگیا ہے۔ پہلے کھانے محبت سے پکتے اور بے غرضی سے کھلائے جاتے۔ اب جب دعوت ہی کسی فائدے کے لیے ہو تو کھانوں میں اپنے پن کے ذائقے کہاں سے آئے۔ جب سب ایسی زندگی گزارنے کو تیار ہیں تو پھر کھانے تیار مصالحوں سے بنیں گے۔

کہتے ہیں اگر کسی معاشرے میں قانون کی پاسداری دیکھنی ہو تو کسی سگنل پر کھڑے ہو کر اس کا بخوبی اندازہ ہو جائے گا۔ اگر آپ نے گھر میں صاحب خانہ کے اثر و رسوخ کا اندازہ لگانا ہو تو کسی تندور پر چلے جائیں۔ وہاں لائن میں ایسے ایسے افراد کھڑے نظر آئیں گے، آپ کہہ اٹھیں گے۔۔ یہ بھی۔ بچپن میں یہ ہوتا کہ اگر کوئی بڑی دعوت ہو یا گرمی زیادہ ہو تو والدہ یا دادی آٹا گوندھ کرکے ہمیں دے دیتیں۔ ہم یہ آٹا تندور لے جاتے اور فی روٹی پانچ / دس پیسے لے کر تندور میں پکا دی جاتی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روز تندور کی روٹی نہیں کھائی جا سکتی۔ گھر کی روٹی کا مزا ان سے پوچھیں جو اپنے گھروں سے دور گھر کی روٹی کو ترستے ہیں۔

گھر میں چلتی نہیں یہاں آکر غصہ کرتے ہو

میں ایک واقعہ کبھی نہیں بھولتا۔ ایک صاحب گاڑی سے اترے اور تندور کی لائن میں آ کھڑے ہوئے۔ صاف محسوس ہو رہا تھا ک دو روٹیوں کے لیے یہ عزت افزائی بہت مہنگی ہے۔ دو ایک مرتبہ چلا کر نانبائی سے کہا کہ ہاتھ تیز چلاو۔ تیسری مرتبہ جب انہوں نے ہاتھ تیز چلاو کہا تو نانبائی نے زبان چلا دی: بھائی یہاں اتنا غصہ مت دکھاو۔ گھر میں بیوی سے دو روٹی ڈالنے کا کہنے میں جان جاتی ہے۔ سارا رعب یہاں آکر دکھاتے ہو۔ وہ صاحب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ میں نے نانبائی سے کہا کہ اس طرح بات کرنا بڑی بات ہے نانبائی نے عجیب بات کہی: صاحب یہ تندور نہیں۔ ایک آئینہ ہے جس میں ہر گاہک کا چہرہ اور گھر پر اس کی اوقات کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ میں نے فوراََ سلسلہ کلام منقطع کرنے میں عزت جانی ورنہ وہ مجھے میری اوقات سے مطلع کر دیتا۔ کرشن بہاری نور سے معذرت کے ساتھ:

چاھے تندور پر کھڑا کردو
آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Waldain Aur Rishton Mein Tafreeq

By Qurratulain Shoaib