Jazeera e Khaak Se Aage
جزیرۂ خرک سے آگے

جزیرۂ خرک پر امریکی حملے سے مشرق وسطیٰ میں جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ایران کے تقریباً سارے تیل کی برآمد کا یہ واحد ٹرمینل تھا۔ خرک پر امریکی حملے سے تیل کی تمام ایرانی برآمدات رک جائیں گی۔ ایرانی تیل کی چینی درآمدات اسی جزیرے سے ہوتی تھیں اور اس حملے کے بعد چین کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑیں گے۔ اب اس امر کا امکان بہت بڑھ گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تیل کی کوئی تنصیبات محفوظ نہیں رہ پائیں گی اور سارا علاقہ شعلوں کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ ایسا ہونا امریکی منصوبے کے عین مطابق ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری دفعہ صدر بنتے ہی جس ٹیرف جنگ کا آغاز کیا تھا، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے تب میں نے عرض کیا تھا کہ امریکی منصوبہ عالمی معاشی نظام کو منہدم کرکے ازسر نو بنانے کا ہے تاکہ اس کی تشکیل نو کے مراحل میں چین کو باہر رکھا جا سکے۔ انہدام کا کام منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ امریکی منصوبہ پورے مشرق وسطیٰ کو غزہ بنانے کا ہے اور اب ایسا ہوتا صاف دکھائی دے رہا ہے۔ عالمی معاشی اور سیاسی نظام جنگ عظیم دوم کے بعد امریکہ نے تعمیر کیا تھا اور اس کا اختیار و انصرام امریکہ کے پاس ہی چلا آتا ہے۔
چین نے اسی نظام میں شمولیت کے بعد اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ترقی کی اور طاقتور ملک بن سکا۔ عالمی طلب و رسد کی تمام گزرگاہیں امریکہ کی بنائی ہوئی تھیں اور چین نے ان سے فائدہ اٹھایا تھا۔ اب امریکہ ان سب کو ختم کر رہا ہے تاکہ چین کو زک پہنچائی جا سکے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ایسا کرنے سے خود امریکہ کو بھی سخت نقصان پہنچے گا کیونکہ اس نظام کا مالک وہ خود ہے اور یہ نظام اس کی اپنی طاقت اور خوشحالی کی بنیاد چلا آتا ہے اور پیٹرو ڈالر اس کی بڑی واضح مثال ہے۔ جبکہ چین اس نظام کا مفاد کشیدہ ملک اور اس پر منحصر ہے۔ اس طرح چین کو زیادہ بڑا نقصان پہنچے گا اور اس کی قوت کمزور ہوگی۔
اس وقت امریکی اور اسرائیلی عسکری طاقت کے مظاہر کو صرف اسی صورت میں سمجھا جا سکتا ہے اگر استعماری مہمات آدمی کی نگاہ میں ہوں جو گزشتہ چند صدیوں سے مکمل غارت گری اور لوٹ مار کی تاریخ ہے۔ اس میں محکوم قوموں کے ذہن کی مکمل لوٹ بھی شامل ہے۔ اس وقت ہمارے اہلِ دانش جنگ پر جو تبصرے فرما رہے ہیں اسی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ مسلم معاشروں میں تہذیبی اور سیاسی فکر کی صورت حال کیا ہے۔
میری رائے یہ ہے کہ امریکہ اپنے مسلم مال خانے (بھلے وہ تباہ شدہ ہی کیوں نہ ہو) پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے، عالمی معاشی نظام کو منہدم کرنے، مشرق وسطیٰ کو گز۔ ا بنانے اور چین کو عالمی معاشی نظام سے نکال باہر کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اس خرابات کو پھر سے کسی ایسے معاشی نظام کی شکل دینے میں کامیاب ہو جائے گا جو اس کا تابع ہو اور اس کی طاقت اور خوشحالی کی بنیاد فراہم کرتا ہو؟ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کیونکہ اس جنگ سے عالمی معاشی نظام کی تباہی کی مقدار کو دیکھ کر ہی کوئی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

