Tuesday, 17 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nasir Abbas Nayyar
  4. Ghalib Ke Dewan Ka Pehla Shair Aur Faryad

Ghalib Ke Dewan Ka Pehla Shair Aur Faryad

غالب کے دیوان کا پہلا شعر اور فریاد

غالب نے اپنے دیوان کا آغاز شکر سے نہیں، فریاد اور شکوے سے کیا ہے۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہ شکو ے اور فریاد کو، انسانی وجود کی حقیقت کے اظہار کا سب سے مستند وسیلہ خیال کرتے محسوس ہوتے ہیں۔

غالب نے یہ غزل 1816ء میں، جب وہ محض انیس برس کے تھے، لکھی تھی۔۔ ان دنوں غالب بیدل و اسیر سے ضرور متاثر تھے اور مضامینِ خیالی لکھا کرتے تھے، مگر ان کے مضامینِ خیالی میں انسانی ہستی، خدا، کائنات، بقاو فنا، مقصد ومدعا وغیرہ سے متعلق غیر معمولی بصیرتیں ظاہر ہوئی ہیں۔

کہنے کا مقصود یہ ہے کہ ان کے مضامینِ خیالی، خالی یعنی hollow نہیں تھے۔ دیوان کا پہلا شعر اس کی سب سے اہم مثال ہے:

نقش، فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکرِ تصویر کا

یہ شعر، صرف غالب کے تصورِ فریاد ہی کو پیش نہیں کرتا، اردو میں فریاد کا ایک یکسر نیا تصور بھی متعارف کرواتا ہے اور بعد میں جسے غالب دیگر پیرایوں میں ظاہر کرتے ہیں۔

اس شعر کی شرح میں شارحین نے بہت قلم گھسایا ہے۔ کچھ کام کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ یہ اعتراض تو اب رفع ہوچکا ہے کہ اس شعر میں کاغذ پہن کر، فریاد کرنے کی جس ایرانی روش کا ذکر ہے، وہ موجود نہیں تھی۔ حالاں کہ اس روش کے موجود ہونے یا نہ ہونے سے شعر کے معانی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

شاعری تاریخی حقائق کو نہیں، انسانی ہستی کے معارف کو پیش کرتی ہے اور وہ بھی زبان کے مجازی واستعاراتی استعمال سے۔

اس شعر کا اہم نکتہ یہ ہے کہ ہر نقش، فریادی ہے اور اس کا فریادی ہونا، اس کی حالت، یعنی کاغذی لباس ہی سے ظاہر ہے۔ نقش، زبانِ حال سے فریاد نہیں کررہا، اپنے ہونے کی حالت ہی میں وہ فریادی ہے۔

خود غالب نے اس کی شرح میں لکھا ہے کہ "نقش کس کی شوخی تحریر کا فریادی ہے کہ جو صورتِ تصویر ہے، اس کا پیرہن کاغذی ہے، یعنی ہستی اگرچہ مثل تصاویر اعتبار محض ہو، موجب رنج و آزار ہے"۔ یعنی ہستی کا ہونا ہی موجبِ رنج وآزار ہے اور یہی اس کے فریاد ی ہونے کی دلیل ہے۔

اس شعر کی سب سے عمدہ شرح نیّر مسعود نے کی ہے۔ لکھتے ہیں کہ" کاغذی پیرہن، بہ یک وقت علت بھی ہے اور معلول بھی۔ یعنی اگر سوال کیا جائے کہ تصویر کا پیرہن کاغذی کیوں ہے تو جواب ہوگا کہ: اس لیے کہ تصویر کا پیرہن کاغذی ہے (اس کی زندگی فنا پذیر ہے)۔ گویا جو سوال ہے، وہی جواب ہے۔ جو سبب ہے، وہی نتیجہ ہے، جو مایہءفریاد ہے، وہی پیرایہء فریاد ہے"۔

صاف لفظوں میں چوں کہ آدمی کاغذ پر نقش کی مانند ہے، کمزور اور فنا پذیر ہے، اس لیے وہ فریادی ہے۔ وہ کسی ایک وجہ سے نہیں، خود اپنے ہونے کے تمام اسباب ہی کے سبب، فریادی ہے۔ غالب نے اگرچہ استفہامیہ کلمہ کس، استعمال کیا ہے، مگر یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ نقش، اپنے مصنف و خالق ہی سے فریاد کررہا ہے۔

شمس الرحمٰن فاروقی نے، اس شعر کی شرح کرتے ہوئے، میر کا یہ شعر درج کیا ہے۔

کوئی ہو محرمِ شوخی ترا تو میں پوچھوں
کہ بزم عیش جہاں کیا سمجھ کے برہم کی

اور لکھا ہے کہ "لفظ شوخی کو دیکھ کر گمان گزرتا ہے کہ میر کا یہ شعر غالب کے ذہن میں رہا ہوگا، لیکن خالق کائنات کی شوخی کا مضمون اور اس پر طرہ یہ کہ اس شوخی کو موضوع سوال بنانا اور ایسے شعر کو سرِ دیوان رکھنا، یہ شوخی، غالب ہی سے ممکن تھی"۔

میر کا شعر بلاشبہ معمولی نہیں ہے، لیکن غالب کا شعر عظیم ہے۔

شعر میں عظمت، بہ یک وقت اسلوب، لہجے اور مضمون ومعنی سے پیدا ہوتی ہے۔

میر کے شعر کے لہجے میں بھی طنطنہ ہے، جو انسانی دنیا کا استغاثہ، خالق کے آگے رکھنے سے پیدا ہوا ہے اور بزمِ عیشِ جہاں کے برہم کرنے کی منطق پر باقاعدہ سوال بھی موجود ہے، جب کہ غالب کے شعر میں جہاں نقش، شوخیِ تحریر، کاغذی پیرہن اور پیکر تصویر کے باہمی معنوی تلازمات کو پیش کیا گیا ہے، وہاں غالب نے فریاد کے لہجے کو پرشکوہ بنایا ہے اور یہ عالم میں گونجتا محسوس ہوتا ہے۔

یعنی فریاد کو تمام مخلوقات کا، خالق کے آگے استغاثہ بنا کر پیش کیا ہے۔

یہ کہ فریاد، مخلوق کا حق ہے اور فریا دکے ذریعے، مخلوق اپنا مستند اظہار کرتی ہے، اسے غالب نے ایک اور شعر میں قدرے وضاحت سے پیش کیا ہے:

کچھ تو دے اے فلکِ ناانصاف
آہ و نالہ کی رخصت ہی سہی

گویا اگر فلک، انصاف نہیں دیتا تو کم از کم اسے آہ ونالہ کی اجازت تو دینی چاہیے۔

انسان کے لیے یہ اجازت بھی معمولی نہیں۔ کچھ صورتوں میں آہ ونالہ، زندہ ہونے کی سب سے بڑی علامت اور ضرورت بن جایا کرتے ہیں۔

اسی خیال کو بعد میں اقبال نے پیش کیا:

اثر کرے نہ کرے، سن تو مری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب، یہ بندہ آزاد

دل چسپ بات یہ ہے کہ اقبال نے اسی غزل میں، ایک اور شکوہ بھی کیا ہے۔ یہ شکوہ اسی قسم کا ہے جو ہمیں غالب کے یہاں جابجا ملتا ہے۔ اقبال کا شعر دیکھیے:

یہ مشت خاک، یہ صرصر، یہ وسعتِ افلاک
کرم ہے یا کہ ستم، تیری لذتِ ایجاد

(اپنی نئی زیر تصنیف تنقیدی کتاب کے ایک مضمون "فریاد کی کوئی لے نہیں نہیں ہے" سے مقتبس)

Check Also

Ameerica Mein Gas Stations Aur Qeemton Ka Taayun

By Mubashir Ali Zaidi