Sunday, 22 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Malik Asad Jootah
  4. Pyasi Ragen Aur Muntazir Aankhen

Pyasi Ragen Aur Muntazir Aankhen

پیاسی رگیں اور منتظر آنکھیں

رمضان المبارک کی بابرکت ساعتیں ہم پر سایہ فگن ہیں، فضائیں تسبیح و مناجات سے معطر ہیں اور ہر صاحبِ ایمان نیکیوں کی فصل سمیٹنے میں مگن ہے۔ لیکن اسی شہر کی خاموش بستیوں اور ہسپتال کے سفید ٹھنڈے کمروں میں کچھ معصوم زندگیاں ایسی بھی ہیں جن کے لیے رمضان کا مہینہ ایک کڑی آزمائش بن کر آتا ہے۔ تھیلیسیمیا کے شکار یہ ننھے پھول، جن کی رگوں میں زندگی کا چراغ جلانے کے لیے کسی دوسرے کے لہو کی ضرورت ہوتی ہے، ان دنوں ایک عجیب کرب سے گزرتے ہیں۔ جب ہم سحر و افطار کے دسترخوانوں پر نعمتوں کا شکر ادا کر رہے ہوتے ہیں، اس وقت کئی مائیں اپنے بچوں کے پیلے پڑتے چہروں کو دیکھ کر اس لیے آنسو بہاتی ہیں کہ خون کا عطیہ دینے والے ہاتھ اچانک رک گئے ہیں۔

​ہمارے معاشرے میں یہ ایک المیہ ہے کہ لوگ روزے کی حالت میں خون دینے کو کارِ دشوار سمجھتے ہیں یا اسے روزے کی شرعی و جسمانی حالت کے منافی تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، ایثار اور قربانی کے اس مہینے میں کسی کی زندگی بچانے سے بڑھ کر بھلا اور کیا نیکی ہو سکتی ہے؟ وہ خون جو ہمارے جسم میں قدرت کی فیاضی سے بنتا رہتا ہے، اگر کسی معصوم بچے کی رگوں میں پہنچ کر اسے مسکرانے کا حوصلہ دے دے، تو یہی روزے کی اصل روح اور انسانیت کی معراج ہے۔ طبی و شرعی طور پر خون کا عطیہ دینے میں کوئی ممانعت نہیں اور اگر کوئی روزے کی حالت میں تامل محسوس کرے تو افطار کے بعد کے چند لمحات کسی کی زندگی کی شام کو سحر میں بدل سکتے ہیں۔

​آئیے، اس رمضان اپنی عبادتوں میں ایک اور خوبصورت باب کا اضافہ کریں۔ جہاں ہم بھوک اور پیاس کی شدت سے خالق کی خوشنودی چاہتے ہیں، وہاں ان پیاسی رگوں کا مداوا بھی بنیں جو صرف خون کی ایک بوتل کے انتظار میں زندگی کی بازی ہار رہی ہیں۔ آپ کے خون کا ایک یونٹ صرف ایک طبی ضرورت نہیں، بلکہ ایک یتیم ہوتی مسکراہٹ کو بچانے کا عہد ہے اور ایک ماں کی مرجھاتی ہوئی امید کو جِلا دینے کا ذریعہ ہے۔ یاد رکھیے کہ انسانیت کی خدمت ہی وہ راستہ ہے جو رب کی رحمتوں تک براہِ راست جاتا ہے اور اس سے بڑھ کر کیا عیدی ہوگی کہ ہم کسی بچے کو اس کے اپنوں کے درمیان ہنستا کھیلتا دیکھ سکیں۔

Check Also

Mehangai Mein Dam Torti Zindagi

By MA Tabassum