Ameerica Mein Gas Stations Aur Qeemton Ka Taayun
امریکہ میں گیس سٹیشنز اور قیمتوں کا تعین

پاکستان کے برعکس امریکا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں حکومت مقرر نہیں کرتی، نہ ہی تیل کمپنیاں طے کرتی ہیں۔ یہ فیصلہ ہر پیٹرول پمپ کا مالک خود کرتا ہے۔ پیٹرول پمپ کو یہاں گیس اسٹیشن کہتے ہیں۔ امریکا میں بیشتر گیس اسٹیشن تیل کمپنیوں کے نہیں بلکہ آزاد یا فرنچائز مالکان کے ہوتے ہیں۔
حکومت صرف ٹیکس اور کچھ قواعد طے کرتی ہے۔ تیل کمپنیاں عالمی مارکیٹ، ریفائنری کی قیمت، ٹرانسپورٹیشن اور اپنے اخراجات کو پیش نظر رکھ کر تھوک نرخ طے کرتی ہیں۔ پھر ہر اسٹیشن کا مالک اپنے گاہکوں اور منافع کو ذہن میں رکھ کر خوردہ قیمت لگاتا ہے۔ اس لیے ایک ہی شہر میں بلکہ ایک ہی سڑک پر آمنے سامنے ایک ہی کمپنی کے دو گیس اسٹیشنز پر مختلف قیمتیں ہوسکتی ہیں۔
ایک علاقے کے مختلف گیس اسٹیشنز کے نرخوں میں فرق تو ہوتا ہے لیکن بہت زیادہ نہیں کیونکہ مسابقت کا رجحان رہتا ہے۔ ایک گیلن پر گیس اسٹیشن کا منافع عموماً پانچ سے پندرہ سینٹ ہوتا ہے اس لیے وہ قیمت زیادہ بڑھا گھٹا نہیں سکتے۔
حقیقت یہ ہے کہ گیس اسٹیشن کی اصل کمائی پیٹرول سے نہیں بلکہ اس کے ساتھ موجود کنوینئنس اسٹور اور اگر کار واش ہو تو اس سے ہوتی ہے۔
امریکا میں مختلف ریاستوں میں بھی پیٹرول کی قیمت میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ریاستوں کے اپنے ٹیکس، ماحولیاتی قوانین اور سپلائی کا نظام ہے۔ کیلیفورنیا میں پیٹرول سب سے مہنگا ہوتا ہے۔ ٹیکساس میں سستا ملتا ہے کیونکہ تیل اور ریفائنریاں اس ریاست کے اندر ہیں اور ٹیکس کم ہیں۔ ٹیکساس میں جب قیمت ڈھائی ڈالر ہوتی ہے تو کیلیفورنیا میں ساڑھے چار ڈالر فی گیلن سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
بڑے شہروں مثلاََ واشنگٹن ڈی سی میں پیٹرول نواحی علاقوں سے ایک ڈیڑھ لٹر مہنگا ملتا ہے۔ ہائی وے کے قریبی اسٹیشن پر بھی پیٹرول مہنگا ہوتا ہے کیونکہ بعض اوقات دس پندرہ میل تک کوئی اور اسٹیشن نہیں ہوتا۔ ہائی وے ایگزٹ کے پاس زمین مہنگی ہوتی ہے اس لیے بھی اسٹیشن اپنی لاگت پوری کرنے کے لیے قیمت بڑھاتے ہیں۔
امریکا میں بڑے اسٹور مثلاََ وال مارٹ اور کوسٹکو کے بھی اپنے گیس اسٹیشن ہوتے ہیں جن پر تیل کمپنیوں کے اسٹیشنز کے مقابلے میں کافی سستا پیٹرول مل جاتا ہے۔ اس کی بھی وہی وجہ ہے کہ ان کی اصل آمدنی پیٹرول سے نہیں بلکہ اسٹور سے ہوتی ہے۔
امریکا میں اکثر گیس اسٹیشن پر آپ کو دو قیمتیں نظر آئیں گی۔ کیش پر پیٹرول کم اور کریڈٹ کارڈ پر دس بیس سینٹ فی گیلن مہنگا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ کریڈٹ کارڈ کمپنی کی فیس ہوتی ہے۔ گیس اسٹیشن اگر کریڈٹ کارڈ کی فیس خود برداشت کرے تو اس کا چند سینٹ کا منافع ختم ہوسکتا ہے۔ اسی لیے وہ کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے والوں سے کچھ زیادہ قیمت لے لیتے ہیں۔
بہت سے انڈین پاکستانی امریکا آکر پہلے گیس اسٹیشن پر کام کرتے ہیں اور محنت کرکے کچھ عرصے بعد اسٹور منیجر بن جاتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں وہی اسٹیشن یا کوئی اور اسٹیشن خرید لیتے ہیں۔
امریکا میں نیا گیس اسٹیشن بنانے کی لاگت بہت زیادہ ہے۔ اس کے لیے بیس سے پچاس لاکھ ڈالر تک خرچ آسکتا ہے۔ چلتا ہوا اسٹیشن نسبتا سستا مل جاتا ہے۔ اس کی قیمت دس سے تیس لاکھ ڈالر تک ہوسکتی ہے۔
جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، امریکا میں فی گیلن منافع پانچ سے پندرہ سینٹ فی گیلن ہوتا ہے۔ ایک اسٹیشن روزانہ چار ہزار گیلن پیٹرول بیچے تو ایک ماہ میں بارہ ہزار ڈالر کماسکتا ہے لیکن اس میں اخراجات پورے نہیں ہوتے۔ البتہ اسٹور کی سیلز سے منافع بہتر ہوجاتا ہے۔ ایک درمیانے سائز کے گیس اسٹیشن کی کل آمدنی تیس لاکھ سے ایک کروڑ ڈالر سالانہ ہوسکتی ہے جس میں اسی ہزار سے ڈھائی لاکھ ڈالر تک خالص منافع مل سکتا ہے۔
امریکا میں بہت سے لوگ بظاہر کم سرمائے سے پیٹرول پمپ اس لیے خرید لیتے ہیں کیونکہ وہ لون لے لیتے ہیں اور سارا پیسہ جیب سے نہیں لگانا پڑتا۔ امریکا میں اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن پروگرام یا بینک سے ستر سے نوے فیصد تک لون مل جاتا ہے۔ ایک پیٹرول پمپ کی قیمت پندرہ لاکھ ڈالر ہو تو ڈیڑھ لاکھ ڈالر دے کر کام شروع کیا جاسکتا ہے۔ بعض اوقات دو یا تین لوگ مل کر گیس اسٹیشن خریدتے ہیں جس یہ رقم اور کم ہوجاتی ہے۔

