Wednesday, 11 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Jangi Junoon, Mushi Tabahi Aur Pakistan Ka Faisla Kun Kirdar

Jangi Junoon, Mushi Tabahi Aur Pakistan Ka Faisla Kun Kirdar

جنگی جنون، معاشی تباہی اور پاکستان کا فیصلہ کن کردار

​عالمی معیشت آج ایک ایسی بھیانک تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے جہاں جنگی جنون نے انسانیت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سرزمین، جو کبھی تہذیبوں کا گہوارہ، روحانیت کا مرکز اور تجارتی شاہراہوں کا محور تھی، آج وہاں بھڑکی ہوئی آگ نے نہ صرف خطے کو بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے، بلکہ پوری دنیا کی معاشی شہ رگ کو کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض سرحدوں یا نظریات کی لڑائی نہیں، بلکہ ایک ایسا معاشی طوفان ہے جس کی زد میں ہوابازی، سیاحت اور عالمی تجارت کے بڑے بڑے مینار دھڑام سے گر رہے ہیں۔

عالمی اداروں، بالخصوص عالمی سیاحتی کونسل کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، سیاحت کی صنعت عالمی مجموعی پیداوار کا تقریباً نو سے دس فیصد حصہ سنبھالے ہوئے ہے۔ یہ ایک ایسی صنعت ہے جو کروڑوں انسانوں کے روزگار اور بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، جو دنیا بھر کے لیے تجارتی اور سیاحتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، وہاں جاری کشیدگی کے باعث پروازوں کی منسوخی اور سفر پر پابندیوں نے معاشی پہیے کو مکمل طور پر جام کر دیا ہے۔ جب پروازیں منسوخ ہوتی ہیں اور فضائی حدود غیر محفوظ ہو جاتی ہیں، تو یہ صرف چند ٹکٹوں کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ ایک وسیع تر ترسیلی نظام متاثر ہوتا ہے جس سے ہوٹلنگ، نقل و حمل اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے شعبے براہِ راست خسارے میں چلے جاتے ہیں۔ آج ان ممالک سے انخلا کا جو ہنگامی منظرنامہ دیکھنے کو مل رہا ہے، وہ اس بات کی گواہی ہے کہ خطہ اب محفوظ نہیں رہا۔ امیر طبقہ جو اپنے نجی طیاروں میں بیٹھ کر جان بچا رہا ہے، وہ تو نکل جائے گا، مگر سوال یہ ہے کہ اس تباہی کے سائے میں وہ عام انسان کون ہے جو اپنی روٹی روزی کی تلاش میں ان سرزمینوں پر موجود ہے؟

دنیا کی نظریں پاکستان پر جمی ہیں۔ عالمی حلقوں سے لے کر بین الاقوامی میڈیا تک، ہماری عسکری اور سیاسی قیادت کی تعریف و توصیف اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا کو ہماری ضرورت ہے۔ اگر ہماری قیادت کو عالمی سطح پر بااثر تسلیم کیا جاتا ہے، تو اب وقت ہے کہ اس اثر و رسوخ کو صرف رسمی بیانات تک محدود نہ رکھا جائے۔ اگر ہم عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی قوت ہیں اور ہمارا وجود خطے میں توازن کی حیثیت رکھتا ہے، تو پھر خاموش تماشائی بنے رہنا ہماری تاریخی کمزوری کے سوا کیا ہے؟ پاکستان کو اب اپنی انا اور مصلحتوں کی زنجیریں توڑ کر میدانِ عمل میں اترنا ہوگا۔ ہمیں برادر اسلامی ممالک کو ایک چھتری تلے اکٹھا کرکے اس جنگی جنون کے سامنے ایک ایسی دیوار کھڑی کرنی ہوگی کہ ظالم کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا جا سکے۔

ہماری سفارتکاری اب تک صرف "تشویش" کے الفاظ تک محدود کیوں ہے؟ کیا ہم اس انتظار میں ہیں کہ آگ ہمارے گھر تک پہنچے؟ نہیں! پیر قلم کی چھاپ اب ہر اس سچ کو بے نقاب کرے گی جو ملک و ملت کی غیرت اور وقار کا متقاضی ہے۔ اگر ہمارے پاس طاقت ہے، اگر ہمارے پاس تدبر ہے، تو اسے امن کے لیے داؤ پر کیوں نہیں لگایا جا رہا؟ ہم پر تنقید اس لیے ہوتی ہے کیونکہ ہم اپنے وسائل اور اثر و رسوخ کا مکمل استعمال نہیں کرتے۔ آج قوم پوچھ رہی ہے: کیا ہم صرف سیاست کے بازی گر ہیں یا حق و انصاف کے محافظ؟ جنگ بندی کے لیے ٹھوس، عملی اور فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہی ہماری واحد پہچان بن سکتا ہے۔ یاد رہے، تاریخ ان تماشائیوں کو کبھی معاف نہیں کرتی جن کے پاس وسائل تو تھے مگر مظلوم کے لیے بولنے کا حوصلہ نہ تھا۔

پاکستان کا کردار صرف ثالثی نہیں، بلکہ عالمی امن کا ضامن ہونا چاہیے۔ ہمیں عالمی طاقتوں پر واضح کرنا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا پھیلنا نہ صرف پاکستان، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک معاشی خودکشی ثابت ہوگا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہماری عسکری قیادت اپنی سفارتی کوششوں کو بروئے کار لاتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ ڈالے۔

​اب قلم میں وہ کاٹ ہے کہ حق بول کر رہے گا۔ اب للکار ایسی ہے کہ ایوانِ اقتدار کو بھی سننی پڑے گی۔ یہ "پیر قلم کی چھاپ" کا عزم ہے کہ ہم نہ صرف مسائل بیان کریں گے بلکہ ان کے حل کے لیے حکمرانوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلائیں گے۔ ربِ کریم ہمیں وہ جرات اور بصیرت عطا فرمائے کہ ہم تاریخ کے ان درخشاں ستونوں کی روشنی میں اپنی دنیا اور آخرت سنوار سکیں۔

Check Also

Ikhtilaf Karne Wala Dushman Nahi

By Mubashir Ali Zaidi