Rishta Jab Khof Ban Jaye
رشتہ جب خوف بن جائے

معمول کے مطابق میں ہائیکورٹ سے فارغ ہو کر لاہور سول کورٹس میں مسجد بلاک کی عدالتوں میں پیش ہونے کے بعد کوآپریٹو بلڈنگ کی کورٹس کے اندر پیشی کیلئے جا رہا تھا، وہ راستہ فیملی و گارڈین کورٹس سے ہو کر گزرتا تھا۔ دیکھا کہ عدالت کے احاطے میں رکھے لکڑی کے بنچ پر ایک آٹھ نو سالہ بچہ خاموش بیٹھا تھا۔ کندھے پر لٹکتا بھاری بھرکم سکول بیگ، ایک ہاتھ میں پانی کی بوتل، دوسرے ہاتھ میں ماں کی انگلی اور آنکھیں بار بار اس دروازے کی طرف اٹھتیں جہاں سے باپ کبھی باہر آتا، کبھی اندر جاتا تھا۔ علی کو اتنا ہی علم تھا کہ آج فیصلہ ہونا ہے مگر یہ فیصلہ کس کے حق میں ہوگا، یہ جواب ابھی کہیں بھی نہیں تھا۔ فائل میں سرفہرست ماں اور باپ تھے، علی کا نام کہیں آخر میں تھا۔
کہنے اور سننے کو یہ محض ایک واقعہ ہے مگر یہ اپنے اندر ایک تلخ داستان سموئے ہوئے ہے۔ وہ بھی ان بچوں میں سے ایک ایسا ہی بچہ تھا جو ماں باپ کی لڑائیوں میں بڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر والدین میں ایک روز شدید لڑائی جو علیحدگی پر منتج ہوئی۔
کچھ بچے شور میں نہیں، خاموش چیخوں میں بڑے ہوتے ہیں۔ ان کے گھروں میں دلوں کے ساتھ ساتھ جملے زیادہ ٹوٹتے ہیں۔ دروازے کم، دل زیادہ بند ہوتے ہیں۔ وہ بچے رات کو سونے سے پہلے کہانیاں نہیں سنتے، وہ روز یہ گنتے ہیں کہ آج امی ابو نے کتنی بار ایک دوسرے پر آواز بلند کی۔
میاں بیوی کی روزمرہ لڑائیاں جو بڑوں کو "معمولی نوک جھونک" لگتی ہیں، بچوں کے ذہن میں بجلی بن کر گرتی ہیں۔ بچہ جب باپ کی اونچی آواز سنتا ہے تو اسے صرف غصہ نہیں سنائی دیتا، اسے عدم تحفظ سنائی دیتا ہے۔ جب ماں آنسو پونچھ کر کہتی ہے "کچھ نہیں ہوا" تو بچہ سچ سمجھ جاتا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے اور بہت غلط ہو رہا ہے۔
ایسے بچے اسکول میں اکثر خاموش ہوتے ہیں یا حد سے زیادہ چڑچڑے۔ کبھی کبھار شدید جھگڑالو بھی ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ بچے گم صم رہنے لگتے ہیں۔ کوئی استاد ڈانٹ دے تو آنکھیں بھر آتی ہیں، کوئی دوست آواز بلند کرے تو دل دہل جاتا ہے۔ زیادہ تر ایسے بچے پڑھائی میں پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کا دماغ سبق سے زیادہ گھر کی لڑائیوں میں الجھا رہتا ہے۔ کچھ بچے ضرورت سے زیادہ "سمجھدار" ہو جاتے ہیں۔۔ اتنے کہ بچپن ان سے روٹھ جاتا ہے۔
میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ایسے نوجوان دیکھے ہیں جو بظاہر مضبوط تھے مگر اندر سے ٹوٹے ہوئے۔ جب ان سے بات کی گئی تو کہانی وہی نکلی "ہم نے بچپن میں کبھی ماں باپ کو ایک دوسرے سے سکون سے بات کرتے نہیں دیکھا"۔ یہی بچے بڑے ہو کر یا تو رشتوں سے ڈرنے لگتے ہیں یا خود وہی رویے دہرا دیتے ہیں جو انہوں نے سیکھے تھے۔
یہاں ایک تلخ حقیقت سمجھنا ضروری ہے۔ طلاق سے زیادہ خطرناک چیز زہریلا ماحول ہے۔ دو الگ گھروں میں رہنے والے مگر پرسکون والدین ایک ہی چھت کے نیچے لڑتے والدین سے کہیں بہتر ہوتے ہیں۔ بچہ جدائی کو وقت کے ساتھ سمجھ لیتا ہے مگر روزانہ کی تذلیل، چیخ و پکار اور نفرت کو کبھی ہضم نہیں کر پاتا۔
بچہ یہ نہیں دیکھتا کہ کون صحیح ہے اور کون غلط، وہ صرف یہ سیکھتا ہے کہ محبت تکلیف دیتی ہے اور رشتہ خوف۔
آخر میں اپنے مشاہدہ کے مطابق والدین کیلئے چند چند گزارشات کروں گا جو میں اکثر اپنے کلائنٹس کو کہا کرتا ہوں۔ اگر بات بگڑ رہی ہو تو بچوں کے سامنے خاموشی اختیار کریں۔ لڑائی مؤخر کی جا سکتی ہے، زخم نہیں۔
بچوں کو ایک دوسرے کے خلاف گواہ نہ بنائیں۔ یہ ان کی روح پر بوجھ ہوتا ہے۔ معافی مانگنا کمزوری نہیں، بچوں کیلئے طاقتور سبق ہے۔ اگر مسئلہ مستقل ہے تو مدد لینے میں شرمندگی نہ کریں۔۔ کونسلنگ، رہنمائی یا سمجھوتہ۔ یاد رکھیں کہ بچے وہ نہیں بنتے جو ہم کہتے ہیں۔ وہ وہ بنتے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔
آخر میں بس اتنا یاد رکھئے۔ بچے ماں باپ کے لفظوں سے نہیں، ماحول سے بڑے ہوتے ہیں اور اگر ماحول زہریلا ہو تو بچپن بھی زہر بن جاتا ہے۔

