Stages Of Life
سٹیجز آف لائف

انسان کی زندگی بظاہر ایک سیدھی لکیر لگتی ہے۔ پیدائش، جوانی، بڑھاپا اور پھر اختتام۔ مگر اگر ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو زندگی دراصل کئی موسموں سے گزرتی ہے۔ ہر موسم اپنے ساتھ ایک نیا سوال، نئی الجھن اور ایک نیا شعور لے کر آتا ہے۔ عمر بڑھتی ہے تو صرف جسم نہیں بدلتا، انسان کی سوچ، ترجیحات اور زندگی کو دیکھنے کا زاویہ بھی بدلتا رہتا ہے۔ انسان صرف عمر میں نہیں بڑھتا بلکہ اس کے اندر ایک پوری کائنات آہستہ آہستہ تشکیل پاتی ہے۔
زندگی کے ابتدائی سات سال جسمانی تشکیل کا زمانہ ہوتے ہیں۔ اس عمر میں بچہ دنیا کو سمجھنے کے لیے زیادہ تر نقل کرتا ہے۔ وہ اپنے والدین اور ماحول کو دیکھ کر سیکھتا ہے۔ اس کے لیے حقیقت اور کھیل میں زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ یہی وہ وقت ہے جب اس کے اندر بنیادی عادات اور رویے خاموشی سے بن رہے ہوتے ہیں۔ اس عمر میں بچہ دنیا کو زیادہ تر اپنے حواس کے ذریعے سمجھتا ہے۔ وہ جو دیکھتا ہے، وہی سیکھتا ہے۔ بچے کے لیے والدین اور گھر کا ماحول پوری کائنات ہوتے ہیں۔ وہ باتوں سے کم اور رویوں سے زیادہ سیکھتا ہے۔ اسی لیے ماہرین کہتے ہیں کہ انسان کی شخصیت کی بنیاد کا بڑا حصہ انہی ابتدائی برسوں میں رکھ دیا جاتا ہے۔ محبت، اعتماد اور تحفظ کا احساس اگر اس عمر میں مل جائے تو یہ پوری زندگی کے لیے ایک مضبوط بنیاد بن جاتا ہے۔
سات سے چودہ سال کی عمر میں بچہ ایک نئی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ یہ جذباتی اور تصوری نشوونما کا دور ہوتا ہے۔ تخیل اس قدر طاقتور ہوتا ہے کہ بچہ اپنے ذہن میں کہانیاں بنا لیتا ہے اور انہیں حقیقت سمجھنے لگتا ہے۔ ہیرو بھی بنتے ہیں اور خواب بھی۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں شخصیت کے رنگ بننا شروع ہوتے ہیں۔ کہانیاں، ہیرو، خواب اور آئیڈیل اسی عمر میں بنتے ہیں۔ استاد، کتابیں اور دوست اس کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالنا شروع کرتے ہیں۔ یہی وہ دور ہے جب اخلاقی اقدار اور اچھے برے کی ابتدائی سمجھ پیدا ہوتی ہے۔ اگر اس مرحلے پر رہنمائی درست مل جائے تو شخصیت متوازن رہتی ہے، ورنہ الجھنیں بھی یہی سے جنم لیتی ہیں۔
چودہ سے اکیس سال کی عمر آتے آتے انسان کے اندر ایک ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ یہ خودی اور شعور کا دور ہے۔ نوجوان اپنی شناخت کی تلاش میں ہوتا ہے۔ اسے آزادی چاہیے، اپنی مرضی کے فیصلے کرنے ہیں اور دنیا کو اپنے زاویے سے دیکھنا ہے۔ اسی مرحلے میں اکثر بغاوت، سوال اور نئی راہوں کی تلاش جنم لیتی ہے۔ یہی وہ دور ہے جب انسان بڑے خواب دیکھتا ہے اور دنیا کو بدل دینے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔ مگر یہی عمر جذباتی اتار چڑھاؤ سے بھی بھری ہوتی ہے۔ جسم میں ہارمونل تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔
اکیس سے اٹھائیس سال تک زندگی زیادہ عملی ہو جاتی ہے۔ اب خوابوں کی جگہ حقیقت آ کھڑی ہوتی ہے۔ عملی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ شادی ہو چکی ہوتی ہے۔ والدین بوڑھے ہو چکے ہوتے ہیں یا جہاں سے کوچ کر چکے ہوتے ہیں۔ پہلی یا دوسری اولاد ہو چکی ہوتی ہے۔ کیریئر، روزگار، رشتے اور مستقبل کے منصوبے انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اسی دور میں زندگی کی پہلی بڑی آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب انسان پہلی بار سمجھتا ہے کہ زندگی خواب دیکھنا نہیں بلکہ مسلسل محنت اور جدوجہد کا نام بھی ہے۔
اٹھائیس سے پینتیس سال کے درمیان ایک عجیب سا سوال جنم لیتا ہے۔ میں یہ سب کیوں کر رہا ہوں؟ یہ دور مڈ لائف کرائسز کا دور ہوتا ہے۔ ایک جانب معاشی طور پر مضبوط مستقبل کے اندیشے گھیرتے ہیں اور انسان چکی کی مشقت میں پستا چلا جاتا ہے۔ دوسری جانب گھر میں بیوی اور اولاد اس کی توجہ کی زیادہ مستحق ہو جاتی ہے۔ دماغ میں سوچیں چلتی رہتی ہیں۔ نیند کم ہو جاتی ہے۔ اس دور میں انسان اپنی ذات میں ہی کھویا رہتا ہے۔
پینتیس سے بیالیس سال تک پہنچتے پہنچتے انسان کے اندر ایک اور تبدیلی آتی ہے۔ یہ خود احتسابی کا دور ہوتا ہے۔ آدمی اپنے ماضی کو دیکھتا ہے، اپنی غلطیوں کو پرکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ کیا وہ وہی بن سکا جو بننا چاہتا تھا۔ اکثر یہی وہ عمر ہوتی ہے جب انسان کے اندر اور باہر کی جنگ شروع ہوتی ہے۔ یہ اندرونی سکون کی تلاش کا مرحلہ ہے۔ انسان کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ صرف کامیابی یا پیسہ ہی سب کچھ نہیں۔ وہ زندگی کے مقصد پر غور کرنا شروع کرتا ہے۔ بہت سے لوگ اسی عمر میں روحانیت، مطالعہ یا اندرونی سکون کی تلاش کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے۔ بعض لوگوں کے لیے یہ مرحلہ نئی شروعات کا سبب بنتا ہے اور بعض کے لیے مایوسی کا۔
بیالیس کے بعد زندگی نسبتاً پرسکون ہو جاتی ہے۔ اب تجربہ انسان کا سب سے بڑا استاد بن چکا ہوتا ہے۔ یہ تجربہ اور بصیرت کا زمانہ ہے۔ بہت سی باتیں جو جوانی میں الجھن لگتی تھیں، اب واضح نظر آنے لگتی ہیں۔ انسان کو سمجھ آ جاتی ہے کہ زندگی دراصل میراتھن دوڑ نہیں بلکہ ایک سفر ہے۔ جو ہنس کے بھی کاٹا جا سکتا ہے اور رو کے بھی۔ تو ہنس کر کاٹنے میں کیا حرج ہے۔ اب انسان جذبات کے بجائے تجربے کی بنیاد پر فیصلے کرتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ زندگی میں ہر چیز کو حاصل کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے ترجیحات بدلنے لگتی ہیں۔ سکون، صحت اور تعلقات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر عمر کے اپنے سوال ہیں اور ہر سوال کا جواب بھی اسی عمر کے تجربے میں چھپا ہوتا ہے۔ جو بچپن میں معصومیت ہوتی ہے، وہ جوانی میں نہیں رہتی۔ جو بصیرت پچاس کے قریب آ کر ملتی ہے، وہ بیس سال کی عمر میں ممکن نہیں ہوتی۔ جو انسان ہر مرحلے سے کچھ سیکھ لے، وہی اصل میں زندگی کا مسافر بھی ہے اور اس کا طالب علم بھی۔ زندگی اسی کا نام ہے۔ بالکل جیسے لاروا سے خوش رنگ تتلی یا بھنورا بننے تک کا سفر۔
بہت سے ایسے بھی ہیں جو زندگی کے کسی مرحلے پر کچھ نہیں سیکھتے۔ ان کی ساری زندگی لاروا فیز میں بیت جاتی ہے۔ جسمانی نشونما ہو جاتی ہے ذہنی نشونما رک جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کا زمانے میں ہر فرد کے ہاتھ انٹرنیٹ سے منسلک ٹچ موبائل ہے۔ وہ براہ راست بڑے سے بڑے کو رابطہ کر سکتا ہے۔ اس پر رائے دے سکتا ہے۔ کمنٹ کر سکتا ہے۔ ہمارا من حیث القوم آئی کیو لیول کتنا ہے اس کے شواہد دیکھنا ہوں تو فیملی ویلاگنگ کرنے والے یا اول فول بکنے والے یوٹیوبرز کے کانٹینٹ پر، بیہودہ حرکات کرنے والے ٹک ٹاکرز کے کانٹینٹ پر، سیاسی جماعتوں کے ترجمان "صحافیوں " کے ویوز اور مذہبی تشخص رکھنے والے فتنہ پرور یا انتثار پسند خطیبوں کی ویڈیو کے ویوز پر نظر دوڑا کر ملاحظہ کر لیجئے۔ جواب آپ کو مل جائے گا۔
زندگی مرحلہ وار سنورتی ہے یا بگڑتی ہے۔ یہ ترتیب کا نام ہے۔ برج نرائن کا کیا خوبصورت شعر یاد آ گیا ہے۔
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزاء کا پریشاں ہونا

