Wednesday, 11 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Ikhtilaf Karne Wala Dushman Nahi

Ikhtilaf Karne Wala Dushman Nahi

اختلاف کرنے والا دشمن نہیں

ہم عام لوگ ہیں۔ پہلے بیٹھکوں اور چوپالوں میں جو باتیں کی جاتی تھیں، اب وہ سوشل میڈیا پر کرتے ہیں۔ لیکن آمنے سامنے بیٹھ کر رائے اور اختلاف رائے پر کوئی گالیاں نہیں دیتا تھا۔ دشمنیاں نہیں ہوتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر لہجے نہیں ہوتے۔ آواز کا زیر و بم نہیں ہوتا۔ تاثرات نہیں ہوتے۔ صرف الفاظ ہوتے ہیں جو اکثر سمجھنے والے سمجھ نہیں پاتے یا غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ردعمل کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔

ہم سب عام لوگ ہیں لیکن سب ایک درجے کے نہیں ہوتے۔ ایک فہم کے نہیں ہوتے۔ ایک رائے کے کیسے ہوسکتے ہیں۔ سب کے اپنے اپنے تعصات بھی ہوتے ہیں۔ ایک شخص نے زیادہ تعلیم حاصل کی ہو، زیادہ سفر کیا ہو، زیادہ کتابیں پڑھی ہوں، زندگی کا زیادہ تجربہ رکھتا ہو اور باخبر حلقوں تک رسائی ہو اور دوسرے کو واجبی تعلیم ملی ہو، ملک سے نہ نکلا ہو، کتابوں کا منہ نہ دیکھا ہو، زندگی کا کمتر تجربہ ہو اور تھڑے سے زیادہ کی معلومات نہ ہو، ان دونوں کی رائے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

سوشل میڈیا نے یہ فرق مٹادیا۔ بلکہ ڈیڑھ ملین فالوورز والا خود کو دانشور سنجھتا ہے اور چند سو یا ہزار والے کو جاہل قرار دیتا ہے۔

میں اتفاق یا اختلاف کرنے والوں سے دوستی دشمنی نہیں کرتا۔ میں ایک طالب علم کے طور پر دنیا کو، زندگی کو، انسانوں کو اور معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کوشش میں بعض معاملات پر رائے بھی دیتا ہوں لیکن خود اسے اہم نہیں سمجھتا۔ ان لوگوں کی آرا کو زیادہ اہم سمجھتا ہوں جن کے پاس زیادہ علم، مطالعہ اور تجربہ ہے۔ جو کسی عقیدے، سیاسی نظریے، شخصیت یا تعصب کے اسیر نہیں۔ جو ریشنل گفتگو کرتے ہیں۔ جن کی معلومات کے ذرائع قابل بھروسا ہیں۔ وہ بھی غلط فہمی کا شکار ہوسکتے ہیں لیکن کم از کم درست زاویے سے چیزیں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

میں نے مشرق وسطی کے تقریباََ تمام ایشائی ممالک دیکھے ہیں۔ امارات میں چار سال رہا ہوں۔ دو بار ایران گیا ہوں۔ ایک بار اسرائیل گیا ہوں۔ امریکا میں رہتا ہوں اور یہاں کی سیاست سے آگاہ ہوں۔ کچھ نہ کچھ مطالعہ اور ملاقاتیں ہیں۔ اس کے باوجود کوئی حتمی رائے نہیں دے سکتا کیونکہ طالب علم ہوں۔ عام آدمی ہوں۔ البتہ معلومات کے ذرائع سے واقف ہونے اور ریشنل نقطہ نظر کی وجہ سے ان لوگوں کو قابل توجہ نہیں سمجھ سکتا جو گھر میں بیٹھ کر، اے آئی سے بنائی گئی ویڈیوز دیکھ کر اور جوش ایمانی سے مغلوب ہوکر نعرے لگارہے ہیں۔ ذرا سے مختلف نقطہ نظر پر کفر، غداری او ایجنٹی کے الزامات لگانے، برابھلا کہنے اور گالیاں دینے پہنچ جاتے ہیں۔

ورچوئل ورلڈ اور احمقوں کی جنت کوئی الگ دنیائیں نہیں ہیں۔ ہمارے درمیان موجود لوگ جب حقائق سے دور ہوجائیں تو اس جنت یا جہنم میں پہنچ جاتے ہیں۔ فلم سیریز پلوریبس کے مرکزی کرداروں کیرول اور منوسوس کی طرح ریشنلسٹ افراد انھیں حقائق کی دنیا میں لانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن توقع کے مطابق وہی ردعمل ملتا ہے جو اس سیریز میں لکشمی کی جانب سے دکھایا گیا ہے۔ غصہ، طعنے، الزامات اور دھمکیاں۔

قدیم زمانے میں گاوں دیہات کے لوگوں کو علم ہوتا تھا کہ ان کے درمیان کون سیانا ہے اور کون نہیں۔ وہ سب سیانے کی بات غور سے سنتے تھے اور مانتے بھی تھے۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو آواز دے کر احمقوں اور سیانوں میں فرق مٹادیا ہے۔

Check Also

Jeans

By Amer Abbas