Wednesday, 11 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Dil Ki Pakeezgi Ki Dua

Dil Ki Pakeezgi Ki Dua

دل کی پاکیزگی کی دعا

کہتے ہیں کہ ایک درویش کے پاس ایک نوجوان آیا اور عرض کیا: "حضرت! میں بہت عبادت کرتا ہوں، نمازیں پڑھتا ہوں، صدقہ دیتا ہوں، لیکن دل کو سکون نہیں ملتا۔ آخر کیا کمی ہے؟" درویش مسکرایا اور اس نے نوجوان کو ایک شفاف شیشے کا پیالہ دیا۔ پیالہ بالکل صاف تھا۔ پھر اس نے اس میں تھوڑا سا کیچڑ ڈال دیا اور کہا: "اب اس میں پانی ڈالو اور پیو"۔ نوجوان نے ناگواری سے پیالہ دیکھ کر کہا: "حضرت! یہ کیسے ممکن ہے؟ پانی تو صاف ہے مگر پیالہ گندا ہے، اس میں پینا ممکن نہیں"۔ درویش نے نرمی سے جواب دیا: "بس یہی تمہاری زندگی کی کہانی ہے۔ عبادتیں پانی کی طرح صاف ہو سکتی ہیں، لیکن اگر دل کے پیالے میں نفاق، ریا اور جھوٹ کی مٹی پڑی ہو تو روح کو سکون کیسے ملے گا؟ پہلے دل کو پاک کرو، پھر عبادت کا ذائقہ بھی بدلے گا اور زندگی کا معنی بھی"۔

انسانی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ انسان کا ظاہر نہیں بلکہ اس کا باطن اس کی اصل شناخت ہوتا ہے۔ دنیا کی نظر اکثر ظاہری اعمال پر ہوتی ہے، لیکن ربِ کائنات کی نگاہ دلوں کی کیفیت کو دیکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ دل ہمیشہ اس دعا کو اپنی زندگی کا مرکز بناتے آئے ہیں: "اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے پاک کر دے، میرے عمل کو ریا و نمود سے بچا لے، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھ کو خیانت سے محفوظ فرما دے"۔ یہ دعا دراصل انسان کے پورے اخلاقی وجود کا خلاصہ ہے۔ دل کی پاکیزگی، عمل کی اخلاصیت، زبان کی سچائی اور نگاہ کی امانت، یہ چاروں چیزیں مل کر انسان کی شخصیت کو وہ روشنی عطا کرتی ہیں جس سے نہ صرف اس کی اپنی زندگی منور ہوتی ہے بلکہ معاشرہ بھی نور سے بھر جاتا ہے۔ اگر دل میں نفاق ہو تو عبادت بھی ایک دکھاوا بن جاتی ہے، اگر عمل میں ریا ہو تو نیکی بھی تجارت کی صورت اختیار کر لیتی ہے، اگر زبان میں جھوٹ ہو تو سچائی کی بنیادیں ہل جاتی ہیں اور اگر نگاہ میں خیانت ہو تو انسان کی ساری اخلاقی عمارت لرزنے لگتی ہے۔

نفاق دراصل روح کی سب سے بڑی بیماری ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جس میں انسان کا ظاہر کچھ اور ہوتا ہے اور باطن کچھ اور۔ وہ زبان سے خیر کی بات کرتا ہے لیکن دل میں شر کی پرورش کرتا ہے۔ وہ بظاہر دین کا لباس پہنتا ہے لیکن دل میں دنیا کی حرص چھپی ہوتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ معاشروں کی بڑی تباہیاں بیرونی دشمنوں سے کم اور اندرونی نفاق سے زیادہ پیدا ہوتی ہیں۔ یہی نفاق انسان کو منافقت کی اس دلدل میں دھکیل دیتا ہے جہاں سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔ اسی طرح ریا اور نمود بھی ایک ایسا اخلاقی زہر ہے جو نیکی کی اصل روح کو ختم کر دیتا ہے۔ عبادت اگر اللہ کے لیے نہ ہو بلکہ لوگوں کی تعریف کے لیے ہو تو وہ عبادت نہیں بلکہ ایک سماجی ڈراما بن جاتی ہے۔ اسی لیے اہلِ معرفت ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ نیکی کا سب سے بڑا حسن اس کی خاموشی ہے۔ جو نیکی جتنی خاموش ہو، وہ اتنی ہی خالص اور بلند ہوتی ہے۔

زبان کی سچائی بھی انسانی کردار کی بنیاد ہے۔ جھوٹ صرف ایک لفظی غلطی نہیں بلکہ ایک اخلاقی لغزش ہے جو انسان کے پورے اعتماد کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ جھوٹ بولنے والا شخص بظاہر کامیاب نظر آ سکتا ہے لیکن حقیقت میں وہ اپنی شخصیت کی بنیادوں کو کمزور کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح نگاہ کی خیانت بھی ایک ایسی خاموش لغزش ہے جسے اکثر لوگ معمولی سمجھتے ہیں، حالانکہ اس کے اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ آنکھ صرف دیکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ دل کی کھڑکی بھی ہے۔ جو چیز آنکھ دیکھتی ہے وہی آہستہ آہستہ دل میں اتر جاتی ہے۔ اسی لیے دعا میں یہ جملہ شامل ہے کہ "اے اللہ! میری آنکھ کو خیانت سے پاک کر دے، بے شک تو آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے چھپے ہوئے راز جانتا ہے"۔ یہ جملہ انسان کو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ دنیا کی نظروں سے کچھ چیزیں چھپ سکتی ہیں، لیکن خدا کی نگاہ سے کوئی راز پوشیدہ نہیں رہتا۔

درحقیقت یہی شعور انسان کو اخلاقی بلندی عطا کرتا ہے کہ وہ جان لے کہ اس کے دل کے راز بھی خدا کے سامنے عیاں ہیں۔ جب انسان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو اس کی زندگی میں ایک عجیب سی شفافیت پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر وہ صرف لوگوں کے سامنے اچھا بننے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اپنے رب کے سامنے سچا بننے کی فکر میں رہتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی عبادت بھی بدل جاتی ہے، اس کی گفتگو بھی سنور جاتی ہے اور اس کی نگاہ بھی پاکیزگی اختیار کر لیتی ہے۔ معاشروں کی اصلاح بھی دراصل یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ جب دل صاف ہوں گے تو عمل بھی صاف ہوں گے اور جب عمل صاف ہوں گے تو معاشرہ بھی عدل، محبت اور اعتماد کی بنیاد پر کھڑا ہوگا۔ اس لیے یہ دعا صرف ایک فرد کی دعا نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کی اصلاح کا منشور ہے۔ اگر دل نفاق سے پاک ہو جائیں، اعمال ریا سے خالی ہو جائیں، زبانیں جھوٹ سے آزاد ہو جائیں اور نگاہیں خیانت سے محفوظ ہو جائیں تو انسانیت کی بہت سی بیماریاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔

مختصر یہ کہ انسان کی اصل کامیابی اس کے باطن کی پاکیزگی میں ہے۔ دنیا کی چمک دمک، شہرت اور طاقت سب عارضی ہیں، لیکن ایک صاف دل ہمیشہ کے لیے روشنی بن جاتا ہے۔ انسان جب اپنے رب کے حضور یہ دعا کرتا ہے تو دراصل وہ اپنی پوری زندگی کو ایک نئی سمت دے رہا ہوتا ہے۔ وہ اعتراف کرتا ہے کہ اس کی سب سے بڑی ضرورت ظاہری کامیابی نہیں بلکہ اندرونی صداقت ہے اور یہی صداقت وہ روشنی ہے جو انسان کو خود اس کی ذات کے اندر بھی سکون دیتی ہے اور دنیا کے لیے بھی ایک مثال بنا دیتی ہے۔

انسان کی سب سے بڑی جدوجہد باہر کی دنیا کو بدلنے کی نہیں بلکہ اپنے اندر کی دنیا کو سنوارنے کی ہے۔ دل اگر پاک ہو جائے تو اعمال خود بخود سنور جاتے ہیں اور زندگی میں ایک ایسی روشنی پیدا ہو جاتی ہے جو انسان کو خدا کے قریب بھی لے جاتی ہے اور انسانیت کے لیے بھی باعثِ رحمت بن جاتی ہے۔

دل کو نفاق و کذب سے پاکی عطا ہو جائے
ہر سمت پھر حیات میں خوشبو سی بکھر جائے

آنکھوں میں امانت ہو، لب پر صداقت ہو
انساں کا ہر اک نقشہ آئینہ گر ہو جائے

ریا کی دھند چھٹ جائے اخلاص کے سورج سے
پھر نورِ یقین دل کی دنیا میں گھر ہو جائے

اے ربِ کریم ایسا دل مجھ کو عطا کر دے
جو تیرے حضور آئے تو سجدہ اثر ہو جائے

Check Also

Shahadat e Mola Ali Aur Ittehad e Ummat Ka Pegham

By Nouman Ali Bhatti