Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ibn e Fazil
  4. Baat Isi Taraf Barh Rahi Hai

Baat Isi Taraf Barh Rahi Hai

بات اسی طرف بڑھ رہی ہے

غاروں کی دیواروں پر کوئلے سے نقش بنانے سے لیکر ٹک ٹاک پر ویڈیو ڈالنے تک کا انسانی تخیل و عمل کو محفوظ کرنے کا سارا عمل بنیادی طور پر ڈیٹا سٹوریج ہی ہے۔ درختوں کی چھال، جانوروں کی کھال اور ہڈیوں پر تحریریں لکھ کر محفوظ کرنے سے شروع ہو کر پنچ کارڈ، ٹیپ ریکارڈ سے ہوتا ہوا فلاپی ڈرائیور سے بڑھتا سی ڈی، ڈی وی ڈی، بلیورے ڈسک، ہارڈ ڈرائیور اور اب ایس ڈی کارڈ تک پہنچنے والا ڈیٹا سٹوریج کا سفر ابھی جاری ہے۔

جیسے جیسے ہم اچھے سے اچھے کیمروں کے ساتھ سماجی ابلاغ کے اس دور میں آگے بڑھ رہے ہیں دنیا میں سب زیادہ تیزی سے ڈیٹا سٹوریج کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ یوٹیوب پر ساڑھے نو ارب منٹ کی اسی کروڑ سے زائد ویڈیوز موجود ہیں، ٹک ٹاک پر روزانہ ایک ارب ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں۔ اسی طرح دیگر ذرائع ابلاغ پر روانہ کی بنیاد پر کروڑوں ویڈیوز اپلوڈ ہو رہی ہیں جن کو سٹوریج کے لیے ڈیٹا سٹوریج چاہیے ہوتے ہیں۔ فی الحقیقت اپنی ابتدا سے سال 2021 تک جتنی سٹوریج موجود تھی صرف سال 2022 میں اس کی نصف مزید لگانا پڑی۔ اور سال 2025 تک یہ تین گنا ہو جائے گی۔

اس تناظر میں سائنس دان ڈیٹا سٹوریج کے نت نئے سستے اور آسان طریقے تلاش کرنے میں لگے ہیں۔ دوسری طرف ہم یہ جانتے ہیں تمام جانداروں میں موجود ڈی این اے بنیادی طور پر ڈیٹا سٹوریج ہی ہوتا ہے۔ انسانوں کے جینوم میں سوا تین ارب الفاظ کا ڈیٹا ہوتا ہے جو انسانی جسم کے ہر خلیے میں موجود ہوتا ہے۔ گویا ڈی این اے کا صرف ایک گرام دو سو پندرہ پیٹا بائٹ ڈیٹا سٹور کر سکتا ہے۔ گویا اس وقت پوری دنیا میں موجود ڈیٹا پیپسی ڈیڑھ لٹر کی تین سو دس بوتلوں میں سما سکتا ہے۔

اس کے علاوہ موجودہ سلیکون سے ڈیٹا سٹوریج کی اوسطََ عمر پانچ سال ہوتی ہے۔ جبکہ ڈی این اے پر ڈیٹا دس لاکھ سال یا اس سے زائد وقت کے لیے سٹور کیا جا سکتا ہے۔ اب سب فوائد کو دیکھتے ہوئے سائنسدان کچھ عرصہ سے ڈی این اے پر ڈیٹا سٹور کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ڈی این اے پر بنیادی چار حروف پروٹینز adenine، ایڈی نین، thymine تھایامین، guanine گوانین اور cytosine سائٹوسین کے مالیکیول سے بنا ہوتا ہے۔ جس طرح بائنری نظام میں سارا ڈیٹا 1010، کی صورت جمع کیا جاتا ہے اسی طرح ڈی این اے پر ڈیٹا a، t، g اور c کی ترتیب سے جمع کیا جا سکتا ہے۔

ڈیٹا سٹوریج ڈی این اے بنانے کے لیے پہلے ڈیٹا کی کوڈنگ ان چار پروٹین حروف تہجی کے تناسب سے کی جاتی ہے۔ اس بعد اس کوڈنگ کی ترتیب سے ان پروٹینز کے مالیکیولز کو جوڑ کر ڈی این بنا لیا جاتا ہے۔ یہ کام انتہائی باریک بینی کا ہے۔ ڈی این اے پرنٹر جس کی مالیت ابھی کروڑوں میں ہے کے ذریعہ سے مطلوبہ ڈیٹا کوڈنگ کا ڈی این اے بنا کر ٹسٹ ٹیوب میں جمع کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب اس ڈی این اے سے ڈیٹا لینا مطلوب ہوتا ہے تو اس کو ڈی کوڈ کر کے ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے۔

چونکہ یہ ٹیکنالوجی ابھی بالکل ابتدائی مراحل میں ہے سو اس کے متعلق محدود جانکاری دستیاب ہے۔ نیز ابھی یہ عمل بہت مہنگا ہے۔ لیکن امید کی جا رہی کہ آنے والے چند سالوں میں اس کا استعمال عام ہو جائے گا۔

یہ سب کچھ پڑھتے ہوئے آپ کے ذہن میں بھی آ رہا ہوگا کہ جب ربؔ رحیم کہتے ہیں۔

سورة يٰس۔ آیت 65

"آج ہم ان کے منہ بند کیے دیتے ہیں، ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں"۔

تو یقیناً ایسا ہی کوئی ایک آدھ گرام ڈی این اے ڈیٹا ہمارے ہاتھوں اور پاؤں میں جمع ہو رہا ہوگا۔ جو وہاں ڈی کوڈ کرتے ہی ہماری ساری زندگی کی ویڈیو چلا دے گا۔

اللہ کریم ہماری لغزشوں کو اپنی رحمتوں کے پردے سے ڈھانپ رکھنا۔

Check Also

Brahmanism

By Zubair Hafeez