Sunday, 15 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Qamar Akash
  4. Jana e Baal

Jana e Baal

جنابِ بعل

جان سٹوورٹ مل نے کہا تھا "جو شخص صرف اپنے ہی پہلو کو جانتا ہے، دراصل وہ اپنے پہلو کو بھی اچھی طرح نہیں جانتا"۔

تنگ نظری ہمارے ہاں ایک اہم سماجی مسئلہ بنتی جا رہی ہے اور میں سمجھتا ہوں اس کی بڑی وجہ علم کی کمی ہے۔ گزشتہ دنوں کراچی میں ایک فنکار مجسمہ ساز بعل دیوتا کا تھرموپول کا مجسمہ کسی کے آڈر پر تیار کر رہا تھا۔ ہونی شامت کو اسے باہر سرِعام رکھا ہوا تھا جس کی تصاویر اور وڈیوز لوگوں نے بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیں اس پر متعلقہ تھانہ کی پولیس نے دیگر تمام اہم کام چھوڑ کر مجسمہ ساز کے ہاں ریڈ کرکے مسجمہ قبضہ میں لے لیا۔ پولیس کو لگ رہا تھا اس کی شائد پوجا کی جائے گی۔ یاد رہے اس مجسمے کو شیطان کا مجسمہ کہا جا رہا تھا۔ گویا اللہ کے علاوہ تمام تصوراتِ خدا کوئی شیطان ہوں۔

بنانے والے نے وضاحت دی کہ اس مجمسے کو یہود کی مذمت میں حالیہ خانہ جنگی کے حوالے سے احتجاج میں جلایا جانا مقصود ہے۔

مجھے نہیں لگتا کہ یہ مجمسہ اگر کسی بھی اور ملک میں بن رہا ہوتا تو پولیس جیسا سرکاری ادارہ اس کو اتنی سنجیدگی سے لیتا۔ ہمارے ہاں ایسا کیوں ہوا۔ میں سماجی سائنسز کا طالب علم ہوں اور سماج کی حرکیات پر گہری نظر رکھتا ہوں اس لئے وثوق سے کہتا ہوں کہ اس کا واضح تعلق مذہبی نرگسیت سے ہے۔ یعنی ہمارا مذہب سب سے اچھا اور سچا ہے۔

لیکن اگر ہم ایک نظر دوڑائیں کہ اس بعل دیوتا کے تصور پر تو شیطان کا استعارہ ہونا تعصب اور جہالت ہے۔ کیونکہ یہود میں سے کچھ اس کی پوجا کرتے تھے موجودہ یہود تو اس کی پوجا کو غلط سمجھتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تمام خداوں کا باپ ایک خدا تھا جس کا نام ایل تھا جیسے اسرائیل (خدا کابندہ) اور جبرائیل (خدا کا طاقتور فرشتہ) جیسے الفاظ بھی اسی سے مشتق تھے۔ اس ایل کی بیوی کا نام عشیرہ ہے اسے بھی یہود پسند نہیں کرتے اور اس کے بت کو توڑنے کا ذکر کئی جگہ بائبل میں ملتا ہے۔ ستر سے زیادہ اس خدا نے بچے دئیے جن میں سب سے زیادہ مشہور ہوا یہواہ اور بعل۔ یہ دونوں خدا ایل کے بیٹے تھے۔ یاد رہے یہی ایل جسے عربی میں الہ کہا جاتا ہے یہ وہی الہ ہے جسے ال الہ کہا گیا جس سے لفظ اللہ بنا۔

بعل کی صورت گری میں اس وقت کے انسان نے anthropomorphism طرز کا استعمال کیا تھا۔ جس میں انسان اور جانور کی کچھ کچھ خصوصیات کو ملا کر ایک مشترکہ سا تصور بنا لیا جاتا ہے۔ جیسے ہندوؤں گنیش (منہ ہاتھی کا اور دھڑ انسان کا)، مصریوں ابو الہول (منہ انسان کا اور دھڑ شیر کا) اور یونانیوں میں سینٹور (جو آدھا گھوڑا اور منہ کا حصہ انسان کا سا تھا) جیسی مثالیں عام دی جا سکتی ہیں علاوہ ازیں آپ مصر کی قدیم تحاریر میں پرندوں کے چہروں والے انسان دھڑ کے ساتھ دیوتاوں کے نقوش کندہ دیکھیں گے۔

ایسے تصورات کی صورت گری کرنے میں مجھے لگتا ہے انسان کو شمن ازم سے سہارا ملا جس میں ایک پروہت یا پجاری اپنے اوپر کسی جانور کی کھال یا مکھوٹا پہن کر رسومات ادا کرتے جانور کی روح یا طاقت سے تعلق ظاہر کریں۔ ایسے وہ خیال کرتے کہ وہ قبیلے کو تحفظ یا برکت دے رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ رسومات اساطیری کہانیوں میں تبدیل ہوگئیں اور وہی کردار بعد میں دیوتاؤں یا نیم دیوتاؤں کی شکل اختیار کر گئے۔

مگر ایک پہلو اس بات کا یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ہمارے ہاں صرف بعل دیوتا (منہ بیل کا اور دھڑ انسان کا) سے اتنی نفرت کیوں دیکھی جا رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ میں سمجھتا ہوں یوٹیوبرز اور وہ بلاگرز ہیں جنہوں نے سنسنی خیز صحافت کرتے ہوئے لوگوں کو بتایا کہ مسلمانوں کا ایک خفیہ دشمن ادارہ ہے جو یہودیوں نے بنا رکھا ہے یہ شیطان کی پوجا کرتے ہیں اور مثلث ان کا نشان ہے وغیرہ جب کہ فری میسنز نام کا ایسا کوئی ادارہ دنیا میں موجود نہیں اگر کوئی سماجی سائنسز میں مذہب کے ادارے کو بخوبی سمجھتا ہوگا تو اسےکہنا دشوار نہ ہوگا کہ یہود تو خود شیطان کے سخت خلاف ہیں۔ بلکہ ابلیس و آدم والا تمام قصہ ہی دراصلہ بنی اسرائیلیات ہیں۔ ایسے میں یہ کہنا آسان ہو جاتا ہے کہ جو جان سٹوورٹ مل نے کہا تھا "جو شخص صرف اپنے ہی پہلو کو جانتا ہے، دراصل وہ اپنے پہلو کو بھی اچھی طرح نہیں جانتا"۔

Check Also

Jasoosi Digest Aur Main (4)

By Mubashir Ali Zaidi