Sach Se Gurez
سچ سے گریز

انسانی ذہن کے بارے میں ایک دیرینہ خوش فہمی یہ رہی ہے کہ وہ بنیادی طور پر سچ، انصاف اور حقیقت کی جستجو کے لیے بنا ہے۔ مگر نفسیات، سماجی علوم اور فلسفۂ علم کی جدید بحثیں بتاتی ہیں کہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ انسانی ذہن اپنی ساخت اور ارتقائی پس منظر کے اعتبار سے سب سے پہلے بقا، تعلق اور سماجی قبولیت کا خواہاں ہے، سچائی کی تلاش اکثر اس کے بعد آتی ہے۔ اسی لیے بیشتر مواقع پر انسان تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر موقف اختیار نہیں کرتا بلکہ اُن بیانیوں اور تعبیرات کو اختیار کر لیتا ہے جو پہلے سے سماج میں رائج ہوں اور جنہیں قبول کرنے سے اس کی سماجی حیثیت اور تعلقات متاثر نہ ہوں۔
یہ مسئلہ محض لاعلمی یا تعلیم کی کمی کا نہیں بلکہ ذہنی ساخت کا بھی ہے۔ انسانی دماغ میں موجود ادراکی تعصبات (cognitive biases) اکثر فرد کو اس طرف مائل کرتے ہیں کہ وہ وہی معلومات قبول کرے جو اس کے پہلے سے موجود اعتقادات یا رجحانات کی توثیق کریں، جبکہ متضاد شواہد کو غیر اہم یا مشکوک سمجھ کر نظرانداز کر دیا جائے۔ اس طرح تحقیق کا عمل غیر محسوس طور پر ایک تصدیقی جستجو میں بدل جاتا ہے، جہاں مقصد حقیقت تک پہنچنا نہیں بلکہ پہلے سے قائم رائے کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ماحول یعنی سماجی فضا بھی اپنی طاقت رکھتی ہے۔ فرد بخوبی جانتا ہے کہ بعض خیالات سے اختلاف صرف فکری اختلاف نہیں رہتا بلکہ اس کے نتیجے میں سماجی فاصلہ، بدگمانی یا تعلقات میں دراڑ بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اپنے شکوک یا سوالات کو دل میں رکھ کر عمومی رجحان کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طرح ایک رائج تصور یا بیانیہ بتدریج ایک ایسی اجتماعی رائے کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس کے سامنے انفرادی استدلال اکثر کمزور پڑ جاتا ہے۔
اسی تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ انسان ہمیشہ سچ اور انصاف کی اصل ماہیت کو دریافت کرنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ زیادہ تر اس بات پر متفق ہونے کی کوشش کرتا ہے کہ سچ اور انصاف کو کس زاویے سے سمجھا جائے۔ جب کوئی تعبیر یا بیانیہ معاشرتی سطح پر مضبوط ہو جائے تو اس کے خلاف سوچنا فکری عمل تو ہوتا ہی ہے لیکن ایک طرح کی بغاوت بھی تصور کی جاتی ہے۔
مزید یہ کہ انسانی فیصلے ہمیشہ منطقی استدلال کے تابع نہیں ہوتے۔ تعلق، وابستگی، پسندیدگی، مفادات اور جمالیاتی کشش جیسے عوامل بھی خیالات کو تشکیل دیتے ہیں۔ انسان اکثر دلیل سے کم اور تعلق کی خواہش سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ کسی گروہ، شخصیت یا نظریے کے ساتھ جذباتی وابستگی پیدا ہو جائے تو عقل اکثر اس وابستگی کے دفاع میں دلائل تلاش کرنے لگتی ہے، بجائے اس کے کہ وہ اس کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے۔
یوں سچ کی تلاش ایک خالص فکری سرگرمی نہیں رہتی بلکہ ایک نفسیاتی اور سماجی عمل بن جاتی ہے۔ انسان کا ذہن کسی نظریے کو قبول کرنے سے پہلے یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس کے نتیجے میں اس کی سماجی جگہ کہاں قائم رہے گی اور اس کے تعلقات کس سمت جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیق اور شواہد کے باوجود بہت سی سچائیاں دیر سے تسلیم کی جاتی ہیں، جبکہ بعض عقائد محض سماجی اتفاق اور روایت کی قوت سے طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔
چنانچہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ انسان سچ کو نہیں جانتا، بلکہ یہ بھی ہے کہ بہت سے مواقع پر وہ سچ کو جاننے کے باوجود اس کے ساتھ کھڑا ہونے کی قیمت ادا کرنے سے گریز کرتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی ذہن کی بنیادی کشمکش نمایاں ہوتی ہے، ایک طرف حقیقت کی جستجو اور دوسری طرف تعلق، قبولیت اور سماجی ہم آہنگی کی ضرورت۔

