Friday, 20 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Abbas Urf Bassa

Abbas Urf Bassa

عباس عرف باسسا

باسسا کو میں نے اضافی آمدنی کے لیے ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے دیکھا۔ ان سے مجھے سبق ملا کہ صرف ایک ملازمت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا نام عباس ہے۔ جیسا کہ انچولی والوں کا دستور ہے، ایک نام کے دو یا زیادہ افراد ہوں تو ان کے نام بگاڑ یا سنوار دیتے ہیں۔ عباس بھائی باسسا ہوگئے۔ مجھے وجہ معلوم نہیں لیکن ہوسکتا ہے کہ ماتمی انجمن میں کسی نے یہ نام رکھا ہو۔ یا حسینا یا عباسا پر ماتم کرتے کرتے اس کا خیال آیا ہو۔

میں ہائی اسکول میں تھا جب باسسا فٹبال ٹیبل گیم لے کر آئے۔ وہ انھوں نے شاہ جی کی دکان کے سامنے رکھا۔ پانچ گولز کے گیم کی فیس غالباََ ایک یا دو روپے تھی جو ہارنے والی ٹیم کو ادا کرنا پڑتی تھی۔

جس محلے کی میں بات کررہا ہوں، اس میں انور شاہ جی مشہور تھے۔ شاید اس لیے کہ دوسرے انور بھائی حاجی کہلاتے تھے۔ وہی انور حاجی جو ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر ایم پی اے بنے۔ اتفاق یہ ہوا کہ انور حاجی اور انور شاہ جی دونوں دس پندرہ سال کے وقفے سے امریکا آگئے۔ انور شاہ جی کے چھوٹے بھائی کامی باس، باسسا کے چھوٹے بھائی نیر اور آصف جعفری، ہم قریبی دوست ہیں اور ہم نے بہت وقت ساتھ گزارا۔ جب تک شباہت حسین باہر نہیں گیا تھا، وہ بھی ساتھ ہوتا تھا۔ ہم خیال ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ایم کیو ایم کے گڑھ میں ہم پیپلز پارٹی کے سپورٹر تھے۔ میں کسی تحریر میں انور شاہ جی کا وہ جملہ لکھ چکا ہوں کہ جب کسی نے آواز لگائی، نعرہ مہاجر تو انھوں نے کہا، ہاں ہاں نہ رہے مہاجر۔

ان انور شاہ جی اور کامی باس کے والد کو بڑے شاہ جی کہا جانے لگا۔ وہ پرانے زمانے کے پڑھے لکھے اور وضع دار آدمی تھے۔ بہت عرصہ کسی عرب ملک کے بینک میں کام کیا۔ پھر واپس آکر ایک دو کاروبار سیٹ کرلیے۔ مصروف رہنے کے لیے ایک چھوٹا سا جنرل اسٹور کھول لیا جس میں شام کو کچھ وقت گزارتے تھے۔ باقی وقت کے لیے ایک لڑکا ملازم رکھ لیا۔ وہ لڑکا بعد میں انچولی کا مشہور موذن، نوحہ خواں اور زیارات گروپ کاروان آل عمران کا منتظم بنا۔ ان کا نام عمران عباس ہے لیکن ہم سب انھیں منے بھائی کہا کرتے تھے۔ شاہ جی کی دکان بھی منے بھائی کی دکان کے نام سے مشہور تھی۔

اس دکان سے بجلی کا تار لے کر باسسا نے ایک بلب لگالیا۔ یوں رات کو دس بجے تک وہ فٹبال ٹیبل گیم چلتا رہتا۔ شرطیں بھی لگتیں۔ مجھے اس کھیل کی لت لگ گئی۔ میں بہت سے کاموں میں اناڑی ہوں۔ لیکن اس فٹبال گیم میں میرے ہاتھ خوب چلتے تھے۔ کئی پارٹنرز بدلنے کے بعد پرویز بھائی کے ساتھ جوڑی جم گئی۔ یہ نوبت آئی کہ لوگ ہمارا سامنا کرنے سے گھبرانے لگے۔ کئی بار ہم دوسرے علاقوں میں بھی کھیلنے گئے اور جیت کر آئے۔

ان پرویز بھائی کا اصل نام اقبال امام ہے۔ انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی اور پاکستان کی طرف سے کھیلتے کھیلتے رہ گئے۔ لیفٹ ہینڈ بیٹسمین اور آف بریک بولر تھے۔ انگلینڈ جاکر کلب کرکٹ کھیلی۔ پھر کوچنگ کورسز کرکے مختلف فرسٹ کلاس ٹیموں کی کوچنگ میں لگ گئے۔

ایک وقت آیا کہ فٹبال ٹیبل گیم میں لوگوں کی دلچسپی کم ہونے لگی اور کراچی کے گلی محلوں میں ایک اور کھیل مقبول ہونے لگا۔ کیرم جیسا یہ کھیل اس سے دو گنا اور بعض اوقات تین گنا بڑے بورڈ پر کھیلا جاتا ہے۔ اسٹرائیکر بھی بڑا ہوتا ہے۔ ایک کے بجائے تین کوئنز ہوتی ہیں۔ ان کوئنز کو ڈبو کہا جاتا ہے اور یہی اس کھیل کا بھی نام ہے۔

باسسا نے سامنے کی ایک دکان کرائے پر لی اور ایک ڈبو لاکر اس میں رکھ دیا۔ یہ گیم فٹبال ٹیبل سے بھی زیادہ چل نکلا۔ ہر وقت اس پر رش رہنے لگا۔ فٹبال گیم بچے یا نوجوان کھیلنے آتے تھے۔ ڈبو کے لیے ادھیڑ عمر اور بزرگ بھی آنے لگے۔ ان میں شانے بھائی، ظریف ماموں اور شبیر خالو شامل تھے۔ انور حاجی اور ان کے بھائی انجم چئیرمین بھی آتے تھے۔ اظہر بھائی بھی، جو بعد میں حبیب بینک چھوڑ کر سنگاپور چلے گئے اور ان کا بیٹا اس کی کرکٹ ٹیم کی طرف کھیلا۔ ایک اور اظہر بھائی مرچنٹ نیوی میں تھے۔ جن دنوں وہ کھیلنے آتے تو سارا دن کھیلتے رہتے۔

امروہے کی ایک بالے سادات بھائی بھی مہینوں میں کبھی ایک بار آجاتے تھے۔ سب انھیں سادات "پادری" کہتے تھے۔ ان کے کزن اور اقبال امام کے چچا سفیر امام بھی آتے، جنھیں سب پتو بھائی کہتے تھے۔ ایک بار وہ ڈبو کھیل رہے تھے کہ "خوشبو" سی پھیل گئی۔ سب ناک پکڑ کر باہر نکلے۔ شباہت حسین نے کہا، انڈا گھوٹالا کھا کر آئے ہیں کیا؟ اس پر قہقہوں کا طوفان اٹھا۔

یاروں نے ڈبو کی اپنی ٹرمنالوجی بنائی اور بہت سے ذومعنی لفظ اور جملے ایجاد کیے۔ اندر ڈال دو، پیچھے سے لے لو اور اوپر بٹھا دو عام مشورے تھے۔ لائن سے پیچھے کی پیس کو شانے بھائی یہ نہیں کہتے تھے کہ ہاتھ کی پیس پاکٹ کردو۔ اس کے بجائے کہتے، ہاتھی کی لے لو۔ ایک نوجوان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ اسے ڈبو پر دیکھ کر شانے بھائی نے جملہ کسا، میاں، کیا پیس پاکٹ کرنے کی پریکٹس کرنے آئے ہو؟ سامنے ڈبو مس ہوجاتا تو آواز آتی، ہائے ہائے جوان موت ہوگئی۔ ایک بار کسی نے مشکل کٹ پر پیس پھینکی تو شبیر خالو بولے، کیا نرگسی کٹ لگایا ہے۔

شبیر خالو بہاری تھے۔ ان کے تینوں بیٹے باصلاحیت کرکٹر تھے۔ شکیل نقوی بہت اچھے بیٹسمین اور وکٹ کیپر تھے۔ وہ بعد میں ایم کیو ایم کی جانب سے کونسلر بنے۔ پھر اسد نقوی تھے جو پاکستان میں رہتے تو شاید بڑی کرکٹ کھیل جاتے۔ ایک بار رمضان کپ میں ان کی ٹیم کو آخری اوور میں اٹھارہ رنز درکار تھے تو انھوں نے تین گیندوں پر تین چھکے لگاکر میچ جیت لیا تھا۔ وہ 1992 میں جرمنی چلے گئے اور اسی کو وطن بنالیا۔ ان کے بعد علی رضا کا نمبر ہے جسے ہم دوست بابو کہتے ہیں۔ وہ لیفٹ آرم فاسٹ بولر تھا جو فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلا۔ اس کے پاس پیس اور سوئنگ دونوں تھے لیکن سخت مقابلے کا دور تھا، قومی ٹیم تک نہیں پہنچ سکا۔

شبیر خالو کو میں نے کبھی کرکٹ گراونڈ میں نہیں دیکھا لیکن ڈبو انھیں اتنا پسند آیا کہ ہم جیسے لڑکوں کے ساتھ کھیلتے رہتے۔ ایک دن وہ کاپی قلم لے کر آئے اور کھلاڑیوں کے نام لکھنے لگے۔ میں نے پوچھا، کیا ارادہ ہے خالو؟ انھوں نے کہا کہ ڈبو کا ٹورنامنٹ کروائیں گے۔ کھیلو گے؟ یہ آئیڈیا سب کو پسند آیا اور پھر کئی ٹورنامنٹس کروائے گئے۔

Check Also

Aqliaton Ke Naam Par Sharab Noshi

By Muhammad Riaz