Tuesday, 17 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Mashriq e Wusta Dorahe Par

Mashriq e Wusta Dorahe Par

مشرقِ وسطیٰ دوراہے پر

سنہ 1973 کی ایک شام عرب دنیا کے سیاسی افق پر ایک ایسا منظر ابھرا جس نے عالمی سیاست کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ عربوں کے ایک باوقار اور خاموش مزاج حکمران شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے مغربی طاقتوں کے سامنے ایک ایسا فیصلہ رکھ دیا جسے تاریخ "تیل کے ہتھیار" کے نام سے یاد کرتی ہے۔ عرب تیل کی فراہمی محدود کر دی گئی اور دنیا کو پہلی بار اندازہ ہوا کہ طاقت صرف اسلحے سے نہیں بلکہ سیاسی ارادے اور اقتصادی وسائل سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس فیصلے نے مغرب کو چونکا دیا اور عرب دنیا کو یہ احساس دلایا کہ اگر قیادت میں جرات اور حکمت ہو تو عالمی سیاست کے توازن کو بدلا جا سکتا ہے۔ مگر پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ اپنے وقت کا یہ دلیر حکمران عالمی استعمار کے ہاتھوں محلاتی سازشوں کے ہتھیار کی نذر ہوگیا۔

آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسی ہی ایک نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کو ایک خطرناک عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔ بیانات اور جوابی بیانات، عسکری دعوے اور ان کی تردید۔۔ یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اطلاعات اور بیانیے کے محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ امریکہ کی توقعات کے برخلاف ایران مزاحمت کی علامت بنا ہوا ہے۔ پریشان حال ڈونلڈ ٹرمپ کبھی یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم جنگ جیت چکے ہیں اور ایران کی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں مگر پھر اگلے ہی لمحے ایران کی جانب سے میزائل حملوں کی خبریں ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جدید جنگیں سادہ اور یک رخی نہیں ہوتیں۔ طاقتور ممالک کے پاس بے پناہ عسکری وسائل ہوتے ہیں مگر غیر روایتی حکمتِ عملی اور خطے کی جغرافیائی پیچیدگیاں بڑی قوتوں کے لیے مشکلات پیدا کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں میں بڑی فوجی طاقتیں بھی ایسے تنازعات میں الجھتی رہی ہیں جن کے نتائج ان کی توقعات سے مختلف نکلے۔

اس بحران کا ایک اہم پہلو عالمی اتحادوں کی بدلتی ہوئی نوعیت بھی ہے۔ سرد جنگ کے زمانے میں طاقتور ممالک کے ساتھ کھڑے ہونے والے اتحادی آج زیادہ محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ یورپ کے ممالک اپنے مفادات اور داخلی دباؤ کو دیکھتے ہوئے ہر عسکری مہم کا حصہ بننے سے پہلے کئی بار سوچتے ہیں۔ گزشتہ برسوں کے تجربات نے انہیں یہ سبق دیا ہے کہ ہر جنگ کا بوجھ صرف عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی بھی ہوتا ہے۔

اسی دوران خطے کے کئی ممالک سفارتی سطح پر متحرک نظر آتے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکی جیسے ممالک اپنی اپنی سطح پر کشیدگی کم کرنے یا کم از کم اس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی آگ اگر پھیل گئی تو اس کی لپیٹ میں پورا خطہ آ سکتا ہے۔

ایسے ماحول میں پاکستان کی پوزیشن بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ واحد اسلامی ایٹمی طاقت پاکستان ایک طرف خلیجی ریاستوں کے ساتھ قریبی دفاعی اور معاشی تعلقات رکھتا ہے تو دوسری طرف ایران کے ساتھ ایک طویل سرحد اور سفارتی روابط بھی موجود ہیں۔ یہی توازن اسے ایک ایسا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو براہِ راست جنگ میں شریک ہوئے بغیر خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اب تک پاکستان کی پالیسی کا جھکاؤ اسی محتاط اور متوازن سفارت کاری کی طرف نظر آتا ہے۔

تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اصل تبدیلی صرف عسکری قوت سے نہیں آتی بلکہ سیاسی بصیرت اور اخلاقی جرات سے آتی ہے۔ اسی لیے بعض حلقوں میں یہ احساس ابھر رہا ہے کہ عرب دنیا کو ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اختلافات سے بلند ہو کر خطے کے وسیع تر مفاد کو دیکھ سکے۔ ایک ایسی قیادت جس میں کبھی شاہ فیصل بن عبدالعزیز جیسی بصیرت اور جرات نظر آئی تھی۔

مگر تاریخ کے یہ لمحات خود بخود پیدا نہیں ہوتے۔ انہیں کردار، حکمت اور اجتماعی شعور سے جنم دینا پڑتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ آج جس دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں ایک غلط قدم پورے خطے کو تباہی کی طرف لے جا سکتا ہے اور ایک دانشمندانہ فیصلہ اسے استحکام اور خود اعتمادی کی نئی راہ دکھا سکتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب خطے کی قیادت کو طے کرنا ہوگا کہ وہ جنگ کے شور میں گم ہونا چاہتی ہے یا تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کرنا چاہتی ہے۔

Check Also

America Ghair Sanjeeda Kiradon Ke Zair e Tasalut

By Syed Mehdi Bukhari