Saturday, 06 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Amir Mohammad Kalwar
  4. Pakistan Mein Gadhon Ki Tadad Mein Izafa

Pakistan Mein Gadhon Ki Tadad Mein Izafa

پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ

دو جون 2026ء کے ایک اخبارات میں ایک خبر چھپی کہ پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد تقریباً 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ یہ خبر بظاہر عام سی محسوس ہوتی ہے، مگر اگر غور کیا جائے تو گدھا دنیا کے قدیم ترین اور مفید ترین جانوروں میں سے ایک ہے جس نے انسانی تہذیب کی ترقی میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔

میرا تعلق پاکستان کے جس شھر سے ہے وہ ایک گورے بابا کے نام پر ہے اور وہ گرمی اور گدھا گاڑیوں کے لحاظ سے مشھور ہے، جی ہاں آپ سمجھ گئے ہونگیں۔ کہ میرا اشارہ سندھ کے سرحدی ضلع جو کہ پنجاب اور بلوچستان کے سنگم پر واقع، جیکب آباد کی طرف ہے، جو کہ جنرل جان جیکب کے نام پر ہے اور اس کی قبر پر وہیں پر ہے۔ جہاں آپ جب اپنے گھر سے نکلو گے بازار کے لئے یا کسی سرکاری دفتر میں کسی کام کے لئے تو آپ کے استقبال کے لئے سب سے پہلی نظر گدھا گاڑیوں پر پڑے گی۔

ویسے آجکل گدھے ہر جگہ پائے جاتے ہیں، چاہے وہ اسکول ہو یونیورسٹی ہو یا پھر سرکاری دفاتر۔

گدھے کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق گدھے کو سب سے پہلے تقریباً پانچ سے سات ہزار سال قبل شمالی افریقہ اور مصر کے علاقوں میں پالتو بنایا گیا۔ اس کے آباؤ اجداد افریقی جنگلی گدھے تھے جو آج بھی چند علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ قدیم مصری، رومی، یونانی اور عرب تہذیبوں میں گدھا نقل و حمل اور سامان ڈھونے کا بنیادی ذریعہ تھا۔ جب نہ موٹر گاڑیاں تھیں اور نہ ہی ریلوے نظام، تب گدھا انسان کا سب سے قابل اعتماد ساتھی تھا۔

دنیا میں اس وقت گدھوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے موجود ہیں، تاہم اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO) کے مطابق دنیا بھر میں گدھوں کی تعداد پانچ کروڑ سے زیادہ ہے۔ سب سے زیادہ گدھے ایشیا اور افریقہ میں پائے جاتے ہیں۔ چین، ایتھوپیا، سوڈان، پاکستان، بھارت اور مصر ان ممالک میں شامل ہیں جہاں گدھوں کی بڑی آبادی موجود ہے۔

ایشیا میں اندازاً دو کروڑ سے زائد گدھے پائے جاتے ہیں۔ چین ایک زمانے میں گدھوں کی سب سے بڑی آبادی رکھتا تھا، اگرچہ حالیہ برسوں میں تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔ بھارت میں گدھوں کی تعداد مختلف سرویز کے مطابق ایک سے دو لاکھ کے درمیان رہ گئی ہے، جو پہلے کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ پاکستان میں حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا میں بھی ایک نمایاں تعداد سمجھی جاتی ہے۔

افریقہ میں گدھے دیہی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ایتھوپیا میں تقریباً 80 لاکھ اور سوڈان میں 70 لاکھ کے قریب گدھے موجود ہونے کے اندازے ہیں۔ یورپ میں گدھوں کی تعداد نسبتاً کم ہے اور یہ زیادہ تر اسپین، اٹلی، یونان اور پرتگال میں پائے جاتے ہیں۔ امریکہ میں گدھے بنیادی طور پر کھیتی باڑی، سیاحت اور تفریحی مقاصد کے لیے رکھے جاتے ہیں۔ شمالی اور جنوبی امریکہ میں مجموعی تعداد چند لاکھ کے لگ بھگ سمجھی جاتی ہے۔

گدھے کی سب سے بڑی خوبی اس کی برداشت اور صبر ہے۔ عام طور پر لوگ کسی ضدی شخص کو "گدھا" کہہ دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ گدھا ضدی نہیں بلکہ محتاط جانور ہوتا ہے۔ گھوڑا خطرے کی صورت میں فوراً بھاگتا ہے، جبکہ گدھا پہلے صورتحال کا جائزہ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشوار گزار پہاڑی راستوں پر اسے زیادہ محفوظ سواری اور باربردار جانور سمجھا جاتا ہے۔

خوراک کے لحاظ سے بھی گدھا نہایت سادہ مزاج ہے۔ یہ خشک گھاس، بھوسہ، چارہ، پتے، جھاڑیاں اور مختلف اقسام کی جڑی بوٹیاں کھا لیتا ہے۔ گدھا کم خوراک میں بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی لیے صحرائی اور نیم صحرائی علاقوں میں اسے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ پانی کی کمی برداشت کرنے کی صلاحیت بھی اسے دوسرے کئی جانوروں سے ممتاز بناتی ہے۔

پاکستان میں گدھے خاص طور پر اینٹوں کے بھٹوں، سبزی منڈیوں، تعمیراتی شعبے، دیہی نقل و حمل اور چھوٹے کاروباروں میں استعمال ہوتے ہیں۔ ہزاروں خاندانوں کا روزگار گدھا گاڑیوں اور باربرداری سے وابستہ ہے۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد، پشاور اور کوئٹہ جیسے شہروں میں آج بھی گدھا گاڑیاں سامان کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے بعض ممالک میں گدھے کا دودھ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ قدیم روایات کے مطابق مصر کی ملکہ Cleopatra گدھی کے دودھ سے غسل کیا کرتی تھیں۔ آج بھی یورپ کے بعض حصوں میں گدھی کے دودھ سے صابن اور جلدی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

گدھے کی اوسط عمر 25 سے 35 سال تک ہوتی ہے۔ یہ سماجی جانور ہے اور اپنے ساتھیوں سے مضبوط تعلق قائم کرتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گدھے کی یادداشت بہت مضبوط ہوتی ہے اور وہ برسوں بعد بھی راستوں اور لوگوں کو پہچان سکتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں گدھے کو حماقت کی علامت بنا دیا گیا ہے، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ یہ جانور انسانی تہذیب کا ایک خاموش معمار رہا ہے۔ اس نے جنگوں، تجارت، زراعت اور روزمرہ زندگی میں انسان کا بوجھ اٹھایا، مگر بدلے میں اسے طنز اور مذاق کا نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان میں گدھوں کی بڑھتی ہوئی تعداد محض ایک شماریاتی خبر نہیں بلکہ اس حقیقت کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ یہ جانور آج بھی ہماری معیشت اور دیہی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم گدھے کو محض ایک محاورے کے طور پر نہیں بلکہ ایک محنتی، وفادار اور مفید مخلوق کے طور پر دیکھیں، جس نے ہزاروں برس سے انسان کا ساتھ نبھایا ہے اور آج بھی خاموشی سے اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔

Check Also

Pakistan Mein Gadhon Ki Tadad Mein Izafa

By Amir Mohammad Kalwar