Tuesday, 17 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehran Khan
  4. Clinical Depression

Clinical Depression

کلینیکل ڈپریشن

بظاہر سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے، زندگی میں کہیں پر بھی کوئی واضح اور بڑا مسئلہ نہیں ہوتا لیکن پھر بھی آپ کے اردگرد واقع ہونے والی ہر چھوٹی بڑی بات سے، ہر چھوٹی بڑی چیز سے آپ کو مسئلہ ہونے والا لگتا ہے۔ آپ دوستوں کی محفل میں بیٹھتے ہیں لیکن آپ وہاں پر خود کو مس فٹ پاتے ہیں جیسے آپ کے دوست آپ سے بہت دور نکل گئے ہوں۔ وہ آپ کے لئے اور آپ ان کے لئے بیگانے سے ہوجاتے ہیں اگر چہ آپ روانہ ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔

آپ کسی بھی چیز پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتے حتی کہ کسی بھی چیز کو اختتام تک پہنچانا آپ کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔ آپ کتاب شروع کرکے بیچ میں چھوڑ دیتے ہیں، دو گھنٹے کی فلم آپ دو ہفتوں میں پوری نہیں کر پاتے، سپورٹس سے آپ دور ہوجاتے ہیں، جم میں وزن اٹھانا پہاڑ اٹھانے کے مترادف ہو جاتا ہے۔ الغرض ہر چیز میں آپ کی دلچسپی ختم ہو جاتی ہے، آپ چلنا پھرنا اور گھومنا تک چھوڑ دیتے ہیں۔ کوئی چیز بہ مشکل آپ کو متاثر کر جائے تو اگلے لمحے وہ بے معنویت کے خلا میں کہیں کھو جاتی ہے۔

آپ کو اپنا آپ، اپنی زندگی اور اپنا سب کچھ بے معنی لگنے لگتا ہے۔ بے معنویت کے اس احساس سے آپ کے اندر بیزاری جنم لے لیتی ہے، آپ رشتوں سے بیزار ہوجاتے ہیں، آپ خود سے بیزار ہوجاتے ہیں، کھانا پینا، سانس لینا اور حتی کہ بستر سے اٹھنا بھی آپ کو دنیا کا مشکل ترین کام لگتا ہے۔ آپ کی نیند کا توازن بگڑ جاتا ہے آپ یا تو مسلسل جاگتے رہتے ہیں اور یا مسلسل سوتے رہتے ہیں۔ آپ کا جاگنا آپ کے لئے عذاب سے کم نہیں ہوتا اور آپ کو مسلسل سوتے رہنا دنیا کا فضول ترین کام لگتا ہے۔ آپ جاگ کے جہاں بھر کی بے چینیوں سے لڑتے ہیں اور سوکے بھی آپ کو سکون نہیں ملتا، کیوں کہ آپ نیند میں بھی خود کو اداس، بیزار اور الجھا ہوا پاتے ہیں۔ خود سے آپ اتنے دور ہوجاتے ہیں کہ آپنی ذمہ داریاں آپ کسی کے بار بار یاد کروانے پر بھی نبھا نہیں پاتے یا بہ مشکل نبھاتے ہیں۔

مذہب کو آپ پیدائشی جبر تصور کرنے لگتے ہیں اور خدا کی حیثیت آپ کے لئے نفسیاتی ضرورت سے زیادہ کچھ نہیں رہتی جو بے معنویت کے اس پاتال میں کہیں کھو جاتی ہے۔ آپ خود کو نہ خود سے اور نہ خدا سے جوڑ پاتے ہیں۔ خدا کی خلا کو بھرنے کی آپ نہ کوشش کرتے ہیں اور نہ آپ کے لئے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آپ وہ خلا بھر سکے۔ روزانہ آپ خود کو ایک کمرے میں قید پاتے ہیں جس کی چابیاں کہیں کھو گئی ہو اور اندھیرے میں مختلف ہیولے آپ کو مسلسل ڈرا رہے ہو اور آپ گلہ پھاڑ کے چیخ رہے ہو لیکن آپ پر جاگتے ہوئے بھی sleep paralysis والی کیفیت طاری ہوتی ہے، آپ کی چیخیں نہ کسی تک پہنچتی ہے اور نہ کسی کو ان چیخوں کو سننے کی فرصت ہوتی ہے۔

آپ کا دماغ بس منفی ہی سوچنے لگتا ہے اور آپ چیزوں کو generalize کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات پر لیتے ہیں جیسے آپ سب سے کمتر ہے، آپ کچھ بھی نہیں کرسکتے، آپ سب پر بوجھ ہے، کسی پر اگر آپ بوجھ نہیں تو اس لئے نہیں کہ وہ آپ کا کسی نہ کسی طرح سے استحصال کرنا چاہتا ہے، وہ آپ کے احساسات کو روند کے آپ سے بس اپنی مطلب نکالنا چاہتا ہے۔ الغرض آپ کی سوچ مکمل distort ہوجاتی ہے۔

ایسے میں اگر آپ چار و ناچار کسی امتحان میں بیٹھتے ہیں یا آپ پر کوئی آزمائش آجائے تو وہ آپ کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتی ہے، آپ کو لگتا ہے کہ اگر میں ناکام ہوگیا یا میں نے یہ کام نہیں کیا تو دنیا ختم اور قصہ تمام!

آپ اتنے مایوس اور نا اُمید ہوجاتے ہیں کہ زندگی تک جانے والے تمام راستے آپ کے لئے مسدود ہوجاتے ہیں اور آپ سنجیدگی سے خودکشی پر غور کرنے لگتے ہیں۔ اکثر آپ چاہ کے وہ بھی نہیں کر پاتے لیکن مسلسل خیالوں میں خود کو نت نئے طریقوں سے مار کر آپ خود کو تسکین پہنچاتے ہیں۔ آپ ایسی حالت میں دنیا کے سب سے اکیلے انسان کا روپ دھار لیتے ہیں جسے نہ کوئی سمجھتا ہے، نہ سنتا ہے، نہ گلے لگاتا ہے اور جس کے ہونے نہ ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔

نتیجتاً آپ سائکاٹرسٹ کے پاس جاتے ہیں تو آپ کو یہ کہہ کر anti depressents پر ٹرخایا جاتا ہیں کہ فی الحال آپ کے دماغ میں کیمیکلز کا توازن بگڑ گیا ہے وہ ٹھیک ہو جائے تو تھراپی سے مزید بہتری آ جائے گی لیکن آپ نے ہمت سے کام لینا ہے۔ اینٹی ڈپریسنٹ سے آپ کا ذہن لمحہ موجود میں تو رہتا ہے لیکن نتیجتاً آپ کسی روبوٹ یا مشین کی طرح بن جاتے ہیں۔

ہاں، کچھ low IQ والے سائکاٹرسٹ یہ بھی بتاتے ہیں کہ نماز پڑھو، درود شریف پڑھو، دعا مانگو۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ بات نماز، درود شریف اور دعاؤں سے بہت دور نکل گئی ہے۔ تھراپی تب ہی تو کامیاب ہوتی ہے جب سامنے والے کا IQ آپ سے زیادہ ہو اور وہ جذباتی طور پر آپ سے ذہین ہو۔

کلینیکل ڈپریشن سب سے بڑا ظلم یہ کرتی ہے کہ آپ سے آپ کا موجودہ شناخت چھین لیتی ہے اور چوبیس پچیس سال کی عمر میں خود کی شناخت کو دوبارہ دریافت کرنا ڈون کو پکڑنے کی طرح ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہوتا ہے۔

Check Also

Jazeera e Kharg Khaleej K Sab Se Khatarnak Muqam Hai

By Wusat Ullah Khan