Tuesday, 17 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Fitrana Dena Kyun Zaroori Hai?

Fitrana Dena Kyun Zaroori Hai?

فطرانہ دینا کیوں ضروری ہے؟

فطرانہ رمضان کے آخری دن یا عید سے پہلے دینا ایک اہم عبادت ہے۔ یہ صرف صدقہ نہیں بلکہ ایک روحانی اور سماجی فریضہ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ محتاج، غریب اور ضرورت مند بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوں۔ فطرانہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ آسانیاں صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی ہونی چاہئیں۔

فطرانہ کے حقدار کون لوگ ہیں؟ وہ لوگ ہیں جو مالی طور پر کمزور ہیں۔ یعنی غریب اور محتاج افراد، یتیم اور بے سہارا بچے، رشتہ دار جو مدد کے محتاج ہیں اور کوئی بھی شخص جو عید کے دن اپنی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتا۔ یاد رکھیں کہ فطرانہ صرف عطیہ نہیں بلکہ ان کے حق کا حصہ ہے جو لوگ اپنی ضرورت پوری کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ فطرانہ غریبوں کا حق ہے اور عید کی خوشی کو مکمل کرنے کا لازمی حصہ ہے۔ اسے ادا نہ کرنے سے عید کی عبادت بھی مکمل نہیں ہوتی۔ فطرانہ نقدی یعنی رقم یا کھانے کی صورت میں دیا جا سکتا ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ عید کے دن کوئی بھوکا یا پریشان نہ رہے۔

فطرانہ دینے سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے، دل کی صفائی اور سخاوت بڑھتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں اور عید کی حقیقی خوشی میں دوسروں کو شامل کرنا ضروری ہے۔

قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: "وَآتُوا الزَّكَاةَ مِنُ أَمُوَالِكُمُ لِتُطَهِّرُوهَا وَتُزَكُّوهَا" (سورہ البقرہ، آیت 267)

ترجمہ: "اور اپنے مال میں سے زکوٰۃ دو تاکہ اسے پاک کرو اور اپنی روح بھی پاک ہو"۔

یہ فطرانے کی روح اور مقصد کی یاد دہانی ہے کہ فطرانہ دل کی صفائی اور دوسروں کی مدد کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالی ہمیں فطرانہ ادا کرنے اور اس کے حقداروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

Check Also

Ameerica Mein Gas Stations Aur Qeemton Ka Taayun

By Mubashir Ali Zaidi