Pakistan Ki Maeeshat, Tijarat o Sanat Haqaiq o Imkanat
پاکستان کی معیشت، تجارت و صنعت حقائق و امکانات

پاکستان کی معیشت طویل عرصے سے اندرونی اور بیرونی دباؤ کا شکار رہی ہے، مگر 2025 ایک ایسا سال ثابت ہوا جس میں شدید اقتصادی چیلنجز کے باوجود معیشت نے استحکام کی طرف قدم بڑھایا۔ مالی سال 2024-25 (جولائی 2024 تا جون 2025) میں جی ڈی پی کی شرح نمو 2.7 فیصد سے 3 فیصد تک رہی، جو پچھلے سال کی 2.6 فیصد سے بہتر تھی۔ اگرچہ مہنگائی، توانائی کا بحران، قرضوں کا بوجھ اور عالمی اقتصادی سست روی جیسے عوامل اب بھی اثر انداز رہے، تاہم کاروباری طبقے کی لچک، پالیسی اصلاحات اور ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے آئی ٹی نے معیشت کو سہارا دیا۔ یہ عوامل 2026 کے لیے محتاط مگر امید افزا امکانات کی بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔
سال 2025 میں مہنگائی ایک اہم چیلنج رہی، مگر یہ پچھلے سالوں کی نسبت کافی حد تک قابو میں آئی۔ جولائی تا اپریل 2025 کے دوران اوسط سی پی آئی مہنگائی 4.7 فیصد رہی، جو پچھلے سال کی 26 فیصد سے بہت کم تھی۔ اپریل 2025 میں تو مہنگائی صرف 0.3 فیصد تک گر گئی، جو چھ دہائیوں کی کم ترین سطح تھی۔ تاہم، خام مال، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے سے پیداواری لاگت بڑھی، جس کا اثر مصنوعات کی قیمتوں اور طلب پر پڑا۔ مقامی صنعت کو درآمدی اشیاء سے مسابقت کا سامنا رہا، جبکہ بلند لاگت نے برآمدات کو متاثر کیا۔ اس کے باوجود، کئی صنعتیں محدود صلاحیت پر کام کرتی رہیں اور مکمل بندش کا رجحان کم ہوا۔ جولائی تا ستمبر 2025 (مالی سال 2026 کا پہلا کوارٹر) میں مہنگائی 4.2 فیصد رہی، جو امید افزا ہے۔
توانائی کا بحران 2025 میں صنعت کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنا رہا۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے ٹیکسٹائل، سیمنٹ، اسٹیل اور فرٹیلائزر جیسے شعبوں کو خاص طور پر متاثر کیا۔ یہ صنعتیں توانائی پر انحصار کرتی ہیں، جس سے پیداواری لاگت بڑھی اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت کم ہوئی۔ تاہم، بعض صنعتی یونٹوں نے متبادل توانائی ذرائع جیسے شمسی نظام اور توانائی کی بچت کی ٹیکنالوجی اپنا کر اخراجات کو قابو میں رکھا۔
مجموعی طور پر، بجلی کی پیداوار 90,145 جی ڈبلیو ایچ رہی، جس میں ہائیڈل 30.4 فیصد، تھرمل 46.3 فیصد اور نیوکلیئر 19.1 فیصد کا حصہ تھا۔ توانائی کی قیمتیں بلند رہیں، مگر اصلاحات کے ذریعے استحکام کی کوششیں جاری رہیں۔ زر مبادلہ کی کمی اور درآمدی دباؤ بھی 2025 کی نمایاں مشکلات میں شامل رہے۔ صنعتی مشینری، کیمیکلز اور پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات مہنگی ہونے سے صنعتی توسیع متاثر ہوئی۔ ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ نے کاروباری منصوبہ بندی کو غیر یقینی بنایا، تاہم برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافے نے زر مبادلہ کی صورت حال کو مکمل بگاڑ سے بچایا۔
جولائی تا اپریل 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 1.9 بلین ڈالر رہا، جو پچھلے سال کے خسارے سے بہتر تھا۔ برآمدات 6.8 فیصد بڑھ کر، جبکہ درآمدات 11.8 فیصد اضافے سے ٹریڈ خسارہ 21.3 بلین ڈالر رہا۔ جولائی تا ستمبر 2025 میں برآمدات 7.9 بلین ڈالر اور درآمدات 15.4 بلین ڈالر رہیں۔ ان چیلنجز کے باوجود، 2025 میں تجارت اور صنعت میں کئی مثبت پیش رفت سامنے آئیں۔ ٹیکسٹائل کے علاوہ چاول، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات اور زرعی مصنوعات کی برآمدات میں بہتری دیکھی گئی، اگرچہ حالیہ سیلابوں نے چاول کی برآمدات کو متاثر کیا اور 2025-26 کی برآمدات 4.6 ملین ٹن تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ اس کے باوجود، یہ شعبے عالمی منڈی میں پاکستانی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ علاقائی منڈیوں میں تجارت کے فروغ نے نئی راہیں کھولیں۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) جولائی تا اگست 2025 میں 4.4 فیصد بڑھی، جس میں آٹوموبائل اور سیمنٹ جیسے شعبے نمایاں رہے۔
آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز 2025 میں معیشت کا مضبوط ستون بن کر ابھریں۔ مالی سال 2024-25 میں آئی ٹی برآمدات 2.825 بلین ڈالر رہیں، جو 23.7 فیصد اضافہ تھا۔ جولائی تا ستمبر 2025 میں یہ 1.1 بلین ڈالر تک پہنچیں، 20.4 فیصد اضافے کے ساتھ۔ سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، فری لانسنگ اور آن لائن خدمات نے قیمتی زر مبادلہ حاصل کیا۔ کم سرمائے کے باوجود نوجوانوں نے عالمی منڈی میں جگہ بنائی، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور ڈیجیٹل معیشت کی سمت متعین ہوئی۔ چھوٹی اور درمیانی صنعتیں (ایس ایم ایز) نے بھی 2025 میں معیشت کو سہارا دیا۔ درآمدی متبادل پالیسیوں سے مقامی تیاری میں اضافہ ہوا، روزگار بڑھا۔ حکومتی اصلاحات جیسے کسٹمز کلیئرنس کی بہتری، آن لائن ٹیکس سسٹم، کاروبار کے اندراج میں سہولت اور ریلیف پیکجز نے اعتماد بحال کیا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے اور ریٹنگ ایجنسیوں کی آپ گریڈز نے سرمایہ کاری کو فروغ دیا۔
2026 کی طرف دیکھیں تو امکانات اور چیلنجز دونوں موجود ہیں۔ جی ڈی پی کی شرح نمو 2.5 سے 3 فیصد رہنے کی توقع ہے، جو اصلاحات پر منحصر ہے۔ علاقائی روابط کی مضبوطی سے برآمدات بڑھائی جا سکتی ہیں، جیسے وسطی ایشیا، چین، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے ساتھ۔ آزاد تجارتی معاہدوں کا مؤثر نفاذ ضروری ہے۔ صنعتی شعبے میں نئی سرمایہ کاری کے لیے توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور پالیسی تسلسل چاہیے۔
خصوصی اقتصادی زونز کو فعال کرنے سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے۔ زرعی صنعت اور ویلیو ایڈیشن 2026 میں معیشت کی مضبوطی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ خام زرعی مصنوعات کی بجائے فوڈ پراسیسنگ، پیکجنگ اور کولڈ چین سسٹم سے برآمدات میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے، جس سے دیہی معیشت مضبوط ہوگی۔ گرین انڈسٹری اور قابل تجدید توانائی بھی اہم ہیں۔ شمسی اور ہوا کی توانائی کے منصوبے توانائی بحران پر قابو پائیں گے اور ماحول دوست ترقی کی راہ ہموار کریں گے۔ عالمی گرین سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، 2025 میں پاکستان کی معیشت نے سخت حالات میں استحکام کا مظاہرہ کیا۔ تجارت اور صنعت نے مشکلات کے باوجود بحالی کی راہیں تلاش کیں۔ اگر 2026 میں پالیسی تسلسل، توانائی اصلاحات، برآمدات کے فروغ اور سرمایہ کاری پر توجہ دی جائے تو پاکستان موجودہ مشکلات سے نکل کر پائیدار ترقی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔ تجارت اور صنعت ہی وہ ستون ہیں جو ملکی معیشت کو مضبوط بنیاد دیں گے اور مستقبل کو روشن بنائیں گے۔

