Sunday, 22 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Meri Apni Kahani (3)

Meri Apni Kahani (3)

میری اپنی کہانی (3)

سرسید کالج میں طویل عرصے تک ہم اپنے آپ کو اجنبی سا محسوس کرتے رہے۔ ہمیں نہیں معلوم تھا ہمیں یونیفارم پہنا دیا جائے گا۔ لہذا سفید شلوار قمیض میں ملبوس ہو کر کالج لائف کی وہ مخصوص کیفیت کبھی پوری طرح محسوس نہ ہو سکی جس میں آزادی اور خود اعتمادی کا رنگ گھلا ہوتا ہے۔

ہم تقریباً بیک بینچر تھے، جبکہ کلاس کے بیشتر طلبہ ایلیٹ طبقے، انگریزی میڈیم اداروں اور فوجی افسران کے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ کبھی کبھار یوں محسوس ہوتا جیسے ہم کسی اور سیارے سے آ رہے ہوں اور مریخ کی کسی انجانی مخلوق کے درمیان کھڑے ہوں۔

ہمارے لیے اردو میڈیم پس منظر کے باعث انگریزی میں لکھی ہوئی کورس بکس بذات خود ایک چیلنج تھیں۔ جب کہ انگریزی کے خوش لباس، گھنیری زلفوں والے، شیکسپیئر سے مشابہ استاد، پروفیسر افتخار یوسف کا سامنا ایک الگ مسئلہ تھا۔ وہ اچانک سر پہ آن کھڑے ہو جاتے اور ثقیل انگریزی میں کوئی سوال پوچھ لیتے۔ کالج سے بہت سال بعد اسلام آباد میں ملے تو معلوم ہوا ان کا سسرال ادھر ہی ہے۔ اب کینیڈا مقیم ہیں اور وہ میرے کالج کے واحد استاد ہیں جن سے اب تک رابطہ برقرار ہے۔

مظفر اور میری سب سے بڑی تفریح یہ ہوتی کہ چھٹی کے بعد صدر جا کر کریم کے سموسے یا لوبیا چاٹ سے دل بہلا لیتے۔ کالج آنا اور جانا سب سے کٹھن مرحلہ تھا۔ سرکاری والوو بسوں میں چار آنے کرائے کے چکر میں دو ڈھائی گھنٹے کا سفر، کتابوں کا بوجھ اور اکثر کھڑے کھڑے منزل تک پہنچنا، یہ سب ہمارے روزمرہ کا حصہ تھا۔ تھکن جسم سے زیادہ دل پر اترتی تھی۔

چاندنی چوک کے بعد کا فیض آباد تک سفر نسبتاً پُرسکون ہوتا تھا۔ اردگرد زیادہ تر سرسبز کھیت ہوتے۔ اسی طرح فیض آباد سے زیرو پوائنٹ والی ڈبل روڈ بھی انتہائی دلکش ہوتی، دونوں اطراف سلوپ میں سبز لینڈ اسکیپ ہوتی، یہ سفر کافی طویل محسوس ہوتا، تاہم زیرو پوائنٹ پہنچنے پہ احساس ہوتا کہ ہم اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

یہ جنرل محمد ضیاء الحق کا زمانہ تھا۔ مارچ 1982 میں فرسٹ ائیر کے امتحانات شروع ہوئے۔ اُس وقت فیڈرل بورڈ کے تحت دونوں برسوں کے الگ الگ پرچے ہوتے اور بعد ازاں مجموعی مارکس شیٹ جاری کی جاتی۔ میتھمیٹکس کا پرچہ سامنے آیا تو گویا سانس رک گئی۔ ہر سوال کے دو جزو تھے اور ہر سوال میں ایک حصہ آوٹ آف کورس تھا۔ میں نے نیم دلی سے پرچہ شروع کیا۔ ساتھ بیٹھے مظفر کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہ تھی۔ کلاس میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔ تقریباً چالیس منٹ کی مغز کھپائی کے بعد میں نے مظفر کی طرف دیکھا اور اُس نے میری طرف۔ آنکھوں میں مایوسی صاف جھلک رہی تھی۔ پھر اُس نے خاموشی سے پین اٹھایا اور حل شدہ صفحات پر کراس لگانا شروع کر دیا۔ میں نے بھی گویا کسی روبوٹ کی طرح اس کی پیروی کی، پرچہ کراس کیا، ممتحن کے حوالے کیا اور باہر آ گیا۔ وہ دن ہمارے لئے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔

ایک ہفتے بعد مظفر میرے پاس آیا۔ وہ پاک بحریہ میں این کیڈٹ کے لیے درخواست دے چکا تھا۔ قریب ایک گھنٹہ وہ مجھے بھی آمادہ کرنے کی کوشش کرتا رہا، مگر میں نے صاف کہہ دیا کہ ڈسپلن کی سخت زندگی شاید میرے مزاج سے ہم آہنگ نہ ہو۔ یوں نیوی میں سلیکشن کے بعد وہ مجھ سے جدا ہوگیا، اگرچہ رابطہ عمر بھر قائم رہا۔

سیکنڈ ائیر میں ریحان عثمانی مظفر کے نعم البدل کے طور پر آیا۔ اس کے والد واپڈا میں چیف انجینئر تھے۔ اس نے دوستی کا خلا بڑی خوبی سے پُر کیا۔ انہی دنوں گجرات سے سجاد وڑائچ بھی حلقۂ احباب میں شامل ہوا۔ خالص دیہاتی پس منظر رکھتا تھا اور جب وہ "کیوں" کو "کیاؤں" کہتا تو ہم شرارتاً اس کا مذاق اڑاتے۔ آج سوچتا ہوں تو وہ معصوم سی ہنسی دل کو چبھتی ہے۔

سجاد اور میں انجینئر بننے کے خواب دیکھا کرتے تھے، مگر یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کس ٹیکنالوجی کا انتخاب کریں۔ سول اور الیکٹریکل کے درمیان بحث چلتی رہتی۔ ایک دن سجاد نے تجویز دی کہ اخبارات کے اشتہارات دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں کہ کس شعبے کی طلب زیادہ ہے۔ ہم لائبریری میں جا بیٹھتے اور جنگ، نوائے وقت، پاکستان ٹائمز اور مسلم کے اشتہارات کھنگالتے۔ اس سادگی پر آج حیرت ہوتی ہے کہ ہماری آگاہی کا معیار کتنا محدود تھا اور خواب کتنے معصوم تھے۔

کالج لائف مختصر ہوتی ہے، انٹرمیڈیٹ کے دو برس پلک جھپکتے سے گزر جاتے ہیں۔ انہی دنوں ایک اور دلچسپ کردار سلمان تھا جسے ہم "سولے مان" کہتے تو وہ خفا ہو جاتا۔ جینز اور اونچی ایڑھی کے جوتے اس کی پہچان تھے۔ کالج کے سامنے مال روڈ کی سمت لگے لوہے کے جنگلے پر بیٹھنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ 2002 میں اسلام آباد میں اس سے آخری ملاقات ہوئی۔ پھر معلوم ہوا کہ وہ کینیڈا جا بسا ہے۔ تقریباً تئیس برس بعد میں نے اسے ٹورنٹو میں ڈھونڈ نکالا۔ یہ ہم دوستوں میں وہ خوش نصیب تھا جس نے شیخ رشید احمد کی پیروی کرتے ہوئے شادی کا جھنجھٹ نہیں پالا۔ مسی ساگا کے ایک ہوٹل میں رات گئے تک ہم ماضی کو یاد کرتے رہے۔ اس کی "اینگری ینگ مین" والی عادت آج بھی برقرار تھی جس میں وہ ہر آدھ گھنٹے بعد نظام کو ایک ثقیل گالی سے نوازتا ہے۔ کچھ عادتیں واقعی عمر بھر ساتھ رہتی ہیں۔

سرسید میں 1983 ہنگامہ خیز تھا۔ مارچ میں سیکنڈ ائیر کے امتحانات ہوئے اور اس دفعہ مجھے گزشتہ برس کا میتھ کا پرچہ بھی دینا تھا۔ اس بار قسمت مہربان رہی۔ تمام پرچے، بشمول میتھ، بہترین ہوئے۔ یوں لگا جیسے قدرت پچھلی محرومی کا ازالہ کرنا چاہتی ہو۔ نتیجہ آیا تو امیدوں کے عین مطابق۔ انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ اب مسئلہ نہ رہا تھا، مگر قدرت نے ابھی ایک اور دلچسپ منظر میرے لئےسنبھال رکھا تھا۔

مئی 1983 میں کالج سے تقریبِ تقسیمِ انعامات کا دعوت نامہ ملا۔ مقررہ دن سجاد کے ساتھ کالج پہنچا۔ ہال میں کیمسٹری کے استاد اسلم صاحب گلے ملے اور مبارک دی۔ مجھے کچھ سمجھ نہ لگی۔ اسٹیج پہ چڑھا، وہاں پر رکھے انعامات دیکھے تو دل کی دھڑکن جیسے تھم سی گئی۔ میں پری انجینئرنگ گروپ میں اول آیا تھا اور آج مجھے چیف آف دی آرمی اسٹاف گولڈ میڈل ملنا تھا، جو جنرل ضیاء الحق نے دینا تھا مگر وہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر خود نہ آ سکے اور ان کی جگہ بریگیڈئر سید صدر نواب نے انعام دیا۔۔ یہ میری سادگی اور بے خبری کی انتہا تھی کہ میں اس اچیومنٹ سے آخر تک بے خبر رہا۔ اسی تقریب میں معلوم ہوا کہ فیڈرل بورڈ میں تیسری پوزیشن محض چند نمبروں سے رہ گئی، مگر پرنسپل امین بھٹی نے جب گلے لگا کے مبارک باد دی تو یہ ملال جاتا رہا۔

دسمبر 2019 میں سرسید کالج کی ایلومنائی کا اجتماع ہوا۔ سرسیدین دوست ملک صبور کے اصرار پر میں شریک ہوا۔ اس وقت پرنسپل پروفیسر نعیم تھے، نہایت شائستہ اور نفیس انسان اور انتظامات بھی مثالی تھے۔ سینتیس برس بعد جب دوبارہ کالج میں قدم رکھا تو وقت جیسے پلٹ کر سامنے آ کھڑا ہوا۔ فزکس کے پروفیسر صفدر صاحب ملے، وہ تقریباً ویسے ہی تھے۔ مجھے لگا ماضی میں پہنچ گیا، ضبط مشکل ہوگیا۔ جی چاہا کہ دھاڑ مار کر رو دوں۔ رندھی ہوئی آواز میں ان کا احوال پوچھا۔ اردو کے پروفیسر گل نواز شدت سے یاد آئے۔ اللہ انہیں اور ان کے رفیق عرفان صدیقی کو اپنی رحمت میں جگہ دے۔ اردو اساتذہ میں اب صرف جلیل عالی حیات ہیں اور آج بھی اعلیٰ درجے کی شاعری کہتے ہیں۔

تقریب چل رہی تھی، میں خاموشی سے نکل کے مین بلڈنگ کی راہداری میں آ کھڑا ہوا۔ آنکھیں نم تھیں اور وجود ساکت۔ مجھے اپنا چار دہائیوں پہلے کا رعنائیوں سے بھرپور وجود یاد آیا، اپنے ہم عصر یاد آئے، خدایا اب سب کہاں ہوں گے؟ مجھے تو بیشتر کے نام تک بھول چکے تھے۔ اس لمحے شدت سے احساس ہوا کہ ماضی کی طرف لوٹنا کتنا کٹھن اور کتنا دل خراش عمل ہے۔

کچھ برس قبل فزکس کے دوسرے پروفیسر ندیم صدیقی ملے، میرے بڑے بھائی کے دوست اور کلاس فیلو تھے، جو اس وقت بستر مرگ پہ تھے۔ ان کی علالت کی خبر سن کے انھوں نے بڑا تاریخی جملہ کہا " ہم دوست اب عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں خبر یہ نہیں کہ کون مر گیا، خبر یہ ہے کہ کون زندہ ہے"۔

وقت بدلتا جائے گا اور چہرے بھی بدلتے جائیں گے، بس یہی قانون قدرت ہے۔

جاری ہے۔۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Meri Apni Kahani (3)

By Muhammad Idrees Abbasi