Wednesday, 18 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Meri Apni Kahani (2)

Meri Apni Kahani (2)

میری اپنی کہانی (2)

جی سیون میں گولڈن مارکیٹ اور گلشن مارکیٹ کے درمیان ایک بند سی مارکیٹ ہوا کرتی تھی، جس کا ڈیزائن اپنے وقت سے بہت آگے اور نہایت انوکھا تھا۔ ڈبل ہائٹ، مکمل طور پر کورڈ مارکیٹ۔ اس کے فرسٹ فلور پر ایک چھوٹا سا ریستوران تھا جہاں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی لگا ہوتا تھا۔ یہی میری زندگی کا پہلا ٹی وی تھا جسے دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ سکرین پر گاڑیاں دوڑتی تھیں، لوگ بھاگتے تھے اور میں حیرت سے سوچتا تھا کہ آخر یہ سب اس ڈبے کے اندر کیسے سما گیا ہے۔ تجسس میں میں ٹی وی کے عقب میں جا کھڑا ہوا کہ شاید اس کے اندر ہی لوگ بند ہوں۔

ایک اور عجیب و دلکش منظر ان دونوں مارکیٹوں کے بیچ کھلے میدان میں ہر ہفتے کی ایک شام سجتا تھا۔ ایک فوکسی کار پر پروجیکٹر نصب کیا جاتا اور اوپن ایئر سنیما میں فلم دکھائی جاتی۔ غالباً یہ حکومتی سطح پر عوام کے لیے مفت تفریح تھی۔ ٹھنڈی شام، کھلا آسمان اور چلتی فلم، وہ لمحے اب خواب معلوم ہوتے ہیں۔

اسلام آباد کے ستر کی دہائی کے سالوں کی یادیں اب دھندلا چکی ہیں۔ بہت عرصے بعد معلوم ہوا کہ ہماری پرائمری اسکول کی ٹیچر مس مسعود اب بھی حیات ہیں اور سیالکوٹ میں مقیم ہیں۔ میرے دوست بریگیڈیئر آصف نے کسی طرح انہیں ڈھونڈ نکالا۔ ماضی کے کردار یادوں میں زیادہ حسین لگتے ہیں، جب وہ صرف یاد رہیں تو ان کی قدر بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اب مس مسعود سے کبھی کبھار رابطہ ہو جاتا ہے۔ وہ عمر کی سترہویں دہائی میں ہیں، مگر سچ یہ ہے کہ اب ہم انہیں اس شدت سے یاد نہیں کرتے۔ شائید ہم زمانے سے رفتار سے بہت آگے تک سفر کر گئے یا انسانی فطرت ہے، جو چیز ہاتھ میں نہ ہو اس کی قدر زیادہ ہوتی ہے۔

یہی حال میری کلاس فیلو لبنیٰ کا ہوا، جس کی بچپن کی بھولی بھالی تصویر ذہن میں محفوظ تھی، مگر حال ہی میں ایک دوست نے ادھیڑ عمری کی تصویر دکھا کر وہ تاثر بھی کرچی کرچی کر دیا۔ شاید کئی دہائیوں بعد ہمیں دیکھ کر بھی کسی اور کو یہی احساس ہو۔ یہی فطرت کا بے رحم مگر سچا اصول ہے۔

اس زمانے میں چار عدد اردو میڈیم سکولوں میں جی سکس میں امام باڑے کے ساتھ ملحقہ سکول نمبر1 سب سے مشہور تھا اور ایک واحد انگریزی میڈیم سرکاری سکول "آئی سی بی" بھی تھا جہاں ایلیٹ بچے جاتے تھے۔ متوسط طبقے کے لیے اسکول نمبر 1 بہترین سمجھا جاتا تھا، سو میرا داخلہ وہیں ہوا۔ فاروقیہ مارکیٹ سے تین چار کلومیٹر کا فاصلہ اور درمیان میں ایک پرخطر گھنا سرکنڈوں کا جنگل پڑتا تھا، جہاں آج بلیو ایریا آباد ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے نیفڈک سنیما کی شاندار عمارت تعمیر ہوئی، جو آج متروک پڑی ہے۔ حکومت کا ایک قیمتی اثاثہ یوں ضائع ہوتا دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ چند برس پہلے میں نے اس جانب توجہ مریم اورنگزیب کو بھی دلائی، جو اس وقت وزیر اطلاعات تھیں مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔

بلیو ایریا کا جنگل عبور کرنا ایک مہم تھی۔ بیچ میں ایک پل آتا تھا، جس کے نیچے خرکار پٹھان رہتے تھے۔ ان کے خوف سے ہم وہاں تیز چلتے۔ جنگل عبور کرتے ہی لال کوارٹر روڈ اور امام باڑہ نظر آتا اور ہم سکھ کا سانس لیتے۔

ہم وہ خوش قسمت بچے تھے جنہیں 1976 میں چھٹی کلاس بغیر امتحان کے پاس کروا دی گئی تھی۔ وجہ اس وقت سعودیہ کے شاہ فیصل کی آمد پہ بھٹو کا وہ شو تھا، جس کی تیاری میں لاہور اور اسلام آباد کے بچوں کو تقریباً نصف سال جمناسٹک اور پی ٹی شو سکھایا گیا تھا۔ اس ٹریننگ کے دوران ہمیں گرم دودھ اور لذیذ بند مکھن کھلایا جاتا۔ چار ماہ سے زائد ٹریننگ کے بعد ہم کھا کھا کے سرخ و سپید ہو چکے تھے اور پھر کامیابی سے ہم نے یہ شو کیا۔

اس دور میں سکول اسمبلی میں قومی ترانے کے بعد یہ نظم بہت پڑھی جاتی تھی "چاند تاروں میں تو، مرغزاروں میں تو۔۔ ہے خدایا کس نے تیری حقیقت کو پایا"۔ اب پرائیویٹ سکولوں میں تو اسمبلی کا رواج نہیں رہا، شائید سرکاری میں اب بھی ہو۔

ہائی اسکول میں میرے پرائمری کے دو دوست آصف اور مظفر ہائی اسکول میں میرے ساتھ ہی آئے۔ آصف نے بعد میں پاک فوج جوائن کی اور۔ دو برس پہلے بریگیڈئیر ریٹائر ہوا، جبکہ مظفر پاک نیوی سے کیپٹن ریٹائر ہوا۔ ایک اور دوست ریاست تھا، کوٹلی ستیاں کا رہنے والا۔ اس کے والد آسٹریلین ایمبیسی میں ڈرائیور تھے۔ مہینے میں دو تین بار ہم ایمبیسی کی لینڈ کروزر میں اسکول جاتے۔ واپسی پر ایمبیسی کی بلڈنگ میں ڈراپ ہو جاتے، جو نیفڈک کے سامنے ناظم الدین روڈ پر تھی۔ ریاست مجھے سرونٹ کوارٹرز میں لے جاتا جہاں ایک ہندوستانی خاندان بھی رہتا تھا۔ ان کے کچن سے پکنے والی ماش کی بگھاری دال کی خوشبو آج بھی حافظے میں بسی ہے۔ کبھی کبھار ہم ان کے چھوٹے ٹی وی پر انگریزی فلم دیکھتے۔ وہ لڑکیاں ریاست کو چھیڑتی تھیں کہ اسے انگریزی سمجھ نہیں آتی۔ ہنسنے کے منظر پر سنجیدہ اور رونے کے منظر پر ہنس پڑتا ہے۔ نجانے کیوں وہ مجھے شکل و صورت سے پڑھا لکھا اور ہوشیار سمجھتی تھیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ریاست طبعاً شرمیلا تھا۔

سن 1978، آٹھویں جماعت۔ آدھی چھٹی میں کھیلتے ہوئے میں نے مذاق میں ایک پتھر اچھالا۔ ریاست نے بچنے کو سر جھکایا، مگر پتھر اس کے ہونٹ پر لگا اور خون بہنے لگا۔ وہ لمحہ آج بھی میرے ذہن میں منجمد ہے۔ ریاست رومال ہونٹوں پر رکھے کھڑا تھا اور میں خوف و پشیمانی میں گم۔ اگلے دن وہ اسکول نہ آیا، پھر معلوم ہوا کہ اس نے اسکول چھوڑ دیا ہے اور آبائی علاقے واپس چلا گیا ہے۔ میں برسوں اس احساسِ جرم میں مبتلا رہا کہ شاید اس کا سبب میں ہوں۔ میں اسے ڈھونڈ کر معافی مانگنا چاہتا تھا۔ بالآخر 2016 میں میں نے اسے تلاش کر لیا۔ آبپارہ میں ہماری ملاقات ہوئی جو ڈرامائی ضرور تھی، مگر جذبات یکطرفہ نکلے۔ میری آنکھیں نم تھیں، جبکہ اس نے سرد مہری سے کہا:

"بھائی جان، کوئی کام ہو تو بتائیں، میرا ڈیوٹی ٹائم ہے، مجھے جانا ہے"۔

میرے سارے مکالمے وہیں دم توڑ گئے۔ تب سمجھ آیا کہ کچھ کرداروں کو یادوں میں ہی رہنے دینا بہتر ہوتا ہے۔

پرائمری اسکول کے برعکس ہائی اسکول کا ماحول سخت تھا۔ اساتذہ کا رویہ کڑا اور سزائیں بے حد سخت تھیں۔ کئی بچے اس خوف سے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتے۔ آٹھویں کلاس میں مظفر نے ایک دن معاشرتی علوم کے استاد اے ڈی عارف سے شرارتاََ پوچھ لیا "سر روم شہر ہے یا ملک ہے؟"۔ اے ڈی عارف کنفیوز ہو گئے، دو دفعہ انھوں نے بیان بدلا، کبھی ملک کہتے کبھی شہر۔ ہم چار دوست فرنٹ بینچر تھے، مظفر ہنسنا شروع ہوگیا، عارف صاحب غصہ کھا گئے، آہنی گرز نما ہاتھ اس کی گدی پہ دے مارا۔ اس کا انجام دیکھ کے ہم بھی منہ چھپا کر ہنس رہے تھے، مگر تھوڑی دیر میں وہ گرز انھوں نے سرعت سے ہم تینوں کو رسید کیا۔ آنکھوں کے آگے تارے پھر گئے۔ آج کے بچے خوش نصیب ہیں، انھیں ایسی آزمائشوں سے نہیں گزرنا پڑتا۔

میٹرک کا آخری پرچہ دے کر نکلا تو میرے کلاس ٹیچر مہر شاہ خان نیازی ملے۔ اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے، میری کردار سازی میں ان کا بڑا حصہ تھا۔ انہوں نے پوچھا، "آگے کیا ارادہ ہے؟"

میں نے کہا، "پری انجینئرنگ کروں گا"۔

بولے، "میڈیکل کرو، انجینئرنگ میں کرپشن سے بچنا مشکل ہے"۔

مگر انسان آخر وہی کرتا ہے جو اس کے دل میں پہلے سے طے کر چکا ہو۔ میری ڈرائنگ بہت اچھی تھی اور اردو خطاطی بھی میں طاق تھا، قدرتی رحجان میرا فنون لطیفہ کی جانب تھا، مگر اس وقت ٹرینڈ میڈیکل یا انجنئیرنگ کرنے کا ہی تھا۔ ادھر نیازی صاحب نے بھی سرسید کالج جوائن کرنے کا مشورہ دیا۔

یہ 1981 تھا، سر سید کالج پری انجینئرنگ گروپ میں میرا پہلا دن تھا۔ میرا اور میرے دوست مظفر کا داخلہ سرسید اور "آئی سی بی" دونوں جگہ ہو چکا تھا، مگر سرسید کی شہرت زیادہ تھی، لہذا ہم نے اسے منتخب کیا۔ کالج کا پہلا دن زیادہ خوش گوار نہ تھا۔ کچھ پچھتاوا سا محسوس ہوا۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ پہلا سال ہمارے لیے بڑی آزمائش لانے والا ہے۔

جاری ہے۔۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Meri Apni Kahani (2)

By Muhammad Idrees Abbasi