Sunday, 15 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Jangi Mahol Aur Pakistani Maeeshat Ko Lahaq Khatraat

Jangi Mahol Aur Pakistani Maeeshat Ko Lahaq Khatraat

جنگی ماحول اور پاکستانی معیشت کو لاحق خطرات

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر آگ کے ڈھیر پر بیٹھا دکھائی دے رہا ہے اور آگ ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی بلکہ روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عرب ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ خطے میں عسکری سرگرمیوں کی شدت، فضائی حملوں کی خبریں اور میزائلوں کے تبادلے ایک ایسے ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں کسی بھی غلط اندازے کی قیمت پورا خطہ ادا کر سکتا ہے۔ اسی تناظر میں جب محمد بن سلمان سے پاکستان کے وزیرِ اعظم اور عسکری قیادت کی ملاقات کی خبر سامنے آتی ہے تو اس کی اہمیت محض ایک رسمی سفارتی ملاقات سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔

پاکستان مسلمان ممالک کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔ اس کے لیے خلیجی خطہ صرف خارجہ پالیسی کا ایک باب نہیں بلکہ معاشی بقا کا ایک اہم ستون بھی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت عرب ریاستوں میں لاکھوں پاکستانی محنت کش برسوں سے روزگار حاصل کر رہے ہیں یقینی طور پر ہمارے اور آپ کے کئی رشتےدار بھی ہونگے۔ اندازوں کے مطابق تقریباً ساٹھ لاکھ پاکستانی عرب ممالک میں مقیم ہیں اور انہی کی بھیجی ہوئی ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مضبوط سہارا بنی ہوئی ہیں۔ گزشتہ برس دس ارب ڈالر سے زائد کی رقوم صرف سعودی عرب سے پاکستان آئیں جو ایک ایسے وقت میں قومی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں جب ملک کو مسلسل مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ تقریباً اتنا ہی دیگر عرب ممالک سے پاکستان میں ریمیٹنس کی مد میں موصول ہوا۔

اسی لیے خلیج میں پیدا ہونے والی ہر عسکری کشیدگی پاکستان کے لیے براہِ راست تشویش کا باعث بنتی ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت کا ایک اہم حصہ بھی انھی ممالک کیساتھ جُڑا ہوا ہے۔ اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوا تو سب سے پہلا خطرہ انہی پاکستانی محنت کشوں کے روزگار اور سلامتی کو لاحق ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ بھی پاکستان جیسے درآمدی معیشت والے ملک کے لیے فوری اثرات پیدا کرتا ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ایران امریکہ جنگ کے آغاز میں ہی پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بیک جنبش قلم پچاس روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا۔

عسکری اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے کسی نئی جنگ میں الجھنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی دانشمندی کا تقاضا۔ ملک پہلے ہی داخلی سیاسی و معاشی مسائل اور علاقائی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ بھارت کے ساتھ بارڈر پر ہمیشہ کشیدگی رہتی ہے، افغانستان کے ساتھ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور اب ایران امریکہ جنگ کی تپش بھی پاکستان میں محسوس ہونے لگی ہے۔ تاہم پاکستان کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے خلیجی ریاستوں کے ساتھ تاریخی اور دفاعی تعلقات موجود ہیں جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی ایک طویل سرحد اور سفارتی روابط ہیں۔ یہی منفرد حیثیت پاکستان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ براہِ راست فریق بننے کے بجائے ایک معتدل ثالث یا رابطہ کار کا کردار ادا کر سکے۔

ماضی میں بھی پاکستان کئی مواقع پر خاموش سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ خلیجی ریاستوں کے ساتھ دفاعی تعاون اور اعتماد کے رشتے اسے ایک ایسا پل بنا سکتے ہیں جو متحارب قوتوں کے درمیان بات چیت کے راستے کھول سکے۔ خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے ساتھ قریبی روابط اس بات کا امکان پیدا کرتے ہیں کہ پاکستان پسِ پردہ سفارتی کوششوں کے ذریعے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرے۔

اصل چیلنج یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اب صرف دو یا تین ممالک کا معاملہ نہیں رہی۔ اس میں عالمی طاقتوں کے مفادات، توانائی کی عالمی منڈی اور علاقائی رقابتیں سب ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایسے پیچیدہ منظرنامے میں پاکستان کے لیے سب سے دانشمندانہ راستہ یہی ہے کہ وہ توازن کی پالیسی اختیار کرے۔ نہ کسی بلاک کا حصہ بنے اور نہ ہی ایسے اقدامات کرے جو اسے غیر ضروری محاذ آرائی میں دھکیل دیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کی فوجی صلاحیت سے زیادہ اس کی سفارتی ساکھ اور خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ قائم اعتماد کے رشتوں میں مضمر ہے۔ اگر یہ ساکھ دانشمندی سے استعمال کی جائے تو پاکستان خلیجی خطے میں استحکام کے لیے ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

آج کے نازک لمحے میں یہی حقیقت سب سے زیادہ اہم ہے کہ جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ معیشتوں اور معاشروں میں بھی تباہی لاتی ہیں۔ پاکستان کے لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ اس بھنور سے دور رہے لیکن اگر ممکن ہو تو کشیدگی کم کرنے کے لیے خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے کیونکہ کبھی کبھی امن کے لیے سب سے مؤثر آواز وہ ہوتی ہے جو بلند و بانگ دعؤوں کے بجائے سنجیدہ تدبر کے ساتھ اٹھائی جائے۔

Check Also

Khamosh Cheekh

By Shahid Nasim Chaudhry