Sunday, 15 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sanober Nazir
  4. Insani Huqooq Ki Jang Ya Wasail Par Qabza Geeri?

Insani Huqooq Ki Jang Ya Wasail Par Qabza Geeri?

انسانی حقوق کی جنگ یا وسائل پر قبضہ گیری؟

اسرائیل دنیا کا وہ تخریب کار اور غیر ذمہ دار ملک جس کی گزشتہ ایک سال میں فوجی کارروائیاں متعدد محاذوں تک پھیلی رہیں۔ صرف بارہ ماہ میں اسرائیل نے مجموعی طور پر چھ ممالک اور تین آبی علاقوں میں تقریباً 10,600 حملے کیے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ فلسطین پر جہاں 8,332 حملے، جنگ بندی کے باوجود کارروائیوں کا تسلسل، تقریباً 20 لاکھ افراد کی بے دخلی اور 72 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اسی عرصے میں لبنان میں 1,653،ایران میں 379، شام میں 207 اور یمن میں حوثی اہداف پر 48 حملے کیے ہیں، جبکہ قطر، تیونس، مالٹا اور یونان سے متعلق بحری یا فلوٹیلا پر حملے بھی شامل ہیں۔ اسرائیل کے ان تمام حملوں کے پیچھے امریکہ کی پشت پناہی شامل رہی ہے جس کے اپنے جنگی جرائم کی فہرست کافی طویل ہے۔

حالیہ ایران پر حملہ بھی اسرائیل اور امریکہ کی ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں۔ اسرائیل کی سلامتی کے پیش نظر امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے تقریباً بیس ملکوں پر اپنے فوجی اڈے بنا رکھے ہیں۔ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے سب سے پہلے آس پاس امریکی فوجی اڈوں کو تباہ کرنے کی پالیسی اپنائی جسے سیلف ڈیفینس کہا جائے گا۔ حیرت انگیز بات ہے کہ ایران پر پچھلے حملوں کے بعد ٹرمپ اور اسرائیلی انتظامیہ نے واضح طور پر کہا تھا کہ ہم نے ایران کا نیوکلیئر پروگرام تباہ کر دیا ہے اور پھر اچانک 28 فروری ہفتے کی صبح ٹرمپ نے امریکی کانگریس سے مشورہ لیے بغیر ایران پر دوبارہ حملے کر دیے۔ حملوں کا جواز ایران کے جوہری پروگرام کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دیا جسے بقول وہ چھ ماہ قبل نیست و نابود کر چکے تھے۔

ایران کی ملا رجیم اور ان کی ہارڈ کور لیڈرشپ کی اپنی عوام بالخصوص عورتوں پر ظالمانہ کارروائیوں سے بھلا کون اختلاف کر سکتا ہے لیکن ایران میں ملائیت کا انقلاب برپا ہونے کے پیچھے کیا محرکات تھے اس کے لیے ذرا ماضی پر نظر ڈالیے۔ 1953 میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والے صدر محمد مصدق کی حکومت کو امریکہ اور برطانیہ نے سی آئی اے کی مدد سے بغاوت کے ذریعہ ختم کروایا۔ وجہ یہ تھی کہ مصدق نے ایرانی تیل قومیانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ امریکہ اور برطانیہ نے اپنے پٹھو رضا شاہ پہلوی کو حکومت تھمائی اور دوبارہ ایران کے تیل اور وسائل کے مالک بن بیٹھے۔ شاہ ایران 29 سال امریکہ کی مکمل سرپرستی اور مدد سے ملک پر قابض رہا۔ ایرانی عوام شاہ کی خونی آمریت سے بیزار ہو چکے تھے۔

سن 79 میں ایرانی عوام نے شاہ کے خلاف صرف اس لیے بغاوت نہیں کی کہ وہ جابر اور قابض حکمران تھا بلکہ عوام میں امریکہ مخالف جذبات بھی بھڑک اٹھے تھے۔ یہ ملا رجیم امریکہ کی پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کیونکہ آیت اللہ خمینی امریکہ اور برطانیہ کی شرائط مان کر مکمل آشیرواد سے ملک واپس آئے لیکن آنے کے بعد تمام وعدوں کو پس پشت ڈال کر اپنے من پسند فیصلے کرنے لگے۔

اگر اس وقت یہی خمینی امریکہ کے اشاروں پر چلنے کا فیصلہ کر لیتے تو جنرل ضیاءالحق کی اسلامائزیشن کی طرح سامراجی قوتوں کو یہ ملا رجیم بھی قابل قبول ہوتی۔

اس خوش فہمی سے نکل آئیں کہ امریکہ اور اسرائیل کو وہاں انسانی حقوق کی پامالیوں یا عورتوں پر تشدد کے واقعات پر پیٹ میں درد اٹھ رہے ہیں۔ امریکہ اور دوسرے طاقتور ترین ممالک کے پیڈوفائلز جو اپنے ہی ملک کی بچے بچیوں کے حقوق پیروں تلے روندتے رہے انھیں ایرانی عورتوں پر ترس آ رہا ہے چہ معنی دارد! دراصل معاملہ صرف خطے میں صیہونی بالادستی کا ہے، تیل کے ذخائر پر قبضے کا ہے اور بدمعاشی قائم رکھنا ہے بالکل اسی طرح جیسے لیبیا، عراق، شام، لبنان، سوڈان، یمن اور افغانستان جیسے ممالک کو مستقل لڑنے، مرنے، سسکنے اور رسنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ کبھی کسی ملک پر آمر اور آمریت کو بہانہ بنایا تو کبھی کسی ملک میں خطرناک جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کو قرار دیا۔

لیبیا، شام، عراق معاشی طور پر مستحکم ممالک تھے۔ گو کہ ان کے اندرونی معاملات میں عوام اور حکومتوں کے درمیان مسائل ضرور موجود تھے لیکن ایک ملک کی وحدت تو قائم تھی اور اب ایران پر بھی انسانی حقوق کی بحالی کے نام پر مشرق وسطیٰ کی تمام محفوظ اور مستحکم ریاستوں کی معیشت کو بھی ٹھپ کر دیا ہے۔

ابھی حال ہی میں امریکہ کا سب سے جدید اور موثر دفاعی نظام تھاڈ (Thaad) کو اُس ایران نے اڑا کر رکھ دیا ہے جو امریکہ کے بجٹ کا صرف تین فیصد اپنے دفاع کے لیے استعمال کرتا ہے۔ دنیا میں اس حملے کو سب سے بڑی فوجی یا جنگی کامیابی کہا جا رہا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل جیسے جدید ہتھیاروں، ٹیکنالوجی اور دنیا کی بڑی افواج سے لیس ملک ایک ایسے ملک (ایران) سے لڑ رہے ہیں جو پچھلے چار دہائیوں سے شدید اقتصادی پابندیوں کی زد میں ہے۔ ایران پر اقتصادی پابندیوں کی تاریخ کافی پرانی ہے، جس کا آغاز نومبر 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے کے بحران کے بعد ہوا۔ تب سے اب تک مختلف مراحل میں امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے ایران پر متعدد پابندیاں عائد کی ہیں۔

1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر حملے کے بعد امریکہ نے ایرانی اثاثے منجمد کر دیے اور تجارت پر پابندی لگا دی۔ صدر کلنٹن نے اپنے دور حکومت 1995 کے دوران پہلے امریکی کمپنیوں کو ایرانی تیل و گیس میں سرمایہ کاری سے روکا پھر 1996 میں ایران سینکشنز ایکٹ، (ISA) کے ذریعے غیر ملکی کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگائی گئیں جو ایران کے توانائی کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کرتی تھیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے جوہری پروگرام کے باعث ایٹمی مواد اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر 2006 سے 2010 تک مزید پابندیاں عائد کیں۔

2015 میں جوہری معاہدے (JCPOA) ہونے کے بعد بہت سی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں، لیکن 2018 میں صدر ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدگی کے بعد دوبارہ "انتہائی دباؤ" کی پالیسی کے تحت سخت ترین معاشی پابندیاں نافذ کر دیں۔

حال ہی میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور انسانی حقوق کی "مبینہ" خلاف ورزیوں کے تناظر میں امریکہ، یورپی یونین اور برطانیہ نے ایرانی حکام اور اداروں پر مزید نئی پابندیاں لگائیں۔ اس کے علاوہ ایرانی تیل کی برآمدات اور اس کی نقل و حمل (شپنگ) پر سخت پابندیاں ہیں۔ ایرانی بینکوں کا عالمی مالیاتی نظام (SWIFT) سے رابطہ منقطع ہے اور بیرون ملک موجود ایرانی اثاثے منجمد ہیں۔ اسلحے کی خرید و فروخت، ڈرونز کی تیاری اور ایسی ٹیکنالوجی کی برآمد پر پابندی ہے جو جوہری یا میزائل پروگرام میں استعمال ہو سکے۔ سونا، قیمتی دھاتیں، اسٹیل، کوئلہ اور جہاز سازی کے شعبے بھی پابندیوں کی زد میں ہیں۔ یہی نہیں ایران پر انفرادی پابندیاں بھی عائد ہیں جن میں ایرانی قیادت، پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے حکام اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں مبینہ طور پر ملوث شخصیات کے اثاثے منجمد اور ان کے سفر پر پابندی ہے۔

ہر محاذ پر پابندیوں کا شکار ایران آج بارہویں دن بھی تن تنہا جارحیت کے سامنے کھڑا ہے تو خود اندازہ لگا لیں کہ اگر امریکہ اور اسرائیل چین سے پنگا لیتے تو کہاں کھڑے ہوتے؟

Check Also

Jasoosi Digest Aur Main (4)

By Mubashir Ali Zaidi