Pti Ka Shaoor Nikharne Laga Hai
پی ٹی آئی کا شعور نکھرنے لگا ہے

بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت اپنی جگہ مگر اس کے شعوری ہونے پر اختلاف کو بھی آزادی اظہار رائے کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اب تو پی ٹی آئی کے اندر قائدین کی سطح پر اختلافات اور ابھرتی آوازوں کی گونج سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کا شعور نکھرنے لگا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ 2022 میں جب پی ٹی آئی کی کارکردگی سے مایوس عوام نے اپنی جمہوری سمت کا رخ صحیح کرنے کی کوشش کی تو ملک کے معززین نے ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کی خاطر مرکز میں حکومت کو آئینی طور پر تبدیل ہونے کی راہ میں رکاوٹ کو آزادانہ چھوڑ دیا جس سے پارلیمان کے اندر عدم اعتماد کی تحریک سے عمراں خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے سبکدوش ہونا پڑا، لیکن اس پر بانی پی ٹی آئی اپنے رجیم چینج کے بیانیے کی ہمدردیوں سے ایک بار پھر عوام کی مقبولیت کا رخ اپنی طرف موڑنے میں کامیاب ہو گئے جس کو وہ مختلف حیلوں بہانوں سے قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔
حالانکہ انکی کارکردگی کو بے نقاب کرنے کے لئے کے پی کی حکومت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور نہ ہی اب خدمت کا وقت نہ ملنے کا ان کے پاس کوئی جواز ہے مگر حیران کن طور پر وہ اب بھی سوشل میڈیا کے ہاتھوں یرغمال عوام کو جھوٹے بیانیے کے زریعے سے ذہنی سہارا مہیا کئے ہوئے ہیں جس کی بنیاد کبھی بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کو بنا لیا جاتا ہے تو کبھی بیماری کو مگر اب یہ ہتھکنڈے زیادہ دیر چلنے والے نہیں۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ کے پی کے علاوہ دوسرے صوبوں میں پی ٹی آئی کی قیادت بانی پی ٹی آئی کی حکمت عملیوں سے کافی دل برداشتہ ہو چکی ہے کیونکہ ان کو دی جانے والی اذیتوں پر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ کئی ان مصیبتوں سے بچنے کے لئے خود ساختہ صوبائی جلاوطنی میں کے پی میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔
جب بھی حکومت کی طرف سے تھوڑی سی رعائت کی امید نظر آتی تھی تو بانی پی ٹی آئی فوج مخالف بیان دینا شروع کر دیتے ہیں جیسا کہ کل ان کی بہنوں نے پریس کانفرنس میں عمران خان کی طرف سے مبینہ طور پر مروانے کا خوف اور اس کا الزام فیلڈ مارشل پر لگانے کا اظہار کیا جو کہ سراسر بے بنیاد ہے جس سے دوبارہ سختی ہو جاتی ہے جن سے انکے ذہنوں میں بانی کی حکمت عملی پر شکوے جنم لینا شروع ہوئے جو اب کافی پختہ ہو چکے ہیں۔
جن کا اظہار اب پی ٹی آئی کی قیادت کے اندر اختلافات کی صورت میں بھی نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔ ویسے اس کی ابتداء تو کافی عرصہ پہلے سے پی ٹی آئی کی کال پر لوگوں کے کان نہ دھرنے سے شروع ہو چکی تھی جس پر تصدیق کی مہر ضمنی انتخابات نے لگا دی مگر اس پر کچھ حلقوں میں یہ گماں تھا کہ شائد لوگ خوف کی وجہ سے باہر نہیں نکلتے اور ضمنی انتخابات میں کامیابی کے اندر حکومت کے اثر رسوخ اور بندوبست کا کمال ہے۔
لیکن اب پارلیمانی ممبران کا اسلام آباد کے پی ہاؤس اور پارلیمنٹ کے باہر دھرنوں کے اندر کھلے اختلافات اور کے پی میں سڑکوں کی بندش پر انسانی جانی نقصان پر پی ٹی آئی کے اندر سے غلطیوں کا اعتراف وہ اشارے ہیں جو شعور کے نکھرنے کی گواہی دے رہے ہیں۔
کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کھل کر بولے ہیں۔ جس میں انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافات سے لے کر پارٹی پر ملکیت کی کوششوں کی طرف بھی اشارہ دیا ہے اور کچھ وی لاگرز پر کھلی تنقید کرتے ہوئے ان کو کہا کہ اگر تمھارے اندر جذبہ ہے تو ادھر پاکستان میں آؤ وہاں بیٹھ کرعوم کو نہ ورغلاؤ۔ عوام کو تلقین کی کہ ان کی خبروں پر تحقیق کر لیا کریں۔
وہاں کے پی میں سڑکوں کی بندش کے دوران کئی پی ٹی آئی ورکرز بھی کھل کر مخالفت کرتے رہے اور عوامی مشکلات اور دباؤ کے پیش نظر پشاور ہائی کورٹ نے بھی سڑکوں کو کھولنے کے احکامات جاری کئے جس پر پولیس نے عملدرآمد کرواتے ہوئے سڑکوں اور موٹر وے کو خالی کروا دیا جس پر کچھ لوگ یہ بھی تبصرے کر رہے ہیں کہ شائد پولیس کے پی کی انتظامیہ کے کنٹرول میں نہیں رہی جو میں سمجھتا ہوں کہ غلط بات ہے کیونکہ سڑکوں کو کھلوانے میں عدالتی فیصلے کا کردار ہے۔
مگر اس سے لوگوں کی سوچوں پر مثبت تاثرات اور انتظامیہ کی رٹ بارے خیالات سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور خاص کر پولیس کی کاروائی کے خلاف مزمت کا نہ ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عوام بھی اب ان دھرنوں سے عوامی مشکلات پیدا کرنے والی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ اب کارکردگی کی بنیاد پر ہوتی ہوئی سیاست اور جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سے بانی پی ٹی آئی کے بیانیے سے اختلاف رکھنے والی پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی ضرور حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ کھل کر گنڈاپور کی طرح بولنے لگیں گے۔
دوسری طرف پنجاب حکومت نے 2026 کو نوجوانوں کے نام کرکے پرواز کارڈ، سکل ڈویلپمنٹ کے کورسز، آسان بلاسود قرضوں کی فراہمی، سکالرشپس جیسے کئی ایسے منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے جن سے نوجوانوں کی ترجیحات اور توجہ کو مثبت اور ترقی پسند سوچ ملی ہے اور اب وہ جھوٹ اور دھرنوں کی سیاست کو جہالت شمار کرنے لگے ہیں۔
نوجوانوں کو مریم کی طرف سے دیئے جانے والے حوصلے نے ان کے اندر ایک نیا جذبہ اور ولولہ پیدا کر دیا ہے اور وہ اب اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے کے لئے اپنی ماں، بہن اور قائد کی امنگوں پر اپنی صلاحیتوں کو نچھاور کرنے لئے بے چین دکھائی دیتے ہیں جس کی گواہی اس کا ہر طرف والہانہ استقبال دے رہا ہے۔ وہ خواہ بسنت کی تفریحی سرگرمیاں ہوں یا اس کے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور پنجاب کے دور دراز ضلعوں کے عوامی دورے ہر جگہ اس کو پزیرائی مل رہی ہے۔
عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوال بھی بجا ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے بیٹے باہر بیٹھے ہیں اور یہاں نوجوان بے یار و مددگار جیلوں میں پڑے ہیں۔ بشریٰ بی بی پر جادو ٹونے کے زریعے سے حکومت چلانے سے لے کر کرپشن تک عالمی جریدوں میں چھپنے والی رپورٹس پر بانی پی ٹی آئی کی خاموشی بھی ایک سوالیہ نشان ہے جس کی وضاحت بہرحال عوامی ذہنوں میں ایک خلش کی صورت موجود ہے۔
اس کے علاوہ حالیہ ہندوستان کے خلاف فوج کی کاروائی پر عالمی پزیرائی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جان کی قربانیوں پر فوج مخالف بیانیہ بھی عوام کے دلوں میں فوج سے والہانہ محبت کے ہاتھوں بری طرح پِٹ چکا ہے اور اب کوئی فوج کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ اب تو ملک کے اندر یکجہتی کی ضرورت کے پیش نظرتمام سیاسی اختلافات کو بھلا کر ایک ہونے کی راہ میں رکاوٹ بننے والی آوازوں کو بھی غداری کے مترادف سمجھا جانے لگا ہے۔

