Istaqbal e Ramzan, Islam Aur Pakistan
استقبالِ رمضان، اسلام اور پاکستان

رمضان المبارک آتے ہی دلوں کی زمین نرم ہو جاتی ہے۔ نفس کی سرکشی تھمتی ہے، باطن منور ہوتا ہے اور انسان اپنے رب کے حضور جھکنا سیکھتا ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآنِ حکیم نازل ہوا، جو تاقیامت ہدایت کا چراغ، عدل کا منشور اور انسانیت کا دستور ہے۔
رمضان کے تقاضے صرف بھوک اور پیاس نہیں بلکہ تقویٰ، عبادات میں خشوع و خضوع، معاشرت میں نرمی، دسترخوان کی وسعت، سخاوت اور انسانی ہمدردی اس کے اصل اوصاف ہیں۔ قرآن کے احکامات پر عمل اور اس عمل کو باقی مہینوں تک برقرار رکھنا ہی رمضان کی حقیقی کامیابی اور روحانیت ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے رمضان کو محض رسم بنا دیا ہے؟ ایک طرف مساجد آباد ہوتی ہیں، تلاوت کی محفلیں سجتی ہیں اور صدقات کا چرچا ہوتا ہے تو دوسری طرف بازاروں میں قیمتوں کا بے لگام طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ یہ وہ تضاد ہے جو ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی اسی بابرکت مہینے میں معرضِ وجود میں آیا۔ کیا ہمارا ملک اس مہینے کے تقاضوں کا امین بن سکا؟ رمضان کا آغاز ہوتے ہی ہمارا ملک کے ہر شہر، قصبے اور گاؤں میں مہنگائی کیوں بڑھ جاتی ہے؟ ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ اور گراں فروشی کیوں عام ہو جاتی ہے؟ وہی تاجر جو دن میں روزہ دار ہیں، شام کو منافع کی دوڑ میں اخلاقیات کو کیوں بھول جاتے ہیں؟ کیا تقویٰ صرف سحری و افطار تک محدود ہے؟ اگر ہمارے کاروبار، ہمارے لین دین اور ہماری نیتیں پاکیزہ نہیں تو عبادات کی روح کیسے باقی رہے گی؟
اسلام نے تجارت کو عزت دی ہے، مگر دیانت کے ساتھ۔ نبی کریم نے سچے اور امانت دار تاجر کو بلند مقام کی بشارت دی۔ پھر ہم کیوں اس مبارک مہینے میں لوگوں کی مجبوری کو کمائی کا ذریعہ بنا لیتے ہیں؟ ایک غریب خاندان کے لیے آٹے، چینی، سبزی اور پھل کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی قیامت بن جاتا ہے۔ رمضان کا پیغام تو بھوکوں کو کھلانا اور ضرورت مندوں کا سہارا بننا ہے، نہ کہ ان کی آزمائش میں اضافہ کرنا۔
حکومت کی ذمہ داری اپنی جگہ، مگر معاشرے کی اصلاح صرف قوانین سے ممکن نہیں۔ اگر دلوں میں خوفِ خدا نہ ہو تو ضابطے کاغذی رہ جاتے ہیں۔ رمضان ہمیں اجتماعی خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ روزہ صرف پیٹ کا نہیں، آنکھ، زبان اور ہاتھ کا بھی ہے۔ جو زبان جھوٹ بولے، جو ہاتھ ملاوٹ کرے، جو ذہن ذخیرہ اندوزی کی تدبیر کرے تو وہ روحِ رمضان سے کیسے ہم آہنگ ہو سکتا ہے؟
ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ رمضان کو وقتی جذبات تک محدود رکھنا ہے یا اسے قومی کردار کا حصہ بنانا ہے۔ اگر تاجر منافع کے ساتھ انصاف کو جوڑ لیں، اگر خریدار اسراف سے بچیں، اگر حکومت مؤثر نگرانی کرے اور اگر ہر فرد اپنے دائرے میں تقویٰ اختیار کرے تو یہی مہینہ معاشی اور اخلاقی اصلاح کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔
رمضان محض عام و رسمی مہینہ نہیں بلکہ کردار سازی کی تربیت گاہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی نفس کی اصلاح اور معاشرے کی بھلائی میں ہے۔ آئیے اس رمضان عہد کریں کہ ہم قرآن کے پیغام کو بازاروں، دفتروں، عدالتوں، تعلیمی اداروں اور ایوانوں تک لے جائیں گے۔ ہم مہنگائی کے طوفان میں اضافہ نہیں، آسانی کی ہوا بنیں گے۔ ہم ذخیرہ اندوزی نہیں، سخاوت کو فروغ دیں گے۔ ہم ملاوٹ نہیں، امانت کو اپنائیں گے۔
اگر ہم نے رمضان کو سمجھ لیا تو پاکستان بھی اپنی اصل روح کے قریب آ جائے گا۔ ایک ایسا ملک جہاں دین عبادت گاہوں تک محدود نہ ہو بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں جھلکے۔ یہی استقبالِ رمضان ہے، یہی اسلام کا تقاضا اور یہی پاکستان کی ضرورت۔

