حکومت کے لچک دکھانے پر "ایک دھکا اور دو" کا شور شرابا

بانی تحریک انصاف کی صحت کے حوالے سے جو تنازعات وتضادات پھوٹ پڑے ہیں محاورے والے کمبل کی طرح دل ودماغ سے لپٹ کر کسی اور موضوع پر سوچنے کی مہلت ہی نہیں دے رہے۔ حکومت کی اس ضمن میں ابتداء میں برتی غیر ذمہ دارانہ لاپرواہی نے بلاشبہ تنازعات وتضادات کو بھڑکایا ہے۔ 24 اور 25جنوری کی درمیانی شب عمران خان صاحب کو آنکھ کے علاج کے لئے ہسپتال لانے کے بعد ان کے مرض اور علاج کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ کا اجراء افواہ سازوں کو دھندا چمکانے کے امکانات سے محروم کردیتا۔
حکومت نے مگر سابق وزیر اعظم کی اسلام آباد کے پمز ہسپتال لائے جانے کی خبر کو درست قرار دینے میں بہت دیر لگائی۔ جو تاخیر ہوئی اس نے آئین میں 26ویں اور 27ویں ترامیم کی بدولت "کھانے کے دانتوں" سے محروم ہوئی سپریم کورٹ کو بالآخر "غیر موثر" ہوئی ایک درخواست کی سماعت کو مجبور کردیا۔ اس کی سماعت کے دوران اس امر کی گنجائش نکالی گئی کہ عمران خان کے ایک تگڑے وکیل سلمان صفدر کو "فرینڈ آف دی کورٹ" بناکر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل بھیجا جائے۔ گزشتہ تین برسوں سے وہاں قید ہوئے سابق وزیر اعظم کے ساتھ طویل ملاقات کے بعد انہوں نے 7صفحات پر مشتمل جو رپورٹ تیار کی وہ بانی تحریک انصاف کو جیل کی ز ندگی غیر جذباتی رویے کے ساتھ قبول کرتا دکھاتی ہے۔
سلمان صفدر کی تیار کردہ ر پورٹ کا کلیدی پیغام مگر اس دعویٰ میں دب کے رہ گیا کہ سابق وزیر اعظم شدت سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ ایک جیل سپرٹنڈنٹ کے سفاکانہ رویے کے سبب ان کی دائیں آنکھ کی بینائی بروقت تشخیص وعلاج سے محروم ر ہی۔ اس کے نتیجے میں یہ آنکھ 85فی صد بینائی سے محروم ہوگئی۔ بینائی کے مبینہ نقصان نے عاشقانِ عمران کو ان کے قائد پر جیل میں مسلط کردہ تنہائی بھی یاد دلادی۔ جو فضا بنی اس نے عمران خان کے کئی دیرینہ ناقدین اور سیاسی مخالفین کو بھی سرکار مائی باپ کو یہ یاد دلانے کو مجبور کیا کہ "سزا یافتہ قیدی" کے بھی چند حقوق ہوتے ہیں۔ طبی معائنے اور معالجے کے علاوہ قریبی عزیزوں اور وکلاء تک رسائی ان حقوق میں سرفہرست ہے۔ سپریم کورٹ کو لہٰذا یہ حکم دینا پڑا کہ قیدی کی متاثرہ آنکھ کا ماہر معالجین جائزہ لیں۔ علاوہ ازیں ان کی لندن میں مقیم بیٹوں سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کروائی جائے۔
عدالت میں پیش ہوئی سلمان صفدر صاحب کی تیار کردہ رپورٹ پر اٹارنی جنرل نے اعتراضات اٹھانے سے گریز کیا۔ حکومت کو دئے حکم کی تعمیل کرنے کی یقین دہانی دلاتے ہوئے واضح انداز میں یہ عندیہ دیا کہ سرکار بانی تحریک انصاف کے طبی مسائل کو نگاہ میں رکھتے ہوئے کچھ نرمی دکھانے کو تیار ہے۔ عمران خان کے حقیقی اور پرخلوص خیرخواہوں کو حکومت کی دکھائی لچک کو اس کی کمزوری ٹھہرانے سے گریز کرنا چاہیے تھا۔
جوابی لچک دکھانے کے برعکس یہ فرض کرلیا گیا کہ حکومت سابق وزیر اعظم کے طبی مسائل برسرِعام آنے سے گھبرا گئی ہے۔ اس تناظر میں اگر تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان احتجاجی تحریک چلانے میں کامیاب ہوگئے تو حکومت بانی تحریک انصاف کو جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کے بعد بالآخر انہیں نواز شریف کی طرح علاج کے نام پر بیرون ملک بھیجنے کو مجبور ہوسکتی ہے۔ روایتی اور سوشل میڈیا پر سازشی کہانیوں کے معجون فروشوں نے بھی ممکنہ تحریک بھڑکانے کے لئے "ڈیل یا ڈھیل" کی گفتگو شروع کردی۔
"ڈیل یا ڈھیل" کا ذکر کرتے ہوئے اس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کردیاگیا کہ پاکستان کی مختلف حکومتیں کسی طاقتور غیر ملک کی مداخلت کے نتیجے ہی میں قدآور سیاسی مخالفین کو"ڈھیل" دینے کیلئے رضا مند ہوتی رہی ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی مذکورہ تناظر میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی قید کے دوران ان کے بے تحاشہ غیر ملکی دوستوں نے جنرل ضیاء سے نرمی کی درخواست کی تھی۔ افغانستان کے کمیونسٹ اور ایران کے اسلامی انقلاب نے مگر موصوف کو انکار کا حوصلہ دیا کیونکہ ان دو ممالک میں ہوئی انقلابی تبدیلیوں کے تناظر میں وہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور ممکنہ کردار کو بخوبی جان چکے تھے۔
نواز شریف کو جنرل مشرف کلنٹن حکومت کے دبائو کی وجہ سے سعودی عرب بھیجنے کو مجبور ہوئے۔ وجہ اس کی کارگل جنگ کے دوران4جولائی 1999ء کے روز واشنگٹن میں ہوئے وعدے تھے جس کے نتیجے میں پاکستان کے وزیر اعظم کو کارگل میں جنگ بندی کے لئے مجبور کیا گیا۔ کلنٹن کے علاوہ ان دنوں کی سعودی قیادت کی نواز شریف سے ذاتی قربت نے بھی ان کی جلاوطنی میں اہم ترین کردار ادا کیا۔
افغانستان کی جنگ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مشرف حکومت کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ سیاسی مفاہمت کو مجبور کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے نتیجے میں محترمہ بے نظیر بھٹو وطن لوٹیں تو انتہا پسند دہشت گردوں نے انہیں راولپنڈی کی سڑک پر قتل کردیا۔ عمران حکومت کے دوران نواز شریف کے علاج کے نام پر جیل سے برطانیہ منتقلی بھی امریکہ میں ٹرمپ کی پہلی حکومت کی افغانستان سے انخلاء کی خواہش کے تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ پاکستان کے حوالے سے موثر اثرورسوخ کی حامل کوئی غیر ملکی حکومت اپنے طویل المدت مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے عمران خان اور ان کے عاشقان کے دل جیتنے کی فی الوقت ضرورت محسوس نہیں کررہی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی بلکہ کئی حوالوں سے پاکستان کے موجودہ بندوبست حکومت سے مطمئن محسوس کررہے ہیں۔
کسی قد آور سیاسی شخصیت کے بااثر غیر ملکی دوستوں کے علاوہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کے باہمی اختلافات بھی اس کی اہمیت اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خود کو "شہر جاناں " میں یک وتنہا "پارسا" محسوس کرتے ہوئے عمران حکومت نے مگر اپریل 2022ء تک پہنچتے ہوئے اپنے تمام سیاسی اور غیر سیاسی مخالفین کو باہمی اختلافات بھلاکر یکجا ہونے کو مجبور کردیا تھا۔ وہ اس حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کے لئے متحرک ہوئے تو عمران خان نے "سائفر کہانی" کے ذریعے امریکہ کو للکارنا شروع کردیا۔ ریاست کے طاقتور ترین ادارے میں "میر جعفر وصادق" کی نشاندہی کرتے ہوئے وہاں موجود کئی افراد کو بھی ان سے فاصلہ رکھنے کو مجبور کردیا۔ پاکستان کے ریاستی "ستونوں" میں سے فقط عدلیہ سے انہیں چند گفتار کے غازی نما "دوست" ملے۔ موجودہ بندوبستِ حکومت نے آئین کی 26ویں اور 27ویں ترامیم کے ذریعے ان کا مکوٹھپ دیا ہے۔
معروضی حقائق کا تقاضہ تھا کہ تحریک انصاف اپنی محدودات کا حقیقت پسندانہ ادراک کرتے ہوئے اپنے قائد کی صحت پر "انسانی بنیادوں " ہی پر توجہ مرکوز کرتی دکھائی دیتی۔ اس کی صفوں میں موجود انتہا پسندوں نے مگر حکومت کی جانب سے دکھائی لچک کو اس کی کمزوری تصور کرتے ہوئے "ایک دھکا اور دو" کے خیال سے صوابی انٹرچینج پر دھرنا دیتے ہوئے خیبرپختون خواہ کے پاکستان کے دیگر شہروں سے رابطے کاٹنے کی کاوشیں شروع کردیں۔ ان کاوشوں نے خیبرپختونخواہ کے رہائشیوں ہی کو پریشان کیا۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت اب مزید لچک دکھانے کو تیار نہیں۔ اس کی اپنائی سخت گیر ی تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اور دھڑے بندیاں بھی برسرِ عام لانا شروع ہوگئی ہے اور چسکہ فروشی کونیا مواد ملنا شروع ہوگیا ہے۔

