Wednesday, 11 March 2026
  1.  Home
  2. Nusrat Javed
  3. Petroleum Nirkhon Aur Muashi Mamlat Ki Uljhanon Mein Phansi Hamari Hukumat

Petroleum Nirkhon Aur Muashi Mamlat Ki Uljhanon Mein Phansi Hamari Hukumat

پٹرولیم نرخوں اور معاشی معاملات کی الجھنوں میں پھنسی ہماری حکومت

عرصہ ہوا "خبر" ڈھونڈنے کی مشقت کے قابل نہیں رہا۔ نوجوان ساتھیوں کی محنت سے میسر ہوئی معلومات کی جگالی سے تبصرہ آرائی کے نام پر ڈنگ ٹپاتا ہوں۔ صحافتی تجربہ مگر آپ کو چند حقائق جبلی طورپر جان لینے کے قابل بنادیتا ہے۔ رپورٹنگ کے دوران سیاستدانوں اور دیگر فیصلہ سازوں سے بڑھائی شناسائی خبروں کو بغور پڑھ کر کشید کئے اندازوں کی تصدیق یا تردید کے کام آجاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے کا آغاز ہوتے ہی لہٰذا ایک سے زیادہ معتبر ذریعہ سے مجھ تک یہ اطلاع پہنچ چکی تھی کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں تیل کا جو بحران نمودار ہوا ہے اس سے نبردآزما ہونے کے لئے وزیر اعظم شہباز شریف نے وزراء اور سینئر افسران پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر اس کے اجلاس ہورہے ہیں۔ ان کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھائو کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ایک جامع پالیسی تیار کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔

تیل کے حوالے سے ہمارے لئے بنیادی مسئلہ اس کی ممکنہ کمیابی ہوسکتی تھی۔ گزشتہ ہفتے کے پہلے دن مگر ہمارے ہا ں پٹرول وڈیزل کا ذخیرہ 28سے 30دنوں کی ضرورت کے لئے تسلی بخش حد تک موجود تھا۔ مستقبل کے حوالے سے خدشات اگرچہ نمایاں ہونا شروع ہوگئے۔ ہمارے خدشات کا آغاز سعودی عرب کی راس تنورابندرگا ہ کے قریب پھٹے ایک میزائل سے ہوا۔ اسرائیل کی جانب اچھالے اس میزائل کو سعودی فضا میں تباہ کردیا گیا تھا۔ تباہ ہوئے میزائل کے ملبے نے مگر اس خدشے کو تقویت فراہم کی کہ غالباََ سعودی عرب کو کچھ دنوں کے لئے راس تنورا سے تیل بردار جہازوں کیلئے سپلائی معطل کرنا ہوگی۔ پاکستان کے لئے تیل لے کر کوئی ٹینکر اس بندرگاہ سے روانہ ہو تو اسے کراچی یا گوادر تک پہنچنے کے لئے زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ درکار ہوتا ہے۔ خدانخواستہ یہاں سے تیل کی سپلائی طویل مدت تک رک جائے تب سعودی عرب کے مغرب میں بحیرہ احمر یا ریڈسی کے ساحل کے قریب واقع ینوبا کے شہر سے پاکستان کو تیل فراہم کیا جاسکتا ہے۔ اسے ہماری بندرگاہوں تک پہنچنے کے لئے مگر دو سے زیادہ ہفتے لگ سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک سے خریدا تیل ایران کے ساحل کے انتہائی قریب واقع آبنائے ہرمز سے گزرکر پاکستان آتا ہے۔ جنگ میں شدت آئی تو ایران نے اس آبنائے کی کامل بندش کا اعلان کردیا۔

آبنائے ہرمز کی بندش کا اعلان ہوتے ہی 28سے 30دنوں کی ضرورت کا تیل موجود ہونے کے باوجود منافع خوروں نے اس کی قلت کی فضا بنانا شروع کردی۔ ملک بھر میں کئی پٹرول پمپ جان بوجھ کر بند کردئے گئے۔ بڑے شہروں میں کھلے پٹرول پمپوں کی اکثریت گاڑیوں کو دس سے زیادہ لیٹر بیچنے سے انکار کرنے لگی۔ گاڑی، موٹرسائیکل اور رکشتہ استعمال کرنے والے شہریوں کی بے پناہ اکثریت اس حقیقت سے البتہ بے خبر رہی کہ آبنائے ہرمز کی بندش کی خبروں سے گھبراکر ہمارے کئی کاشتکار گھرانوں نے بھی ڈیزل کی ذخیرہ اندوزی شروع کردی تھی۔ مارچ کے اختتامی دنوں سے اپریل کے وسط تک انہیں گندم کی کٹائی وغیرہ کے لئے ڈیزل درکار تھا۔ اس کی قیمت میں اضافے کی خبروں سے گھبراکر بے شمار کاشتکاروں نے اپنی جمع پونجی کے علاوہ دوستوں اور عزیزوں سے قرض لے کر ڈیزل خریدنا اور اسے ذخیرہ کرنا شروع کردیا۔ پٹرول کے علاوہ ڈیزل بھی لہٰذا منڈی سے "غائب" ہوا نظر آیا۔ منافع خوروں اور قیمتوں میں اضافے کے خوف سے ڈیزل جمع کرنے والوں نے "قلت" کی جو فضا بنائی حکومت اس سے گھبراگئی۔ عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں سے وہ مزید پریشان ہوگئی۔ گھبراہٹ میں جمعہ کی رات پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یکمشت بھاری بھر کم اضافے کا اعلان کردیاگیا۔

علم ابلاغ کا عاجز طالب علم ہوتے ہوئے اصرار کرنے کو مجبور ہوں کہ جمعہ کی رات پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں جس ہوشربا اضافے کا اعلان ہوا وہ وزیر اعظم شہبازشریف کی جانب سے ہونا چاہیے تھا۔ نپے تلے الفاظ میں تیار کئے ایک جامع بیان کے ذریعے وزیر اعظم قوم کو سمجھانے کی کوشش کرتے کہ ان کی حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافے کا اعلان کرنے کو مجبور کیوں ہوئی۔ عوام کے کاندھوں پر بھاری بوجھ منتقل کرنے کے ساتھ ہی ان نکات کا بھی اعلان کردیا جاتا جو لوگوں کو یہ سوچنے کو مائل کرتا کہ سرکار مائی باپ بھی مشکل کی اس گھڑی میں اپنے پیٹ پر میرے اور آپ جیسے عامیوں کی طرح پتھرباندھ کر کڑے وقت کا مقابلہ کرنا چاہ رہی ہے۔

جمعہ کی رات گیارہ بجے کے بعد پٹرول کی قیمت میں 55روپے اضافے کا اعلان ہوتے ہی سوشل میڈیا پر واجب سوالات کی بھرمار شروع ہوگئی۔ مجھ جیسے جاہل بھی یہ سوچنے کو مجبور ہوئے کہ حکومت منافع خور ذخیرہ اندوزوں کے آگے جھک گئی ہے۔ انہیں 65سے 70ڈالر کے درمیان خریدے پٹرول کو پاکستان میں اس قیمت پر پہنچنے کی سہولت فراہم کردی گئی ہے جو عالمی منڈی میں فی بیرل تیل کی قیمت 90ڈالر سے بڑھ جانے کے بعد لاگو ہوسکتی تھی۔ منافع خور پہلے سے جمع شدہ پٹرول اور ڈیزل پر اربوں روپے کا منافع کماتے نظر آئے۔ حکومت نہ صرف ان کی سہولت کار محسوس ہوئی بلکہ لیوی کے نام پر اس نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے آئی ایم ایف کی تسکین کے لئے اس رقم کا حصول یقینی بنالیا جو اسے دیگر شعبوں پر لگائے ٹیکس کے ذریعے جمع کرنا تھی۔

جمعہ کی رات سے پیر کی شام تک گزشتہ ہفتے پٹرول کی قیمت میں ہوئے اضافے پر روایتی سے زیادہ سوشل میڈیا میں جو سوالات اٹھے حکومتی ترجمانوں کی فوج ظفر موج ان کے تسلی بخش جوابات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ پیر کی شام قوم سے مختصر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم بھی ان سوالات کو نظرانداز کرتے سنائی دئے۔ تمام تر توجہ انہوں نے کفایت شعاری کے اس پیکیج کے تعارف اور دفاع پر مرکوز رکھی جس کے ذریعے حکومت عوام کو یقین دلانا چاہ رہی ہے کہ آفتوں کے موجودہ دور میں وہ بھی اپنے اخراجات میں نمایاں کمی لانے کو سنجیدہ ہے۔

وزیر اعظم کی جانب سے ہوئی مختصر تقریر کے بعد حکومت کے "ٹیکنوکریٹ" معاونین ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہونا شروع ہوگئے۔ ان کی اکثریت عوام سے مخاطب ہونے کے بجائے معاشی امور پر منعقد ہوئے کسی سیمینار سے خطاب کرتی سنائی دی۔ بھاری بھر کم اصطلاحات کے ذریعے عام پاکستانی تو کیا مجھ جیسے نام نہاد پڑھے لکھے دانشور نما صحافی کوبھی معاشی معاملات کی الجھنوں سے آگاہ کرنا ان ترجمانوں کے بس کی بات نہیں۔ یہ فریضہ فقط ایسے وزراء ہی ادا کرسکتے تھے جو عوام کے براہ راست ووٹوں سے قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوتے ہیں۔ بدترین حالات میں بھی اپنے حلقے کے عوام سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ اس تناظر میں وزیر مملکت بلال ا ظہر کیانی جیسے ایک دو وزراء ہی تشفی بخش جوابات فراہم کرنے پر توجہ دیتے سنائی دئے۔ مختصر الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جمعہ کی رات پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بلوبیک (Back Blow)کے ازالے میں حکومت نے بہت دیر لگادی۔

About Nusrat Javed

Nusrat Javed, is a Pakistani columnist, journalist and news anchor. He also writes columns in Urdu for Express News, Nawa e Waqt and in English for The Express Tribune.

Check Also

Talkh Sachaiyan

By Syed Mehdi Bukhari