Khamosh Cheekh
خاموش چیخ

معاشرہ صرف اینٹ اور گارے سے بنے مکانوں کا نام نہیں ہوتا، بلکہ یہ ان اقدار، روایات اور سب سے بڑھ کر اس "اعتبار" کا نام ہے جو انسان کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے۔ لیکن جب وہی اعتبار لہو لہان ہو جائے، جب وہ ہاتھ جو سر پر شفقت کے لیے اٹھنے چاہیے تھے، معصومیت کا گلا گھونٹنے لگیں، تو سمجھ لیجیے کہ ہم انسانیت کے اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ صرف پچھتاووں اور نوحوں سے ہو کر گزرتا ہے۔
لیہ کی تحصیل چوبارہ کے ایک دور افتادہ چک نمبر 483 ٹی ڈی اے سے اٹھنے والی یہ چیخ صرف ایک باپ کی نہیں ہے، بلکہ یہ اس ہر اس شخص کے ضمیر پر دستک ہے جو ابھی تک زندہ ہے۔ 9 مارچ 2026 کی وہ شام، جس کا ذکر ایف آئی آر نمبر 122/26 میں موجود ہے، محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ ایک ننھی پری کی معصومیت کی بربادی کی لرزہ خیز داستان ہے۔
اس المیے کے مرکز میں تین اہم کردار ہیں اور ہر کردار اپنی جگہ ایک الگ کہانی سنا رہا ہے۔
1۔ محمد شوکت (مدعی مقدمہ): وہ باپ جو زندہ درگور ہوگیا
ایک محنت کش باپ، جو تپتی دھوپ میں مزدوری اس لیے کرتا ہے کہ اپنی سات سالہ بیٹی کے مستقبل کو سنوار سکے۔ اس کے لیے اس کی بیٹی کائنات کا سب سے قیمتی اثاثہ تھی۔ لیکن جب اسے ایک واٹس ایپ ویڈیو کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ اس کی لختِ جگر کے ساتھ اس جگہ پر زیادتی کی گئی جسے وہ "حرمت" کا مرکز سمجھتا تھا، تو اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ ایک باپ کے لیے اس سے بڑی قیامت کیا ہوگی کہ وہ اپنی بیٹی کی بے حرمتی کی ویڈیو اپنی آنکھوں سے دیکھے؟ شوکت کی فریاد میں صرف غصہ نہیں، بلکہ وہ ٹوٹا ہوا مان ہے جو اس نے اپنے معاشرے پر کیا تھا۔
2۔ مجاہد ولد غلام محمد (ملزم): تقدس کی چادر میں چھپا درندہ
ملزم مجاہد، مسجد کا مولوی ہے، جس پر یہ سنگین الزامات ہیں، اس بھیڑیے کی علامت ہے جو انسانی، دینی لبادہ اوڑھ کر معصوم بچوں کا شکار کرتے ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق، اس نے نہ صرف سات سالہ بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کیں بلکہ اپنا عضو بچی کہ منہ میں ڈال کر اس کی ویڈیو بھی بنائی تاکہ اسے بلیک میل کر سکے اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر لگادی۔ یہ شخص اس گندی ذہنیت کا عکاس ہے جو یہ بھول جاتا ہے کہ جس بچی کو وہ اپنی ہوس کا نشانہ بنا رہا ہے، وہ کسی کے گھر کا چراغ اور کسی کی پوری زندگی ہے۔ دفعہ 377B اور 292 کے تحت درج یہ مقدمہ اس کی درندگی کی گواہی دے رہا ہے۔
3۔ سات سالہ معصوم بچی: خاموش چیخ
اس پوری کہانی کا سب سے مظلوم کردار وہ سات سالہ بچی ہے جسے شاید ابھی "زیادتی" اور "بے حرمتی" جیسے الفاظ کے معنی بھی معلوم نہ ہوں۔ وہ تو صرف یہ جانتی تھی کہ اسے ڈرایا گیا ہے، اسے دھمکایا گیا ہے کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو اسے مار دیا جائے گا۔ اس کے ذہن پر جو نقش بنے ہوں گے، وہ شاید ساری زندگی نہ مٹ سکیں۔ وہ خوف جو اس کے معصوم چہرے پر اس وقت چھا گیا ہوگا جب درندہ اس کی طرف بڑھ رہا تھا، اس کا حساب کون دے گا؟
تھانہ چوبارہ میں درج رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب مدعی کو اس کی بیٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی ویڈیو ملی۔ ملزم نے نہ صرف بچی کی معصومیت کو پامال کیا بلکہ اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر خاموش رہنے پر مجبور کیا۔
پولیس نے اس واقعے پر درج ذیل دفعات کے تحت کارروائی شروع کی ہے:
377B: جو کہ بچوں کے ساتھ بدفعلی اور زیادتی کی سخت ترین سزا تجویز کرتی ہے۔
292: جو فحش مواد کی تیاری اور اس کی تشہیر سے متعلق ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف دفعات لگا دینے سے انصاف ہو جائے گا؟ ہماری عدالتیں اور ہمارا نظامِ تفتیش کیا اس معصوم بچی کو وہ ذہنی سکون لوٹا سکے گا جو اس سے چھین لیا گیا ہے؟
ہم اکثر ایسے واقعات کو خبروں کی حد تک پڑھتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں۔ لیکن سوچیے، کیا یہ واقعہ صرف چک نمبر 483 کا ہے؟ نہیں۔ یہ ہر اس گلی، ہر اس محلے کا قصہ ہے جہاں ہم اپنے بچوں کو "اعتبار" کے نام پر کسی کے حوالے کر دیتے ہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو "گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ" سکھانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں انہیں یہ حوصلہ دینا ہوگا کہ وہ ہم سے ہر بات شیئر کر سکیں۔ اگر اس بچی نے خوف کے مارے پہلے نہ بتایا، تو یہ اس کے خوف سے زیادہ ہمارے اس نظام کا خوف تھا جہاں مظلوم کو ہی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ایس ایچ او چوبارہ اور متعلقہ حکام کے لیے یہ کیس محض ایک فائل نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ایک امتحان ہے اس انصاف کے نظام کا، جس پر عام آدمی کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔ ملزم مجاہد جیسے کرداروں کو عبرت کا نشان بنانا ضروری ہے تاکہ کل کوئی دوسرا درندہ کسی معصوم کی طرف میلی آنکھ اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچے۔
وہ سات سالہ بچی آج ہم سب کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اس کی خاموشی میں ایک سوال ہے: "میرا قصور کیا تھا؟" اور جب تک ہم اس سوال کا جواب ایک شفاف انصاف کی صورت میں نہیں دیتے، ہم سب اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔
نوٹ: یہ کالم فراہم کردہ قانونی دستاویز (ایف آئی آر) کے مندرجات پر مبنی ایک تجزیاتی اور سماجی تحریر ہے تاکہ معاشرتی آگاہی پیدا کی جا سکے۔
لیہ مسجد میں کم سن بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والا مولوی مجاھد اقبال سی سی ڈی ساھیوال کے ساتھ پولیس مقابلہ میں نیفے میں اپنی گولی لگنےسے زخمی حالت میں گرفتار ہو چکا ہے۔۔
خدارا اپنے بچوں کا خاص خیال رکھیں!

