Abbu, Aap Ke Paas Paise Hain?
ابو، آپ کے پاس پیسے ہیں؟

ابو! آپ کے پاس پیسے ہیں؟ بچے کا سوال سن کر میں چونکا کہ یہ سوال وہ کیوں کر ہا ہے؟ میں سوچ میں پڑ گیا کیونکہ سوال بڑا حیران کن تھا جو اس سے قبل اس نے کبھی نہیں کیا تھا۔ گذشتہ دنوں میرا نواسہ کچھ دن کے لیے ہمارئے پاس رہا کیونکہ اس کے والدین حج کی سعادت کے لیے سعودی عرب گئے ہوئے تھے۔ یہ بچہ "محمد حسن عبداللہ "پیدائش کے بعد سے ہی میرے اور میری بیوی سے بہت مانوس ہے کیونکہ یہ زیادہ تر ہمارے ساتھ ہی رہا ہے اور ہمیں ہی امی ابو کہتا ہے۔ اب ماشااللہ! بارہ سال کا ہو چکا ہے اور بہت ذہین و فطین ہےاور ماشااللہ! آجکل قرآن حفظ کر رہا ہے۔
جب یہ چھوٹا سا بچہ تھا تو میری ملازمت بھی رحیم یارخان تھی جہاں سے میں ہر ہفتہ چھٹی گزارنے بہاولپور آتا تھا تو یہ اکثر اپنی ماں کے ساتھ میری گاڑی میں زبردستی بیٹھ کر آجاتا تھا۔ جب بھی کسی جنرل اسٹور یا ٹک شاپ کو دیکھتا تو مچل جاتا اور میں اسے گود میں اٹھا کر وہاں لے جاتا اور یہ اپنی مرضی سے جو چاہتا خرید لیتا۔ مہنگی سے مہنگی چیز بھی اٹھا لیتا اور پھر کاونٹر پر پیسے ادا کرنے کو کہتا۔ اسے یقین ہوتا کہ جتنا بھی بل ہوگا میرے ابو ساتھ ہیں ادا کردیں گے۔ میرا روزمرہ کا معمول تھا کہ جب دفتر سے گھر آتا تو یہ دروازئے پر موجود ہوتا اور شور مچا دیتا اس لیے اسے میرا ڈرائیور خالد گاڑی میں بٹھا لیتا اور نزدیکی جنرل اسٹور پر سے یہ اپنی مرضی کی اشیاء خریدتا اور تمام چیزیں کاونٹر پر رکھ کر ان کی ادائیگی کا انتظار کرتا تھا۔ بعض اوقات وہ ایسی ایسی اشیاء بھی خرید لیتا جو ناصرف بہت مہنگی ہوتی بلکہ بلا ضرورت ہوتی تھیں۔
لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ دنوں سے اب میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ جب میرے ساتھ ہوتا ہے تو کسی بھی خریداری سے پرہیز کرتا ہے اور بچوں والی فرمائشیں بھی نہیں کرتا۔ اس دوران یہ اکثر میرے ساتھ مغرب کی نماز پڑھنے مسجد جاتا تو سامنے ہی آئسکریم والا اپنی گاڑی پر کھڑا ہوا دکھائی دیتا جو اس کی کمزوری ہے تو یہ اسے کہتا کہ واپسی پر ہمارئے گھر سے ہوکر اور مجھے آئسکریم دے کر جانا اور وہ بےچارہ اسے آئسکریم دینے کے لیے خصوصی چکر کاٹ کر ہمارے گھر کے سامنے سے گزرتا اور یہ آئس کریم خریدتا۔
ایک دن اس آئسکریم والے نے کہا کہ سر! آپ کے بچے نے ایک تو آئسکریم لینی ہوتی ہے میرا چکر کیوں لگواتے ہو۔ گھر سامنے ہی تو ہے مسجد سے جاتے ہوئے لیتے جایا کریں تو اس بچے نے کہا نہیں انکل آپ نے خود آنا ہے۔ مجھے بھی یہ اچھا نہ لگا کہ وہ اپنی گاڑی سمیت گھر کا چکر کاٹے۔ تو میں نے ایک دن عبداللہ سے کہا کہ آج آپ آئسکریم نماز کے بعد وہیں سے خرید لینا تو اس نے مجھے غور سے دیکھا اور بولا ابو! آپ کے پاس پیسے ہیں؟ میں نے کہا ہاں! تو بولا ایک سو روپے ہیں؟ مجھے ایک دم پوری کہانی سمجھ آگئی کہ وہ بچہ کیوں آئسکریم والے کو گھر آنے کے لیے کہتا تھا۔ وہ شاید مجھے آئسکریم والے کے سامنے شرمندگی سے بچانا چاہتا تھا۔ میں چند لمحے تو خاموش رہا۔ یہ ایک بچے کا سوال نہیں تھا بلکہ اس دور کا آئینہ تھا۔ بچوں کو آئینے میں وہی نظر آتا ہے جو سامنے ہوتا ہے۔ جس آئینے میں انسان کی عزت، اہمیت اور شناخت کو اکثر اس کی آمدنی اور مالی حیثیت سے تولا جاتا ہے۔
ملازمت کے دنوں میں تنخواہ آتی تھی، لوگ مشورے لیتے تھے، فون بجتے تھے، ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ مگر ریٹائرمنٹ کے بعد گویا زندگی ایک نئے امتحان میں داخل ہو جاتی ہے۔ میں نے نواسے سے کہا: "بیٹا! گو پیسے کے بغیر کچھ نہیں ملتا، پیسہ تو ضرورت پوری کرنے کا ذریعہ ہے، اصل دولت وہ رشتے، دعائیں، تجربات اور نیکیاں ہیں جو انسان اپنی زندگی میں کماتا ہے"۔ لیکن دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ شاید نئی نسل نے ہمیں ایک بڑا سبق دیا ہے۔ وہ جاننا چاہتی ہے کہ عمر بھر محنت کرنے والا شخص بڑھاپے میں کتنا محفوظ، خودمختار اور باوقار رہ جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ دراصل ملازمت کا اختتام نہیں، بلکہ زندگی کے حساب کتاب کا آغاز ہے۔ اس وقت انسان کے پاس بینک بیلنس سے زیادہ اہم اس کے اعمال، اس کی اولاد کی محبت، دوستوں کی وفاداری اور معاشرے میں اس کی نیک نامی ہوجاتی ہے"۔
بچے کے ایک معصوم سوال نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا اور میں چکرا کر رہ گیا اسے کیسے بتاتا کہ انسان کی اصل دولت جیب میں نہیں، بلکہ ان دلوں میں ہوتی ہے جہاں اس کے لیے محبت، احترام اور دعا محفوظ ہو۔ اور۔ میں مسکرا دیا۔ اس نے شاید کئی دنوں سے ایک منظر بار بار دیکھا تھا۔ جب بھی مجھے کسی ضرورت کے لیے رقم درکار ہوتی، میں اپنی بیوی کی طرف دیکھتا اور کہتا: "ذرا کچھ پیسے دینا۔ بچے اور نواسے یہی سمجھے کہ شاید ابو کی جیب ہمیشہ خالی رہتی ہے۔ انہیں کیا معلوم کہ عمر بھر گھر کے اخراجات اٹھانے والا شخص جب ریٹائر ہوتا ہے تو دولت کے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ کبھی تنخواہ جیب میں ہوتی تھی، آج آمدنی بینک میں آتی ہے اور گھر کا حساب کتاب بیوی کے پاس ہوتا ہے۔ نواسے کے سوال نے مجھے ہنسنے پر بھی مجبور کیا اور شاید سوچنے پر بھی۔
اس کا سوال درست تھا کیونکہ اس نے محسوس کیا کہ زندگی بھر جس نے سب کی جیبیں بھری ہوں، بڑھاپے میں وہ خود کبھی کبھی اپنی بیوی سے جیب خرچ مانگ رہا ہوتا ہے۔ مگر یہ محتاجی نہیں، یہ اعتماد کا وہ رشتہ ہے جو نصف صدی کی رفاقت کے بعد قائم ہوتا ہے۔ میں نے نواسے سے کہا: "بیٹا! میری جیب شاید خالی ہو، لیکن الحمدللہ! میرا بنک خالی نہیں، میرا گھر خالی نہیں، میرے بچے خالی نہیں، میری یادیں خالی نہیں اور میری زندگی کی کمائی ابھی بھی میرے پاس ہے"۔ کاش میں اسے سمجھا سکتا کہ بڑھاپے کی اصل دولت نوٹوں کی گڈیاں نہیں ہوتیں بلکہ وہ چہرئے ہوتے ہیں جو آپ کے گرد بیٹھ کر یہ فکر کرتے ہیں کہ ابو کے پاس پیسے ہیں یا نہیں؟ میں نے اس کے سوال کا جواب دیا کہ عبداللہ! میرے پاس پیسے تو ضرور ہوتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ وہ تمہیں میری جیب میں دکھائی بھی دیں۔
بچے کا یہ سوال صرف مالی نہیں، نفسیاتی اور تربیتی بھی ہے۔ بچے عموماً وہی سمجھتے ہیں جو وہ دیکھتے اور سنتے ہیں۔ اگر وہ بار بار آپ کو اپنی بیوی سے پیسے مانگتے دیکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہ خیال آ سکتا ہے کہ "ابو کے پاس اپنے پیسے نہیں ہیں"۔ اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے چند سادہ مگر مؤثر باتیں کی جا سکتی ہیں اپنی مالی خودمختاری کی ایک علامت برقرار رکھیں، مثلاً اپنی جیب میں کچھ رقم یا الگ اکاؤنٹ کا ائے ٹی ایم ضرور رکھیں۔ بچوں، پوتوں اور نواسوں کے سامنے کبھی کبھار خود خریداری کریں یا انہیں کوئی چھوٹا تحفہ لے کر دیا کریں۔ انہیں یہ سمجھائیں کہ گھر کا بجٹ اور پیسہ میاں بیوی دونوں کا مشترکہ ہوتا ہے، صرف جیب میں رکھنے والے کا نہیں۔
اپنی زندگی کی جدوجہد، محنت اور قربانیوں کے قصے سنائیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ آج کاآپ کا گھر اور یہ آسائشیں کس کی محنت کا ثمر ہیں۔ سب سے بڑھ کراپنی شخصیت کو صرف پیسے سے نہ جوڑیں۔ جب بچے دیکھیں گے کہ گھر میں آپ کی رائے، تجربے اور محبت کی قدر ہے تو وہ آپ کی اہمیت کو دولت سے نہیں ناپیں گے۔ بچوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ دادا یا نانا کی دولت صرف ان کی جیب میں نہیں ہوتی، ان کی اصل دولت وہ خاندان ہوتا ہے جسے انہوں نے اپنی جوانی، محنت اور خوابوں سے تعمیر کیا ہوتا ہے۔ گھر میں بیوی کی حیثیت ایک بنک جیسی امانت دار کی سی ہوتی ہے جو پیسوں کو حفاظت کے طور پر خرچ ہونے تک محفوظ رکھتی ہے اور جس کےپاس رقم جمع بھی کرائی جاسکتی ہے اور کسی وقت واپس لی بھی جاسکتی ہے۔ لیکن پھر بھی اپنی جیب میں کچھ پیسے ضرور رکھیں کیونکہ بچے آپکی جیب ہی دیکھتے ہیں"۔

