Tuesday, 17 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. America Ghair Sanjeeda Kiradon Ke Zair e Tasalut

America Ghair Sanjeeda Kiradon Ke Zair e Tasalut

امریکا غیر سنجیدہ کرداروں کے زیر تسلط

امریکا کے مشہور و معروف کردار ڈونلڈ ٹرمپ سے ملیے۔ قد چھ فٹ تین انچ، عمر اٹھہتر برس، نسلی شجرہ جرمن، مذہب پروٹسٹنٹ، تعلیم پینسلوینیا یونیورسٹی سے گریجوئیٹ۔ معاشقوں کی تعداد اتنی کہ اگر الگ رجسٹر کھولا جائے تو ایک چھوٹا سا محکمہ قائم کرنا پڑ جائے۔ شادیاں تین، طلاقیں دو، بچے پانچ اور پوتے پوتیاں و نواسے نواسیاں ملا کر سات۔ دولت کا اندازہ تقریباً چھ ارب ڈالر لگایا جاتا ہے۔ کھانے پینے کے بے حد شوقین ہیں اور ٹی وی اسکرین پر بھی خوب جلوہ گر رہے۔ خاص طور پر امریکی ٹی وی شو The Apprentice میں بارہ برس تک لوگوں کو "Youre Fired" کہہ کر نوکریوں سے نکالنے کا شوق پورا کیا۔

ٹرمپ کی شہرت کی بنیاد ان کا ذاتی کمال کم اور خاندانی وراثت زیادہ ہے۔ ان کے والد نے رئیل اسٹیٹ کا ایسا کاروبار کھڑا کیا تھا جس پر بیٹھ کر بیٹے نے کاروبار کے کئی اور شعبوں میں بھی ہاتھ آزما لیا۔ کبھی ہوٹل، کبھی کیسینو، کبھی ماڈلنگ ایجنسی۔ حتیٰ کہ ان کے ادارے ٹرمپ ماڈل مینجمنٹ کے تحت مِس یونیورس اور مِس یو ایس اے جیسے مقابلے بھی منعقد ہوتے رہے۔ لیکن اصل سیاسی شہرت انہیں سنہ 2011 میں ملی جب انہوں نے اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما کی شہریت کو چیلنج کر دیا۔ ٹرمپ نے بڑے اعتماد سے اعلان کیا کہ اوباما امریکا میں پیدا ہی نہیں ہوئے۔ اوباما نے جب بڑے سکون سے ہوائی کی ریاست کا اپنا برتھ سرٹیفکیٹ پیش کر دیا تو ٹرمپ نے فوراً پینترا بدل کر کہا "یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ سرٹیفکیٹ اصلی نہ ہو!"

امریکی فوج کو کمانڈ کرنے والے سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے ملئیے۔ یہ فاکس نیوز پر پروگرام ہوسٹ کیا کرتے تھے۔ دی لائف آف جیسس نامی ڈاکومنٹری میں بھی کردار ادا کیا۔ علاوہ ازیں انٹرٹینمنٹ سے متعلقہ دیگر ٹی وی شوز میں اداکاری کے جوہر دکھاتے رہے۔ ایک فٹبال شو میں بھی جلوہ افروز ہوئے۔ پھر ٹرمپ کے ساتھ منسلک ہو گئے۔ ٹرمپ اقتدار میں آیا تو انہیں سیکرٹری دفاع لگا دیا۔ اب بھی ایسا لگتا ہے جیسے کسی ٹی وی شو کے میزبان کو غلطی سے پینٹاگون کی چابی تھما دی گئی ہو۔

ہیگسیتھ صاحب کی گفتگو سنیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جنگ کوئی پیچیدہ بین الاقوامی بحران نہیں بلکہ مزاحیہ ٹیلی ویژن شو ہو۔ کبھی وہ اعلان کرتے ہیں کہ دشمن کی کمر ٹوٹ چکی ہے، کبھی کہتے ہیں جنگ ابھی شروع ہوئی ہے اور کبھی فرماتے ہیں کہ اصل فیصلہ تو صدر ہی کریں گے کہ جنگ کہاں کھڑی ہے۔ گویا جنگ کوئی عسکری معاملہ نہیں بلکہ ٹی وی سیریز کی نئی قسط ہے جس کا اسکرپٹ ابھی لکھا جا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی حکومت کے اندر "فتح نامہ پہلے، حقیقت بعد میں" والا ماحول بن چکا ہے۔ یعنی پہلے یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ کامیابی کا اعلان کیسے کرنا ہے، پھر بعد میں دیکھا جاتا ہے کہ میدانِ جنگ میں واقعی کچھ ہوا بھی ہے یا نہیں۔ اس پورے عمل میں ہیگسیتھ صاحب کا کردار ایسا لگتا ہے جیسے کسی فلم کے ٹریلر کی ساؤنڈ ہو۔ "ہم جیت رہے ہیں۔۔ ہم بہت زیادہ جیت رہے ہیں۔۔ آپ یقین نہیں کریں گے کہ ہم کتنی جیت سے جیت رہے ہیں!"

پینٹاگون کی بریفنگ میں جب وہ جنگی صورتحال بیان کرتے ہیں تو سننے والا سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ یہ فوجی بریفنگ ہے یا کوئی اسپورٹس کمنٹری۔ انداز ایسا ہوتا ہے جیسے اگلے لمحے وہ کہیں گے "اور اب دوستو! دشمن کی زمینی دفاعی لائن ٹوٹ چکی ہے اور یہ رہا ایک اور حملہ اور یہ سیدھا گول پوسٹ میں!"

جے ڈی وینس امریکا کا نائب صدر ہے۔ اس سے زیادہ وہ "نیور ٹرمپ" سے "سر! جی سر!" تک کا شاندار سفر بھی ہے۔ امریکی سیاست میں اگر کسی کو "یو ٹرن" کا عالمی سرٹیفکیٹ دینا ہو تو یہ اعزاز جے ڈی وینس کے نام لکھا جائے گا۔ ایک زمانہ تھا جب وہ ٹرمپ کے بارے میں فرماتے تھے "میرے خدا! یہ کیا احمق آدمی ہے"۔ امریکی سیاست میں وفاداری کی تعریف بھی عجیب ہے۔ اگر آپ کل تک ٹرمپ کو یو ایس کی سب سے بڑی غلطی کہتے رہے ہوں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ آج آپ پوری عقیدت سے کہیں "سر! آپ ہی تو امریکا ہیں"۔

وینس کی کہانی بھی کسی ہالی ووڈ فلم سے کم نہیں۔ اوہائیو کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں والد صاحب غائب اور والدہ منشیات کے استعمال میں غرق۔ نتیجہ یہ کہ بچپن دادا دادی کے پاس گزرا۔ پھر ایک دن انہوں نے اپنی زندگی کی داستان لکھ دی یعنی سوانح حیات۔ نام تھا "Hillbilly Elegy"۔ کتاب میں انہوں نے اپنے ہی علاقے کے لوگوں کو ایسا آئینہ دکھایا کہ لوگ سوچنے لگے کہ یہ کتاب ہے یا اہل علاقہ کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ "ہل بلی" لوگ سست بھی ہیں، دنیا کے نکمے بھی اور اکثر حکومت کے خرچے پر پلنے والے بھی۔ مگر کتاب ہٹ ہوگئی۔

سنہ 2016 میں وینس صاحب باقاعدہ "نیور ٹرمپ" تحریک کے رکن تھے۔ وہ فرماتے تھے "میں کبھی ٹرمپ کا حامی نہیں بنوں گا"۔ پھر وقت گزرا، حالات بدلے اور وینس صاحب نے دریافت کیا کہ سیاست میں یادداشت بہت کمزور چیز ہوتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے معذرت کی، ٹرمپ کی ٹوپی پہنی اور سیدھے سینٹ پہنچ گئے۔ وینس کی کہانی دراصل امریکی سیاست کا خلاصہ ہے۔ کل تک آپ جس شخص کو احمق کہتے تھے، آج اسی کے نائب بن سکتے ہیں۔ کل تک جس نظریے کو برا کہتے تھے، آج اسی کی تبلیغ کرتے ہیں۔

اسٹیو وٹکوف ٹرمپ انتظامیہ کے نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ ہیں۔ واشنگٹن کی سیاست میں کبھی کبھی ایسے کردار بھی آ جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ سفارت کاری نہیں بلکہ پراپرٹی ڈیل ہو رہی ہے۔ وٹکاف پیشے کے لحاظ سے نیویارک کے رئیل اسٹیٹ ٹائیکون ہیں یعنی امریکا کے ملک ریاض ہیں۔ وِٹکوف صاحب کوئی روایتی سفارتکار نہیں۔ انہیں نہ خارجہ پالیسی کی کتابیں پڑھنے کا شوق ہے اور نہ اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کا تجربہ۔ مگر ایک خوبی ہے۔ ڈیل کرانا۔

پچھلی بارہ روزہ ایران اسرائیل جنگ میں آخری مرحلے میں تو وٹکوف نے سیدھا فون گھمایا نیتن یاہو کے دفتر۔ ادھر سے جواب آیا "سر، ابھی شبات ہے (یہودیوں کا مقدس دن) وزیراعظم کو ڈسٹرب نہیں کیا جا سکتا"۔ یہ سن کر وٹکوف صاحب نے وہی لہجہ اختیار کیا جو نیویارک کے بروکر استعمال کرتے ہیں۔ فرمایا "مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آج کون سا دن ہے، ڈیل ابھی فائنل کرو!"۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جس شبات میں فون اٹھانا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے، اسی شبات میں نیتن یاہونے فون بھی اٹھایا اور سیزفائر بھی ہوا۔ (سورس الجزیرہ کی رپورٹ)۔ خود ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وٹکوف مشرق وسطیٰ کے ماہر تو نہیں مگر "زبردست نیگوشی ایٹر" ہیں۔

یہ ممکن ہے کہ تاریخ چند سال بعد ٹرمپ دور کو دیکھ کر کہے کہ امریکا کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج تھی، جدید ترین ہتھیار تھے اور تگڑے اتحادی بھی۔ مگر اس کے ساتھ ایک ایسی ٹیم بھی تھی جس کو سرکس میں ہونا چاہئیے تھا۔

نوٹ: اس ٹیم کی پاکستان میں کسی سیاسی ٹیم سے مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔

Check Also

Mashriq e Wusta Dorahe Par

By Amer Abbas