Sunday, 15 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Jasoosi Digest Aur Main (4)

Jasoosi Digest Aur Main (4)

جاسوسی ڈئجسٹ اور میں (4)

جاسوسی ڈائجسٹ کے دفتر میں ایک ایسے رائٹر کو دیکھا جو خود کسی فلمی کردار سے کم نہیں تھے۔ لمبا قد، بھاری بھرکم جسم، سانولا رنگ، گھنی مونچھیں۔ سر کے بال تب بھی کم تھے۔ آواز گرج دار تھی۔ ایڈیٹر انور فراز صاحب نے ان سے میرا تعارف کروایا۔ وہ شیعہ نام اور انچولی سے تعلق کا سن کر خوش ہوئے۔ پھر گفتگو کے دوران جب انھوں نے بنوامیہ یا بنوعباس کی کسی شخصِت کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنے وقت کے جلیل القدر غنڈے تھے، تو میں بے اختیار ہنس پڑا۔

ان کا نام غلام قادر تھا اور میں جمال احسانی کے پرچے رازدار میں ان کی کہانیاں پڑھ چکا تھا۔ لیکن تب یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ پیپلزپارٹی کی رہنما شہلا رضا کے شوہر ہیں۔ وہ بہت قابل آدمی ہیں اور شاید ایم بی اے کیا تھا۔ اچھی پوزیشنز پر رہے۔ لیکن پیپلزپارٹی کے برے وقتوں میں بیروزگار ہوگئے۔ تب فراز صاحب نے انھیں ڈائجسٹوں میں لکھنے کا راستہ دکھایا۔ وہ شاید اب بھی لکھتے ہیں۔

ایک اور رائٹر روبینہ رشید تھیں جو ہمیشہ کچھ نہ کچھ اور بھی کرتی رہتی تھیں۔ جاب کے ساتھ لکھنے کا مشغلہ جاری رکھتیں۔ انھیں بعد میں بھی آرٹس کونسل اور دوسری جگہوں پر دیکھا۔ ان کی ہینڈرائٹنگ یاد ہے اور حسام بٹ صاحب کا تبصرہ بھی۔ ہم ایک خاص انداز سے لفظ لکھتے ہیں۔ یعنی دائیں سے بائیں اور اوپر سے نیچے۔ روبینہ کا لفظ بائیں سے بھی شروع ہوسکتا تھا اور نیچے سے اوپر چلا جاتا تھا۔ بٹ صاحب ان کی کہانیوں سے مثالیں دکھاتے اور ہم خوب ہنستے۔

عام طور پر رائٹرز کے اصل مسودے سیدھے کمپوزنگ سیکشن میں چلے جاتے تھے۔ ڈائجسٹوں کے مالک معراج رسول تھے لیکن کمپوزنگ کا شعبہ ان کے بھائی اعجاز رسول کے ماتحت تھا یا وہ اس کے مالک تھے۔ اعجاز رسول اپنے بھائی سے قد و قامت میں بڑے تھے۔ رنگ دونوں کا گہرا تھا۔ کمپوزنگ کی انچارج ایک خاتون تھیں جن کا نام میں بھول گیا ہوں۔ البتہ ان کے بہنوئی نصرت بھائی اور ان کے ہمکار اظہر بھائی کو نہیں بھول سکتا۔

نصرت بھائی کا ذکر کبھی پہلے بھی کیا تھا۔ وہ نوجوانوں کے لیے کرئیر میں ترقی کی مثال تھے۔ لڑکپن میں کتابت سے آغاز کیا۔ کمپیوٹر آیا تو کمپوزنگ سیکھ لی اور جاسوسی ڈائجسٹ میں کافی عرصہ کام کیا۔ پھر ہمارے ساتھ روزنامہ ایکسپریس کی اولین ٹیم میں شامل ہوئے اور پیج میکنگ کرنے لگے۔ ان کا چھوٹا بھائی یاسر ہماری اسپورٹس ڈیسک کا کمپوزر تھا۔ نیوز چینلوں کا دور آیا تو نصرت بھائی اخبار سے ٹی وی میں چلے گئے اور خبریں پڑھنے لگے۔ میں جب انھیں اسکرین پر دیکھتا تو ان کے لیے دل سے داد نکلتی۔ بدقسمتی سے نصرت بھائی کو کینسر ہوگیا اور وہ جلدی رخصت ہوگئے۔

ان کے قریبی دوست اظہر بھائی بھی منفرد شخص تھے۔ وضع دار، ہنس مکھ اور جملے باز۔ لیکن ادب اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے۔ جاسوسی ڈائجسٹ میں ان جیسی کمپوزنگ کوئی نہیں کرسکا۔ وہ بہت کم غلطیاں کرتے تھے۔ احمد اقبال صاحب کی کہانیوں کی کمپوزنگ وہی کرتے کیونکہ ان کی ہینڈرائٹنگ پڑھنا اور سمجھنا دشوار تھا۔ غالباََ اظہر بھائی کی کوئی بہن بیوہ تھیں اس لیے انھوں نے تاخیر سے شادی کی۔ ڈائجسٹوں کے ملازمین کی تنخواہیں بہت کم ہوتی تھیں۔ اظہر بھائی پریشان رہتے تھے۔ ایک دن سی وی لے کر میرے پاس جیو آئے اور میں نے کوشش بھی کی لیکن نیوز چینلوں میں کمپوزر کی آسامیاں نہیں ہوتیں۔ ان کے انتقال کی خبر نے بھی افسردہ کیا۔

ایک اور لڑکا شبیر یاد آرہا ہے جو آفس بوائے تھا۔ مسودہ کمپوزنگ میں دے آو، پرنٹس لے آو، ہوٹل سے کھانا لا دو، چائے بناکر پلا دو، یہ حکم بجا لاتا تھا۔ لیکن پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ اسے کمپوزنگ سکھادی گئی اور وہ آفس بوائے سے کمپوزر بن گیا۔ بڑے عہدوں اور بڑی تنخواہوں والے نہیں جان سکتے کہ اتنی سی پروموشن بھی کسی غریب کے لیے کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔

شبینہ فراز نے جاسوسی ڈائجسٹ چھوڑا تو ایک دبلی پتلی لڑکی کو ان کی جگہ ملازمت ملی۔ اس کا نام لبنی مقبول تھا۔ دفتر میں سب آپ جناب کرکے بات کرتے تھے۔ اس نے مجھے تم کہہ کر مخاطب کیا تو میں چونکا۔ حالانکہ عمر میں مجھ سے کم تھی۔ بعد میں اس کی شادی روزنامہ آغاز کے صحافی سے ہوئی۔ ایک بار میں ڈی ایچ اے فیز ٹو والے دفتر گیا تو لبنی نے بتایا کہ اس کا شوہر مجھے جانتا ہے۔ افسوس کہ اس کے شوہر کا جوانی میں انتقال ہوگیا۔

یہاں میں ذرا پٹری بدل کر جیو کی بات کرنا چاہتا ہوں۔ اس کی وجہ بعد میں بتاوں گا۔

جب مجھے جیو میں ملازمت ملی تو اس وقت وہاں چند ایک ہی پروڈیوسر تھے۔ ان میں سے ایک مرزا کلب عباس تھے۔ وہ جیونیوز کے ایم ڈی اظہر عباس کے کزن ہیں۔ انھیں صرف ایم کے کہا جاتا تھا۔ میں نے ان کا نام بہت سنا لیکن پہلی بار دبئی جاکر دیکھا۔

کھچڑی بالوں اور ویسی ہی ڈاڑھی والے ایم کے ہمیشہ جلدی میں رہتے تھے۔ ان کی باریک آواز دبئی نیوزروم میں گونجتی رہتی تھی۔ ان کا دوستانہ انداز سب کو پسند آتا تھا لیکن بعض اوقات وہ بے وجہ کی حیل حجت کرتے تھے۔ دبئی اسٹیشن کے بیورو چیف بننے کے بعد ان کا رویہ بھی سخت ہوگیا۔ کچھ لوگ ان سے بہت خوش رہتے تھے اور کچھ بہت ناراض۔ اس کی مختلف وجوہات تھیں۔

جب ڈان کی انتظامیہ نے چینل لانچ کرنے کا فیصلہ کیا تو اظہر عباس صاحب چند پروڈیوسرز کو لے کر وہاں چلے گئے۔ میں نے سنا ہے کہ میر ابراہیم نے ایم کے کو روکنے کی کافی کوشش کی لیکن وہ نہ مانے۔ ڈان کا نیوز چینل نہیں چل سکا۔ اظہر عباس واپس جیو آئے تو پروڈیوسرز پیچھے رہ گئے۔ انھوں نے واپسی کی انفرادی کوششیں کیں۔ اظہر صاحب نے بھی سفارش کی ہوگی لیکن خاص طور پر ایم کے کا معاملہ اٹک گیا۔ وہ کئی سال تک واپس نہیں آسکے۔

اس دوران میں نے عجیب قصہ سنا۔ کسی نے بتایا کہ ایم کے جاسوسی ڈائجسٹ میں کام کررہے ہیں۔ بلکہ سارا انتظام ان کے ہاتھ میں آگیا ہے کیونکہ معراج رسول شدید بیمار ہیں۔ مجھے بہت حیرت ہوئی۔ میں نے جاننا چاہا کہ ایم کے وہاں کیسے پہنچ گئے اور ڈائجسٹوں سے کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود منتظم اعلی کیسے بنے۔ تب انکشاف ہوا کہ ایم کے معراج رسول کی اہلیہ عذرا رسول کے بھائی ہیں۔

Check Also

Mazhbi Jang (3)

By Javed Chaudhry