Wednesday, 11 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Ali Yaqubi
  4. Pakistan Ka Taleemi Nizam: Har Bohran Ka Pehla Nishan

Pakistan Ka Taleemi Nizam: Har Bohran Ka Pehla Nishan

پاکستان کا تعلیمی نظام: ہر بحران کا پہلا نشانہ

پاکستان کا تعلیمی نظام کورونا کے بعد شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے اور بدقسمتی سے یہ اس حد تک تجربات کی نذر ہوگیا ہے کہ گویا یہ مندر کا گھنٹا بن چکا ہے جسے ہر کوئی آ کر بجا جاتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ ہر محکمہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے سب سے پہلے تعلیمی اداروں کو نشانہ بناتا ہے اور تعلیمی نظام کو بند یا محدود کرنے کے فیصلے کر لیتا ہے۔ جب زلزلہ آ جائے، صحت کا نظام درہم برہم ہو جائے، مواصلاتی نظام متاثر ہو جائے، سیاسی احتجاج کی وجہ سے سڑکیں بند ہو جائیں یا حکومت کو اخراجات کم کرنے ہوں تو سب سے پہلے تعلیمی اداروں کی بندش کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ گویا تعلیم ایک ایسا شعبہ بن چکا ہے جسے ہر بحران میں قربانی کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔

حال ہی میں پٹرول کے ممکنہ بحران کے نام پر بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک طرف حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً بیس فیصد اضافہ کیا اور دوسری طرف روس سے تیل کی فراہمی بھی پہنچ چکی ہے لیکن اس کے باوجود تین صوبوں میں مکمل طور پر تعلیمی سرگرمیاں بند کر دی گئیں جبکہ خیبر پختونخوا نے کسی حد تک اعتدال کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہفتے میں تین دن تعطیل کا فیصلہ کیا۔

یہ فیصلہ بھی کئی سوالات کو جنم دیتا ہے کیونکہ پاکستان میں حقیقت یہ ہے کہ نوے فیصد سے زیادہ طلبہ اسکول جانے کے لیے کسی ٹرانسپورٹ کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ پیدل اسکول جاتے ہیں جبکہ باقی جو چند بچے ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں ان میں سے بھی اکثر سی این جی یا گیس پر چلنے والی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں تعلیمی اداروں کو بند کرنا ایک غیر منطقی اور غیر دانشمندانہ فیصلہ محسوس ہوتا ہے۔

مسئلہ دراصل یہ ہے کہ تعلیمی نظام کے بارے میں فیصلے کرنے والے اکثر زمینی حقائق سے ناواقف ہوتے ہیں۔ چاہے وہ تعلیمی سال کے آغاز کا معاملہ ہو، امتحانات کا نظام ہو، بورڈ کے فیصلے ہوں یا قومی اور صوبائی سطح کی پالیسیاں ہوں، اکثر فیصلے زمینی حقائق کے برعکس نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام مسلسل کمزور ہوتا جا رہا ہے اور اس کی بنیادیں ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ تعلیم میں فیصلے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر کیے جائیں اور تعلیم کو ہر بحران میں قربانی کا بکرا بنانے کی روایت ختم کی جائے۔ اگر یہی طرز عمل جاری رہا تو ہمارے بچوں کا مستقبل مزید تاریک ہوتا جائے گا۔ باشعور اور تعلیم یافتہ طبقات کو بھی چاہیے کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے آگے آئیں اور تعلیم کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں کیونکہ تعلیم ہی کسی بھی قوم کی اصل طاقت اور ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔

About Asif Ali Yaqubi

Asif Ali Yaqubi hails from Swabi, an important district in Khyber Pakhtunkhwa. He is one of the emerging young columnists in Khyber Pakhtunkhwa. His columns are published in most of the province national newspapers.

Check Also

Islahat Ke Khwahan Log

By Mojahid Mirza