Sunday, 15 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Din Jauhar
  4. Faail e Ilmi Aur Kashaf e Haqiqat

Faail e Ilmi Aur Kashaf e Haqiqat

فاعل علمی اور کشفِ حقیقت

امام عالی مقام الغزالیؒ "منقذ" میں فرماتے ہیں کہ عقلی علوم اپنی ضرورت تو پوری کرتے ہیں لیکن میری ضرورت پوری نہیں کرتے۔ عقلی علوم پر یہ امام صاحب کی حتمی ججمنٹ ہے کہ وہ ریاضی اور منطق پر بالکل پورے اترتے ہیں جو ان علوم کی بنیادی ترین تشکیلی ضرورت ہے۔ لیکن عقلی علوم انسان کی کوئی نفسی اور وجودی ضرورت پوری نہیں کرتے اور نہ کر سکتے ہیں۔ امام صاحب کا یہ ارشاد بہت بصیرت انگیز ہے کہ تصوراتی علوم (conceptual knowledge) انسان کی انفسی ضروریات کے اعتبار سے غیراہم ہیں جبکہ انسان کی "اپنی" ضروریات صرف غیرتصوراتی علوم (non-conceptual knowledge) سے ہی پوری ہو سکتی ہیں۔

امام صاحب نے عقلی علوم اور انسان اور عقلی علوم اور دنیا کے حوالے سے یہ بات کہی ہے اور ان کا یہ ارشاد انسان اور اس کی علمی ضروریات کو سمجھنے کے لیے اہم ہے لیکن ان کے ہاں کسی "فاعل علمی" کا کوئی بیان نہیں جو تاریخ میں بہت آگے چل کر رینی ڈیکارٹ کے ہاں سامنے آ کر متشکل ہوا۔ اگر انسانی معاشروں میں عقیدے اور مذہب کا خاتمہ ہو جائے تو تصوراتی علوم کا غلبہ ہو جاتا ہے اور اگر معاشروں کی روایت میں عقل کا خاتمہ ہو جائے تو تصوراتی اور غیرتصوراتی دونوں طرح کے علوم کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ بہرحال۔

ڈیکارٹ نے علم کی اساس کو ایک وقوفی فاعل (cognitive subject) پر منتقل کر دیا اور یہ مغربی فلسفے میں فاعل علمی کا ابتدائی اور نہایت واضح ظہور ہے۔ مغربی علوم کی روایت میں "انسان" اور "فاعل علمی" کا الگ الگ ہو جانا ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ جدید طبیعات کے پیدا کردہ جبری ورلڈ ویو میں "انسان" سے "فاعل علمی" کی طرف گزرگامی (transition) ایک فیصلہ کن حیثیت اختیار کر لیتی ہے اور مغربی فلسفے میں transcendental turn کے ساتھ ایمانویل کانٹ کے ہاں اس فاعل علمی کا بیان transcendental unity of apperception کے طور پر سامنے آتا ہے۔ مغربی علوم میں فاعل علمی کی نئی تشکیلات بنیادی طور پر "علم کیا ہے؟" کے روبرو سامنے آ رہی ہیں۔ فاعل علمی، علوم میں عقل کا بھیس ہے۔ انتقادی فلسفے (critical philosophy) میں عقل اپنے آپ کو بہت مضبوطی سے ایک "فاعل علمی" کے طور پر قائم کر لیتی ہے اور "انسان" کا سوال مزید پس منظر میں چلا جاتا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں مغربی فلسفیانہ روایت میں پھر ایک بڑا موڑ آتا ہے جسے لسانی موڑ (linguistic turn) کہا جاتا ہے جس سے تجزیاتی فلسفے (analytical philosophy) کا آغاز ہوتا ہے۔ یہاں تک آتے آتے "انسان" تو معدوم ہو ہی چکا ہوتا ہے لیکن علم و فلسفے میں "فاعل علمی" کا سوال بھی منہدم ہو جاتا ہے۔ یعنی خدا گیا، انسان گیا اور اب فاعل علمی بھی گیا۔ تجزیاتی فلسفے میں لسان کو فاعل علمی بنانے کی کوشش کی گئی اور علم کی نئی نئی تعریفات سامنے آئیں۔ اب علم کسی فاعل علمی، یا عقل وغیرہ میں grounded نہیں ہے۔ تجزیاتی فلسفے میں علم کو لسانِ انسانی کی ہیر پھیر میں منتقل کر دیا گیا۔

تجزیاتی فلسفے میں ایمان اور علم میں فرق مطلق ہو جاتا ہے اور ایمان کا سوال بھی نہیں اٹھایا جا سکتا۔ تجزیاتی فلسفے میں علم کی تعریف بطور factive state کی گئی ہے جس کا ترجمہ ہمارے متکلم عظیم جناب پروفیسر ڈاکٹر زاہد مغل نے "کشفِ حقیقت" کیا ہے۔ اسی ترجمے سے ان کی کلام فہمی اور فلسفہ دانی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ تجزیاتی فلسفے کے چھابڑی فروشوں کے ٹھیوں پر اٹھائی گیرا بننے سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ آدمی ایمانؤل کانٹ کی صحبت میں کچھ وقت گزار لے اور عقل کی کوئی بات ہی سیکھ لے۔ لیکن مابعدالطبیعات اور باطنیت کا ٹھرک ہو جائے تو آدمی عقل کی بات بھلا سن بھی سکتا ہے؟

انتقادی فلسفے میں انسانی شعور اور حقیقت کے مابین ایک disconnect واقع ہوا تھا جبکہ تجزیاتی فلسفے میں انسانی شعور اور علم کا ہی کوئی باہمی تعلق باقی نہیں رہا اور ٹکنالوجیائی تاریخی مؤثرات نے انسانی شعور ہی کو روند ڈالا ہے۔ یہ امر زیادہ صراحت کے ساتھ فوکو میں سامنے آتا ہے جو عقل کو مستقل بالذات انسانی ملکہ کے طور پر قبول ہی نہیں کرتا۔ اس کے خیال میں عقل تاریخ (طاقت+علم) کی حرکیات سے سامنے آنے والا ایک تاریخی مظہر ہے۔ اس کے نزدیک عقل انسانی ایک تاریخی توقیت رکھتی ہے اور سیاسی طاقت اور علم کے باہمی تعاملات سے وجود پذیر ہوتی ہے۔

یہ صورت حال مابعد جدید فلسفوں میں مزید واضح ہو جاتی ہے جہاں مذہب، انسان اور عقل وغیرہ کا قصہ ہی پاک ہوگیا ہے اور انسان ردِ فطرت کی آخری منزل میں پہنچ گیا ہے جہاں اس کا ہر "علم" اور ہر عمل pure nihilism ہے۔ مغرب اس وقت ایک unrestrained nihilistic power کا مظہر ہے۔ مسلمان اہل علم کو لیکن یہ بات سمجھ نہیں آ سکتی کہ اس وقت مذہب کے دفاع کے ساتھ ساتھ "فطرت کی نگہبانی" کی ذمہ داری بھی ان پر ہے اور جس میں پرورشِ عقل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ جدیدیت مذہب کو تو رد کرتی ہے لیکن انسانی اور طبعی فطرت کو پاش پاش کر دیتی ہے اور فطرت انسانی کے ملکات کا دفاع کیے بغیر آج علم میں مذہب کی بات کرنا بھی ممکن نہیں رہا ہے۔

ہماری تہذیب، علمی روایت اور ذہن کی تباہی جناب عمران شاہد بھنڈر جیسے لوگوں کی وجہ سے نہیں ہوئی کیونکہ ان کی رکاکت اور دشمنی کھلی ہوئی ہے۔ اس کے ذمہ دار جناب پروفیسر ڈاکٹر زاہد مغل جیسے لوگ ہیں جو مابعدالطبیعات اور جدید باطنیت کے علمبردار ہیں، عقلیت اور سائنس کی دشمنی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے، عقل کے ملیدہ ساز ہیں اور روایت کے کفن چور اور انسان دشمن فلسفوں کے داعی ہیں۔

Check Also

Khamosh Cheekh

By Shahid Nasim Chaudhry